سوشل میڈیا کے نام پر بے حیائی کا فروغ: نوجوان نسل کی فکری تباہی اور ہماری سماجی ذمہ داری


از قلم: ٹرینر نوید احمد قریشی، ایم۔اے، بی۔ایڈ، ناندیڑ
آج کا دور سائنس، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی کا دور ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں علم، معلومات اور صلاحیتوں کے اظہار کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں اس کے غلط استعمال نے معاشرے کے سامنے کئی سنگین سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ بالخصوص یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بعض مقامی انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کی جانب سے ایسی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں جن میں غیر سنجیدہ حرکات، غیر اخلاقی گفتگو، فحش اشاروں اور دوسروں کی تذلیل کو تفریح کا نام دیا جاتا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان ویڈیوز کو دیکھ کر بعض کم عمر بچے اور نوجوان بھی اسی طرزِ عمل کو اپنانے لگتے ہیں۔
شہرت کی دوڑ اور اخلاقی زوال
آج سوشل میڈیا پر ویوز، لائکس، کمنٹس اور فالوورز کی تعداد کو کامیابی کا معیار سمجھا جانے لگا ہے۔ بعض لوگ چند لمحوں کی شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں جو معاشرتی اقدار، اخلاقی حدود اور نوجوانوں کی ذہنی تربیت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ مسئلہ صرف ویڈیو بنانے والے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ جب ہزاروں افراد ایسی ویڈیوز دیکھتے، شیئر کرتے اور ان کی نقل کرتے ہیں تو یہ رویہ رفتہ رفتہ معاشرے میں معمول بنتا چلا جاتا ہے۔
ناندیڑ سمیت مہاراشٹر کے مختلف شہروں اور قصبوں میں بھی سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی ضرورت پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ تاہم یہ بات بھی ضروری ہے کہ تمام انفلوئنسرز یا یوٹیوبرز کو ایک ہی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ بہت سے نوجوان تعلیم، سائنس، سماجی خدمت، فن اور معلوماتی مواد کے ذریعے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تنقید کا اصل ہدف وہ مواد اور رویے ہونے چاہئیں جو اخلاقی بگاڑ، تضحیک یا نقصان دہ رجحانات کو فروغ دیتے ہیں۔
کم عمر بچوں اور نوجوانوں پر اثرات
بچپن اور نوجوانی شخصیت کی تشکیل کے اہم مراحل ہیں۔ اس عمر میں بچے اپنے اردگرد کے لوگوں، مقبول شخصیات اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والے کرداروں سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب کسی غیر سنجیدہ یا نامناسب حرکت کرنے والے شخص کو غیر معمولی شہرت ملتی ہے تو بعض بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کامیابی کا راستہ محنت، تعلیم اور صلاحیت کے بجائے صرف وائرل ہونا ہے۔
اس سوچ کے نتیجے میں تعلیم سے عدم دلچسپی، وقت کا ضیاع، غیر ضروری مقابلہ بازی، نامناسب زبان کا استعمال اور دوسروں کی نقل کرنے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض نوجوان اپنی شناخت بنانے کے لیے خطرناک اسٹنٹ، مذاق کے نام پر ہراسانی یا دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت تک کرنے لگتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے ہے: کیا ہم اپنی نئی نسل کو ایسا معاشرہ دینا چاہتے ہیں جہاں کردار سے زیادہ شہرت، علم سے زیادہ نمائش اور محنت سے زیادہ وائرل ہونے کو اہمیت دی جائے؟
اس مسئلے کا حل صرف پابندی نہیں، تربیت بھی ہے
اس مسئلے کا حل محض سوشل میڈیا پر تنقید کرنے یا نوجوانوں کے موبائل فون چھین لینے میں نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر، اسکول، سماج، انتظامیہ اور خود ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
1۔ والدین کا کردار: والدین بچوں کے موبائل استعمال کے اوقات اور دیکھی جانے والی ویڈیوز پر مناسب توجہ دیں۔ بچوں سے دوستانہ انداز میں گفتگو کریں، انہیں اچھے اور برے مواد میں فرق سمجھائیں اور خود بھی سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی مثال قائم کریں۔
2۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل آگاہی: ناندیڑ اور مہاراشٹر کے تعلیمی اداروں میں وقتاً فوقتاً ڈیجیٹل اخلاقیات، سائبر تحفظ، آن لائن ہراسانی اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر لیکچرز، مباحثے اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں۔ طلبہ کو بتایا جائے کہ ہر وائرل ویڈیو قابلِ تقلید نہیں ہوتی۔
3۔ نوجوانوں کو مثبت متبادل: نوجوانوں کی توانائی کو کھیل، مطالعہ، سائنس، فنون، تقریر، تحریر اور سماجی خدمت کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسے مقامی نوجوانوں اور مواد تخلیق کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو معاشرے کو علم، شعور اور مثبت پیغام فراہم کرتے ہیں۔
4۔ سوشل میڈیا صارفین کی ذمہ داری: کسی نامناسب ویڈیو کو محض تفریح کے لیے بار بار دیکھنا، شیئر کرنا یا اس پر تبصرے کرکے اسے مزید مشہور کرنا مسئلے کو بڑھا سکتا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ نقصان دہ مواد کی تشہیر سے گریز کریں، ضرورت پڑنے پر متعلقہ پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں اور قابلِ اعتماد معلومات کو ترجیح دیں۔
5۔ قانون اور انتظامیہ کا مؤثر کردار: اگر کسی ویڈیو میں بچوں کا استحصال، دھمکی، ہراسانی، نجی تصاویر کی غیر قانونی اشاعت یا کوئی دوسری قابلِ سزا حرکت ہو تو متاثرہ شخص یا سرپرست مناسب قانونی مدد حاصل کرے۔ پولیس، سائبر کرائم یونٹس اور متعلقہ اداروں کو شکایات پر قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔ کارروائی کا مقصد کسی کی جائز آزادیِ اظہار کو دبانا نہیں، بلکہ حقوق، تحفظ اور قانون کی پاسداری یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
6۔ مقامی انفلوئنسرز کی سماجی ذمہ داری: ناندیڑ اور مہاراشٹر کے مقامی مواد تخلیق کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مقبولیت کو تعلیمی، سماجی اور اصلاحی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ نوجوانوں کو یہ پیغام دیں کہ عزت، کردار اور حقیقی کامیابی وقتی شہرت سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔
ہماری خاموشی بھی ایک سوال ہے
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر کسی کی مقبولیت اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ شخص نوجوان نسل کے لیے بہترین نمونہ بھی ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ کسی شخصیت کو اپنا آئیڈیل بنانے سے پہلے اس کے کردار، صلاحیت، محنت اور معاشرے کے لیے اس کی خدمات کو دیکھیں۔
اساتذہ، والدین، سماجی کارکنوں، صحافیوں اور مذہبی و تعلیمی رہنماؤں کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں نوجوان سوال کرنا سیکھیں، صحیح اور غلط میں فرق کرسکیں اور شہرت کے بجائے مقصدِ زندگی کو اہمیت دیں۔ میڈیا کو بھی سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ دارانہ صحافت اور مثبت مثالوں کو جگہ دینی چاہیے۔
نتیجہ: نئی نسل کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے
سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا؛ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہی پلیٹ فارم علم، تربیت اور سماجی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے تو غلط استعمال کی صورت میں گمراہ کن رجحانات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ناندیڑ سے لے کر پورے مہاراشٹر تک ایک ایسی بیداری مہم چلائی جائے جس میں والدین، اساتذہ، طلبہ، مقامی انفلوئنسرز اور انتظامیہ سب شریک ہوں۔ بچوں کو صرف موبائل سے دور رکھنا کافی نہیں، بلکہ انہیں درست سوچ، مضبوط کردار اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویے کی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔
یاد رکھیے! معاشرے کی ترقی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ ہمارے نوجوان کتنے مشہور ہیں، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ کتنے باشعور، باکردار، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار شہری ہیں۔
اگر ہم نے آج اپنی نئی نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت پر توجہ نہ دی تو کل صرف شکایتیں ہمارے پاس رہ جائیں گی۔ لیکن اگر آج ہم نے صحیح سمت میں قدم اٹھایا تو یہی نوجوان ایک مہذب، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ مہاراشٹر کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
تحریر: ٹرینر نوید احمد قریشی (M.A., B.Ed.)، ناندیڑ، مہاراشٹر




