حج میں اخلاص کی شدید تر ضرورت کیوں

شفیع احمد قاسمی خادم التدریس جامعہ ابن عباس احمد آباد
8090063071
خدائی دربار میں کوئی عمل درجۂ قبولیت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اخلاص سے مزین نہ ہو۔ اخلاص کے بغیر ہر عمل بے روح جسم اور بے جان ڈھانچہ ہے۔ بارگاہ ایزدی میں عمل جاندار و شاندار اور آب دار و تابدار تب ہوتا ہے جب وہ اخلاص سے آراستہ ہو، عمل میں جس قدر اخلاص ہوگا اتنا ہی اس میں چمک دمک اور وزن پیدا ہوگا۔ بدون اخلاص کوئی عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ،اس میں انقلابی شان کیوں نہ ہو دربار الہی میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی، ویسے تو ہر عمل میں اخلاص درکار ہے، لیکن حج میں اخلاص کی شدید تر ضرورت ہے ۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ حج کی ایک خاص شان ہے۔ وہ زندگی میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ اور اصول یہ ہے کہ جس عبادت میں تکرار ہو اگر پہلی دفعہ میں اخلاص تک رسائی نہ ہو تو رفتہ رفتہ اس تک پہونچا جاسکتا ہے ۔ نماز دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے اگر پہلے دن حصول اخلاص میں ناکامی ہوئی تو دو ایک ہفتہ میں درجہ اخلاص کو پا لے گا، دو چار مہینے میں وہاں تک رسائی ہو جائے گی۔ روزہ میں اگرچہ اس قدر تکرار تو نہیں ہے تا ہم ہر سال ایک ماہ کے روزے فرض ہیں اگر ایک ادھ سال میں اخلاص حاصل نہ ہوا تو دو چار سال میں سہی اخلاص حاصل ہو جائے گا۔ اسی طرح زکوۃ ہے۔ بلوغت کے بعد اگر کسی کو 50 سال کی زندگی میسر آئی تو اگر پہلی دفعہ درجۂ اخلاص تک نہ پہنچ سکا تو شدہ شدہ مقام اخلاص کو پالیگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاص وجود و عدم کے اعتبار سے تین قسم پر مشتمل ہے۔ اول: کسی فعل کے وقت اس کی نیت خالص اللہ کی خوشنودی ہو جس میں ریا اور شہرت کی بالکل ملاوٹ نہ ہو۔ دوم: اس کی نیت فاسد ہو کسی درجہ میں بھی خدا کی رضا جوئی مطلوب نہ ہو؛ بلکہ ریا اور سمعہ کا قصد ہو۔ سوم : نہ تو خدا کی خوشنودی مقصود ہو اور نہ ریا و شہرت مطلوب ہو۔ مثلا: ایک شخص خالص اللہ کی خوشنودی کے لیے نماز ادا کرے جس میں ریا اور سمعہ کی بالکل آمیزش نہ ہو ، تو یہ اخلاص کا درجہ کمال ہے۔ اور ایک شخص محض دکھاوے کے لیے نماز ادا کرے، تو یہ اخلاص کے منافی ہے۔ اور اس کی ایک تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص معمول کے موافق نماز ادا کرتا ہے اور اس کا مقصود نہ خدا کی رضا جوئی ہے اور نہ اس سے ریا و شہرت مطلوب ہے۔ یہ صورت اخلاص سے کسی قدر قریب ہے۔
اس لیے کہ ضابطہ ہے کہ "جب تک فاعل مختار کسی غرض کا خیال نہ کرے اس وقت تک اس سے کوئی فعل وجود میں نہیں آسکتا”۔ اسی کو حضرت والا تھانوی علیہ الرحمہ اس طرح رقم طراز ہیں: "فعل اختیاری فاعل مختار سے بدون کسی غرض کے تصور کے نہیں ہوسکتا” الخ ۔ خطبات حکیم الامت جلد ١٥ /صفحہ ٢٤٣-اس سے یہ شبہ بھی ازالہ ہو جاتا ہے کہ بعض دفعہ ہم ایک کام کرتے ہیں اور نیت کچھ نہیں ہوتی تو یہ محض عادت کی برکت ہے۔ جب کسی کام کی عادت ہو جاتی ہے تو خود کار مشین کی طرح وہ صادر ہونے لگتا ہے، اس کے لیے اب بار بار ارادہ عزم نہیں کرنا پڑتا یہ مطلب نہیں کہ نماز کی نیت نہیں ہوتی بلکہ مطلب یہ ہے کہ کسی مقصد پر نظر نہیں ہوتی۔
اس سے معلوم ہوا کہ جس کام میں تکرار ہو وہ اخلاص سے کسی درجہ میں قرب رکھتا ہے۔ اور جس میں تکرار نہ ہو اس میں اخلاص اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ مقصد کا تصور اور اس کا قصد نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ریا ہمیشہ ریا نہیں رہا کرتی؛ بلکہ رفتہ رفتہ وہ اخلاص کے رنگ سے رنگین ہو جاتی ہے؛ کیوں کہ ریا کاری کرتے کرتے اس کی عادت سی ہوجاتی ہے اور جب کسی کام کا عادی ہو جائے تو پھر اس میں کچھ خیال نہیں آتا اور جس کام میں خیال نہ آئے وہ اخلاص سے قریب ہو جاتا ہے۔ الخ حوالہ بالا اور یہ معلوم ہے کہ حج فرض ساری زندگی میں صرف ایک مرتبہ ہے اور یہ اجماعی مسئلہ ہے، پس اس میں تکرار نہیں ہے؛ لہذا اس میں اس وقت تک مقام اخلاص تک رسائی نہیں ہوگی جب تک کہ مقصد کا تصور اور اس کا قصد نہ ہو۔
لہذا ہر وہ فرد خوش نصیب ہے جس کو حرمین شریفین کی زیارت کا زریں موقع ملے جہاں کی حاضری ہر کسی کو نصیب نہیں تو اس غیر معمولی نعمت کی شکر گزاری اس طور کرے، کہ پورے آداب و شرائط کے ساتھ وہاں حاضر ہو ۔ اور اس سے بڑی شکر گزاری کیا ہوگی کہ اس سفر سے صرف خدا طلبی اور رضا جوئی مقصود ہو۔ بار بار دل کو ٹٹولے اور بارگاہ ایزدی میں منت سماجت کرے کہ پروردگار اس سفر کو خالص اپنی رضا اور خوشنودی کا سفر بنا دے، اللہ تعالی ہم سبھوں کو اپنے گھر کی حاضری کی بار بار سعادت نصیب فرمائے، اور پورے آداب و شرائط کے ساتھ حاضری مقدر فرمائے۔




