مضامین

مغربی ایشیا کی بدلتی سیاست اور ہندوتوا۔صیہونی اتحاد کا ابھرتا منظرنامہ

تحریر: عبید باحسین

گزشتہ چند برسوں میں مغربی ایشیا کی سیاست میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ ایک وقت تھا جب عرب دنیا اور اسرائیل کے درمیان کھلی دشمنی پائی جاتی تھی، لیکن اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل کے تعلقات نے پورے خطے کی سیاست کو نئی شکل دی ہے۔ سن 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے ”-Abraham Accordابراہیم معاہدے“ کے بعد یو اے ای نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، تجارتی، دفاعی اور تکنیکی تعلقات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ابوظہبی اور تل ابیب میں سفارت خانے قائم ہوئے، براہِ راست پروازیں شروع ہوئیں اور اربوں ڈالر کی تجارت ہونے لگی۔ دفاع، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، پانی کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں دونوں ممالک قریبی شراکت دار بن گئے۔

تاہم اس تبدیلی کے باوجود یو اے ای نے عرب لیگ سے علیحدگی اختیار نہیں کی۔ وہ آج بھی عرب لیگ کا مکمل رکن ہے اور فلسطینی مسئلے پر باضابطہ طور پر دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب عرب دنیا میں اسرائیل کے تعلق سے یکساں موقف باقی نہیں رہا۔ مصر اور اردن پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر چکے تھے، جبکہ بعد میں بحرین اور مراکش نے بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کیے۔ایران کے ساتھ کشیدگی نے اس پورے خطے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یو اے ای ایک طرف ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ جغرافیائی اور معاشی طور پر دونوں ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، دوسری طرف وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی تعاون کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال میں یو اے ای نے بظاہر ”تحفظ، استحکام اور سفارتکاری“ کی پالیسی اختیار کی، لیکن عالمی میڈیا کی مختلف رپورٹس کے مطابق وہ دفاعی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعاون کرتا رہا۔

اسی دوران ہندوستان کی خارجہ پالیسی بھی بحث کا موضوع بنی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا ایران جنگ سے پہلے اسرائیل کا دورہ اور اس کے بعد یو اے ای کا دورہ کئی سیاسی مباحث کا سبب بنا۔ بعض حلقوں نے اسے ہندوستان کے اسرائیل نواز جھکاؤ کے طور پر دیکھا، جبکہ حکومت کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ہندوستان صرف اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان آج ”ملٹی الائنمنٹ“ کی پالیسی پر چل رہا ہے۔ ایک طرف اسرائیل کے ساتھ اس کے دفاعی اور تکنیکی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، دوسری طرف خلیجی ممالک سے توانائی اور سرمایہ کاری کے رشتے بھی اہم ہیں، جبکہ ایران تاریخی طور پر ہندوستان کا اہم شراکت دار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے سے گریز کرتا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ہندوستان نے نہ تو اسرائیل اور امریکہ کی مذمت کی اور نہ ہی کوئی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ہندوستانی حکومت نے صرف ”تحمل، مذاکرات اور علاقائی استحکام“ کی بات کی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس خاموشی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ حکومت کے حامیوں نے اسے ایک محتاط سفارتی حکمت عملی قرار دیا۔اسی تناظر میں گزشتہ کچھ برسوں سے ”ہندوتوا۔صیہونی اتحاد“ کی بحث بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ کئی سیاسی مبصرین اور دانشوروں کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں ہندوتوا نظریہ رکھنے والی قوتیں اور اسرائیل کی سخت گیر صیہونی سیاست کے درمیان نظریاتی اور سیاسی قربت بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق دونوں سیاسی دھارے قوم پرستی، سکیورٹی اسٹیٹ، مذہبی شناخت پر مبنی سیاست اور ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ جیسے بیانیوں کو ایک دوسرے سے قریب لاتے ہیں۔

ہندوستان میں دائیں بازو کے بعض حلقے اسرائیل کو ایک مضبوط قوم پرست ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس کی فوجی طاقت، نگرانی کے نظام اور داخلی سلامتی کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہیں۔ اسی طرح اسرائیل بھی ہندوستان کو ایک بڑے اسٹریٹجک اور دفاعی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ دفاعی سودے، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، انٹیلی جنس تعاون اور نگرانی کے نظام اس تعلق کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قربت جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا دونوں میں مذہبی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی مسئلہ، کشمیر کی صورتحال، اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی قوم پرستی جیسے موضوعات نے اس بحث کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے بعض سیکولر، بائیں بازو اور مسلم حلقے ”ہندوتوا۔صیہونی اتحاد“ کو ایک سیاسی و نظریاتی اتحاد کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ حکومت کے حامی اس اصطلاح کو محض سیاسی پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں۔

مغربی ایشیا کی یہ نئی سیاست اس بات کی علامت ہے کہ اب نظریاتی اتحادوں کی جگہ معاشی مفادات، دفاعی شراکت داری اور جغرافیائی حکمت عملی نے لے لی ہے۔ عرب دنیا، اسرائیل، ایران اور ہندوستان سب اپنے اپنے مفادات کے مطابق نئے اتحاد بنا رہے ہیں۔ ایسے میں فلسطین کا مسئلہ، خطے کا امن اور عالمی طاقتوں کا کردار آنے والے برسوں میں مزید اہمیت اختیار کرے گا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!