مضامین

صالح ہمسفر: حقیقی معیارِ ازدواج

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                    09422724040
            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

انسانی معاشرہ اپنی بنیاد میں رشتوں کی مضبوطی اور ان کے تقدّس پر قائم ہوتا ہے، اور ان رشتوں میں سب سے اہم اور مؤثر رشتہ ازدواج کا ہے۔ اسلام نے اس تعلق کو محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مقدّس امانت اور عبادت کا درجہ دیا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف دو افراد ایک دوسرے کے شریکِ حیات بنتے ہیں بلکہ دو خاندان اور آنے والی نسلیں بھی ایک صالح بنیاد پر استوار ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنّت میں نکاح کو سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، اور اس کے لیے ظاہری کشش سے بڑھ کر باطنی صفات، اخلاقی اقدار اور دینی شعور کو معیار بنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔

قرآنِ کریم ازدواجی رشتے کی حقیقت اور اس کے مقاصد کو نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں (سورۃ الروم: 21)۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نکاح محض ایک سماجی بندھن نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے، جس کا بنیادی مقصد انسان کو سکونِ قلب عطاء کرنا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والی محبت (مودّت) اور رحمت دراصل اسی سکون کی ضامن ہوتی ہیں، جو زندگی کے نشیب و فراز میں انہیں ایک دوسرے کا سہارا بناتی ہیں۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد ظاہری کشش یا وقتی جذبات پر نہیں بلکہ باہمی سکون، خلوصِ محبت اور رحمدلی پر ہونی چاہیے، کیونکہ یہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی رشتے کو پائیدار اور بابرکت بناتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات نکاح کے معاملے میں انسان کی رہنمائی نہایت واضح اور متوازن انداز میں کرتی ہیں۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے… پس تم دین والی کو اختیار کرو”۔ یہ حدیث اس امر کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے حسن، مال اور خاندانی حیثیت کو اہمیت دی جاتی ہے، لیکن اسلام ان سب کے مقابلے میں دین اور کردار کو بنیادی ترجیح قرار دیتا ہے۔ اس میں دراصل ایک دیرپا اور پُرسکون ازدواجی زندگی کا راز پوشیدہ ہے، کیونکہ ظاہری خوبصورتی وقت کے ساتھ ماند پڑ سکتی ہے اور مال و دولت بھی عارضی ہے، مگر دین داری اور اچھا کردار وہ صفات ہیں جو رشتے کو استحکام اور برکت عطاء کرتی ہیں۔ یہ تعلیم ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ شریکِ حیات کے انتخاب میں وقتی کشش کے بجائے سیرت و کردار کو معیار بنایا جائے، کیونکہ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک کامیاب، باوقار اور خوشگوار ازدواجی زندگی استوار ہوتی ہے۔

موجودہ دور میں جہاں مادّی ترجیحات، ظاہری نمود و نمائش اور وقتی دلکشی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے، وہاں ازدواجی رشتوں کی اصل روح اکثر پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً تعلقات کی پائیداری متاثر ہوتی ہے اور وہ سکون و اطمینان، جو ایک صالح ازدواجی زندگی کا حاصل ہونا چاہیے، ناپید ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اسلامی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ایک کامیاب اور بابرکت رشتہ صرف اس وقت قائم ہو سکتا ہے جب اس کی بنیاد ایمان، کردار، حیاء، ذمّہ داری اور باہمی احترام پر رکھی جائے۔

سوشل میڈیا کی مصنوعی زندگی اور اس پر پیش کیے جانے والے غیر حقیقی معیار نے انسان کے ذہن میں تعلقات کے بارے میں ایک خیالی دنیا بسا دی ہے، جہاں ہر رشتہ بے عیب، ہر لمحہ خوشگوار اور ہر چہرہ مطمئن دکھائی دیتا ہے۔ اس ظاہری چمک دمک کے زیرِ اثر انسان حقیقت اور دکھاوے کے درمیان فرق کھو بیٹھتا ہے، اور اسی فریب میں آ کر وہ رشتوں کے انتخاب میں جلد بازی اور وقتی جذباتی فیصلوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ یوں وہ گہرے فہم، تجربے اور سنجیدہ غور و فکر کے بجائے محض وقتی تاثیر اور جذباتی کشش کو بنیاد بنا لیتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اور اہم غلطی یہ ہے کہ مادّی کامیابی کو ازدواجی کامیابی کا معیار سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دولت اور آسائشیں وقتی سہولت تو فراہم کر سکتی ہیں، مگر ایک پائیدار اور پُرسکون رشتہ صرف خلوص، کردار، باہمی احترام اور روحانی ہم آہنگی ہی سے قائم ہوتا ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے مرد و عورت ایک دوسرے کے لیے لباس کی مانند ہیں؛ ایک دوسرے کا پردہ، زینت اور تحفّظ۔ اس تعلق کی خوبصورتی اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب دونوں فریق اپنے اپنے کردار، حدود اور ذمّہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے لیے آسانی، سکون اور رحمت کا سبب بنیں۔ ایک صالح عورت جہاں اپنے اندر حیاء، وفاداری اور فکری پختگی پیدا کرتی ہے، وہیں ایک صالح مرد غیرت، عدل، ذمّہ داری اور حسنِ سلوک کا پیکر بنتا ہے۔

انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض ایک مثالی ہمسفر کی تلاش میں نہ رہے، بلکہ خود کو بھی اس معیار کے قابل بنانے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے کردار کی تعمیر پر توجہ دے اور اپنے اندر سچائی اور امانت داری کو راسخ کرے، تاکہ اس کی شخصیت اعتماد کا آئینہ بن سکے۔ اسی طرح برداشت اور درگزر کی عادت اپنائے، کیونکہ مضبوط رشتے صرف محبت سے نہیں بلکہ صبر اور وسعتِ ظرف سے قائم رہتے ہیں۔ مزید برآں، دین سے وابستگی انسان کو نہ صرف صحیح اور غلط میں تمیز سکھاتی ہے بلکہ اسے زندگی کے ہر موڑ پر اعتدال اور توازن عطاء کرتی ہے، جب کہ گفتگو میں شائستگی اس کے باطن کی خوبصورتی کو ظاہر کرتی ہے اور دوسروں کے دلوں میں اس کے لیے احترام پیدا کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جیسا خود ہوتا ہے، ویسا ہی ہمسفر اس کی زندگی میں آتا ہے؛ اس لیے ایک بہترین شریکِ حیات کی خواہش سے پہلے خود کو بہترین انسان بنانا ناگزیر ہے۔

معاشرتی اعتبار سے بھی ایک متوازن اور باوقار ازدواجی رشتہ پورے سماج کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایک اچھا گھرانہ دراصل ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور اس بنیاد کی مضبوطی کا دارومدار اسی بات پر ہے کہ شریکِ حیات کے انتخاب میں کن اصولوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔ اگر یہ انتخاب محض ظاہری معیاروں پر ہو تو اس کے اثرات وقتی ہوتے ہیں، لیکن اگر یہ فیصلہ کردار، دین اور اخلاق کی بنیاد پر ہو تو اس کے ثمرات نسلوں تک پھیلتے ہیں۔ اسی پس منظر میں مرد و عورت کے حقیقی اوصاف، ان کے انتخاب کے معیارات اور ایک مثالی ازدواجی رشتے کی تشکیل کے اصولوں کو اسلامی اور معاشرتی تناظر میں واضح کرنے کی ایک کوشش ہے۔

اصل عورت وہ ہے جو محبت کو محض دل کی کیفیت نہیں بلکہ امانت اور ذمّہ داری سمجھتی ہے۔ وہ مرد کے انتخاب میں ظاہری چمک دمک یا وقتی آسائشوں کو معیار نہیں بناتی، بلکہ اس کے کردار، غیرت اور احساسِ ذمّہ داری کو پرکھتی ہے۔ اس کی نگاہ ایک ایسے ساتھی کی متلاشی ہوتی ہے جو صرف محبت کا دعویدار نہ ہو بلکہ اس کی عزّت، وقار اور تحفّظ کا حقیقی پاسبان بھی ہو۔ وہ جانتی ہے کہ دولت کا زوال ممکن ہے، مگر کردار کی مضبوطی انسان کو ہر حال میں قائم رکھتی ہے۔

اسی طرح اصل مرد وہ ہے جو عورت کو محض حسنِ صورت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ اس کی سیرت، حیاء، وقار اور باطنی پاکیزگی کو اپنی ترجیح بناتا ہے۔ اس کی نظر میں خوبصورتی ایک عارضی دلکشی ہے، جب کہ کردار ایک دائمی حقیقت۔ وہ جب کسی عورت کا انتخاب کرتا ہے تو اس میں اپنی آنے والی نسلوں کا عکس دیکھتا ہے۔ اپنی بیٹیوں کی تربیت، اپنے گھر کے ماحول اور اپنی زندگی کے سکون کا تصور اسی بنیاد پر قائم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی رفیقۂ حیات کے حصول کے لیے اپنی انا، اپنی آسائش اور اپنی خواہشات تک کو قربان کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک صالح ہمسفر پوری زندگی کی سمت متعین کر دیتا ہے۔

مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایسے باکردار اور باوقار افراد بآسانی نہیں ملتے۔ یہ وہ نایاب گوہر ہیں جو محض خواہش سے نہیں بلکہ جستجو، صبر اور خود احتسابی کے عمل سے حاصل ہوتے ہیں۔ ایک اعلیٰ ہمسفر کی تلاش دراصل اپنے آپ کو بھی اسی معیار تک پہنچانے کا تقاضا کرتی ہے۔ جب تک انسان خود اپنے اندر صداقت، اخلاص، صبر اور کردار کی پختگی پیدا نہیں کرتا، وہ ایسے رشتوں کا مستحق نہیں بن پاتا۔

ایک کامیاب اور پائیدار ازدواجی زندگی کی بنیاد چند بنیادی اصولوں پر قائم ہوتی ہے، جن میں سب سے اہم باہمی احترام اور اعتماد ہے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کی عزّت اور احساسات کا خیال رکھتے ہیں اور دل سے ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں تو رشتہ مضبوط اور مستحکم ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ کھلی اور مثبت گفتگو بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور دلوں کے درمیان قربت پیدا ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی کمزوریوں کو قبول کرنا بھی ازدواجی زندگی کا اہم تقاضا ہے، کیونکہ کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوتا، اور حقیقی محبت وہی ہے جو خامیوں کے ساتھ بھی قبول کرے۔ مزید برآں، گھر میں دینی ماحول قائم رکھنا اس رشتے میں برکت اور سکون پیدا کرتا ہے، جو دونوں کو نہ صرف ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ سے بھی جوڑتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر صبر اور معاف کرنے کی عادت وہ خوبصورت وصف ہے جو ہر تلخی کو مٹھاس میں بدل دیتا ہے اور رشتے کو دیرپا استحکام عطاء کرتا ہے۔

اسی لیے محض دلکش گفتگو، خوش کن وعدوں یا وقتی تاثیر سے متاثر ہو کر کسی پر اندھا اعتماد کرنا دانشمندی نہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز جب انسان کے سامنے اپنی اصل حقیقت کھولتے ہیں تو اکثر معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنی ظاہری شخصیت سے کہیں زیادہ بڑے دکھائی دیتے تھے، مگر حقیقت میں وہ اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ الفاظ کا سحر عارضی ہوتا ہے، جب کہ کردار کی صداقت دیرپا ہوتی ہے۔ نیک ہمسفر کا حصول محض کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی خاص عطاء ہے۔ اس کے لیے دعا، استخارہ اور اللّٰہ پر کامل بھروسہ نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ بعض اوقات انسان اپنی نظر میں بہترین کا انتخاب کرتا ہے، مگر اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے اس سے بہتر مقدر فرما دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نیک، مخلص اور ہم خیال شریکِ حیات کا مل جانا اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، کیونکہ ایک صالح رفیق زندگی نہ صرف دنیا کو سنوارتا ہے بلکہ آخرت کی کامیابی کا بھی ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی کو چاہیے کہ وہ ظاہری معیاروں سے بالاتر ہو کر اللّٰہ سے ایک نیک، باکردار اور وفادار ہمسفر کی دعا کرے، اور ساتھ ہی خود کو بھی ایسا انسان بنانے کی کوشش کرے جو کسی کے لیے واقعی نعمت ثابت ہو سکے۔

ایک صالح رشتہ نہ صرف دو دلوں کو جوڑتا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی بنیاد رکھتا ہے جو اخلاق، ایمان اور انسانیت کی روشنی کو آگے بڑھاتی ہے۔ یوں محبت محض ایک جذبہ نہیں رہتی، بلکہ ایک ذمّہ دار، باوقار اور بامقصد رشتہ بن جاتی ہے، جو دو روحوں کو ہی نہیں بلکہ دو خاندانوں اور آنے والی نسلوں کو بھی سنوار دیتی ہے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!