مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاؤ کے بڑھتے سائے دلی سے گلی تک

شیخ عتیق تعلقہ صدر ویلفیر پارٹی آف انڈیا تعلقہ اردھاپور
دستور ہند کے آرٹیکل 14 میں کہا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں سارے شہری برابر ہیں، ریاست کسی کے ساتھ غیر منصفانہ امتیاز نہیں کر سکتی آرٹیکل 15 میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ
مذہب ،نسل ، ذات ، جنس یا مقام
کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا لیکن موجودہ بی جے پی حکومت نے مسلمانوں سے بھید بھاؤ اور امتیازی سلوک کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ہمارے اس سیکولر ملک میں جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 14 سے 15 فیصد تک ہے حیرت انگیز طور پر مرکزی حکومت کے 72 وزیروں میں ایک بھی مسلم وزیر نہیں ہے۔ ایک بہت بڑی آبادی کو حاشیے پر لا کر ان کی نمائندگی کو صفر کر دیا گیا ہے ۔ اتر پردیش میں بھی اس بھید بھاؤ والی پارٹی نے 54 وزراء میں ایک بھی مسلم نمائندے کو اپنی حکومت میں جگہ نہیں دی ہے آسام اور بنگال جہاں ایک بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے یہاں بھی ان کی نمائندگی صفر ہے۔

اور یہ "سب کا ساتھ , سب کا وکاس” کے کھوکھلے دعوے کرتے ہیں۔ 2020 کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ملک کی 10 ریاستوں میں جہاں مسلم آبادی کا 80 فیصد حصہ آباد ہے کل 281 وزیر ہیں جن میں صرف 16 مسلم وزیر ہیں ،جبکہ بی جے پی حکمرانی والی 11 ریاستوں میں مسلم نمائندگی صفر ہے۔
اگر ہم مسلم ممبران پارلیمنٹ( لوک سبھا) کی بات کریں تو 543 سیٹوں میں محض 24 مسلم ایم پی ہیں جو کل ایم پیز کا صرف 4.4فیصد ہے جبکہ پورے ملک کی ریاستوں میں مسلم ایم ایل اے کی تعداد محض 8 فیصد ہے, جو مسلم آبادی کے تناسب سے نصف کے برابر ہے ۔
یہ تو ہوئی قومی اور ریاستی سطح پر مسلم نمائندگی کی بات لیکن بدقسمتی سے چھوٹے چھوٹے قصبے اور شہروں میں جہاں مسلم آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے وہاں بھی اب بھید بھاؤ والا ٹرینڈ زور پکڑ رہا ہے۔ اردھاپور ایک مسلم اکثریتی شہر ہے جہاں سب سے بڑی آبادی مسلم ہے اور 17 میں سے آٹھ نگر سیوک مسلم ہیں اور ایک شیڈول کاسٹ کا نگر سیوک، مسلم اکثریتی وارڈ سے منتخب ہو کر آتا ہے اس طرح نو مسلم نگر سیوک ہونے کے باوجود شہر کی اب تک کی روایات کو پامال کرتے ہوئے ڈھائی سال مسلم اور ڈھائی سال غیر مسلم صدر بلدیہ کی جگہ پورے پانچ سال تک یعنی
دونوں ٹرم غیر مسلم صدر بلدیہ منتخب کیا گیا اور سونے پر سہاگہ دو نامزد نگر سیوک چنے گئے اور مسلم اکثریت کے باوجود دونوں نگرسیوک غیر مسلم لیے گئے یہ سب اشوک راؤ کی مہربانی سے صاحب کی جی حضوری کرنے والے بے حس اور بے ضمیر مسلم نمائندوں کی طرف سے کیا گیا ۔مسلم اکثریتی شہر میں اس طرح کے سیاسی بھید بھاؤ کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور چونکہ اب یہ مسلم نمائندے جو فرقہ پرست پارٹی کے انتخابی نشان پر الیکشن نہیں لڑ سکتے یہ اب "شہر وکاس اگھاڑی” کے نام سے مسلمانوں کو دھوکہ دے کر ایک ایسی فرقہ پرست

پارٹی کے ہاتھ مضبوط کرنے جا رہے ہیں۔ جس کی مسلم دشمن روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور کھل کر جو مسلم مخالفت کا کریڈٹ لیتی ہے ۔ مرکزی، ریاستی سطح کے بعد اب اس پارٹی کا ہدف وہ مسلم اکثرتی قصبے اور شہر ہے جہاں یہ مسلم نمائندوں کو کم سے کم کرنا چاہتے ہیں اور چور دروازے کے سے مسلمانوں کو بے وقوف بنا کر بی جی پی کا ساتھ دینا چاہتے ہیں اس شہر وکاس اگھاڑی سے مسلمانوں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب نگر پنچایت کے الیکشن کو محض چھ مہینے باقی رہے گئے ہیں۔ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے اردھاپور میں یہ روایت
دیکھی ہے کہ چاہے سرپنچ ہو یا صدر بلدیہ ایک ٹرم مسلم کو دیا جاتا ہے اور دوسرا ٹرم غیر مسلم کو ،حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم اکثریتی شہر ہونے کی بنیاد پر جہاں ضلع کو دیگر مقامات پر مسلمانوں کو صدر بلدیہ یا سرپنچ بننے کا موقع نہیں ملتا ہے اردھاپور جیسے شہروں میں صرف مسلمانوں کو یہ سیٹ چھوڑ کر ضلع میں ان کی نمائندگی کا تناسب قائم کیا جا سکتا لیکن ایک ایک ٹرم دونوں کو دیا جاتااور اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ فرقہ پرست ذہنیت کی پارٹی کی وجہ سے صدر بلدیہ کے دونوں ٹرم غیر مسلم کو دے دیے گئے جبکہ دونوں نامزد ممبران کی جگہ بھی
غیر مسلم کو دے دی گئی جبکہ کانگرس سے بغاوت کر کے بی جے پی کا ساتھ دینے والے مسلم نگر سیوک بے حس تماشہ دیکھتے رہے۔ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہے پہلی وجہ ڈر اور خوف اور دوسری لالچ، تیسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ نااہل اپنے قوم کی نمائندگی صحیح ڈھنگ سے کرنے کے قابل نہ ہو ایسے تینوں صورتوں میں آنے والے بلدیاتی الیکشن میں ان نام نہاد مسلم نگرسیوکوں کو ان کا صحیح مقام دکھانے کی ضرورت ہے جو براہ راست نہ سہی بالراست چھپ چھپ کر فرقہ پرست پارٹی کے آلہ کار اور کھلونہ بنے ہوئے ہیں اب اردھاپور شہر کے غیرت مند مسلمانوں کی سیاسی سوج بوجھ اور بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ فرقہ پرست پارٹی کے ان چھپے ایجنٹ کے جھانسے میں آتے ہیں یا قوم کے حقیقی نمائندوں کو نگر پنچایت میں منتخب کرتے ہیں




