مضامین

ہمت کا سفر

از قلم:- صباء فردوس (ہنگولی)

یہ کوئی معمولی منظر نہیں، یہ ایک لمحہ ہے جو حوصلے کی مکمل داستاں سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا فرد، جو بظاہر جسمانی طور پر معذور ہے، مگر اس کے ارادے، فولاد سے بھی زیادہ مضبوط، اس کی نگاہیں، منزل کی ضیاء پر مرکوز، اور اس کی پشت پر پسینہ، عزم کی روشنائی بن کر بہہ رہا ہے۔
وہ نہ ٹھہرا، نہ گِرا، نہ شکوہ کیا۔ پسینے سے شرابور پیشانی اور کپکپاتے ہاتھ، صرف ایک بات کہہ رہے تھے: "میرے خواب میری ٹانگوں کے محتاج نہیں۔”

راستہ کسی کے لیے ہموار ہوتا ہے۔۔کسی کے لیے نوکیلا۔ لیکن حوصلے کا تعلق نہ سیڑھیوں سے ہوتا ہے، نہ جسم سے — وہ تو روح میں چھپی وہ چنگاری ہے، جو اندھیرے میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے۔
راستے مشکل ہو سکتے ہیں، مگر ارادے اگر بلند ہوں تو معذوری بھی مات کھا جاتی ہے۔
یہ پتھریلی، طویل اور کٹھن سیڑھیاں گویا زمانے کی آزمائشیں ہیں، جو ہر اُس شخص کے لیے ہیں جو زندگی کو آسانیوں میں نہیں، ہمت کے پیمانوں میں تولتا ہے۔ معاشرہ شاید اسے مجبور کہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ کردار ہے جو قافلۂ حیات کے ہر کمزور دل کو پیغامِ جرات دیتا ہے۔

یہ تصویر خاموش نہیں…
یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ:
معذور وہ نہیں جو ہاتھ پاؤں سے محروم ہو ۔۔بلکہ معذور تو وہ ہے جو حوصلے سے خالی ہو ۔
ہر قدم، ہر زینہ، اس کی جدوجہد کا گواہ ہے۔
آج اگر کوئی تسلیم کرے کہ منزل صرف طاقتوروں کی ہوتی ہے۔۔تو یہ تصویر، اُس گمان کا جنازہ اٹھائے کھڑی ہے۔
کیونکہ…
منزل اُنہی کو ملتی ہے، جن کے خوابوں میں جان ہوتی ہے،
پَروں سے کچھ نہیں ہوتا، حوصلوں سے اُڑان ہوتی ہے-

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!