ایجوکشن

لوہارا ضلع آکولہ کی عالمہ جویریہ سرکار کو ”ینگ ایمرجنگ لیڈر” کے اعزاز سے نوازا گیا، ودربھ خطے میں خوشی کی لہر

آل انڈیا مسلم ڈویلپمنٹ کونسل کی جانب سے ''40 انڈر 40 مسلم لیڈرز'' کی فہرست جاری

آکولہ (ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ خصوصی رپورٹ)ایک تاریخی اور یادگار لمحہ جس نے ودربھ خطے کو فخر سے سرشار کر دیا ہے۔ آل انڈیا مسلم ڈویلپمنٹ کونسل (اے آئی ایم ڈی سی) نے اپنے ملک گیر سطح کے نہایت سخت، باریک بین اور شفاف انتخابی عمل کے بعد ’’40 انڈر 40 مسلم لیڈرز‘‘کی حتمی فہرست جاری کی ہے۔ اس معتبر فہرست میں لوہارا تعلقہ بالاپور ضلع آکولہ کی باصلاحیت، باحوصلہ اور علمی میدان میں درخشندہ ستارہ عالمہ محترمہ جویریہ سرکار کا نام بطور ’’ینگ ایمرجنگ لیڈر‘‘ شامل ہونا ایک شاندار کامیابی ہے، جس نے نہ صرف آکولہ بلکہ پورے ودربھ کو خوشیوں سے جھومنے پر مجبور کر دیا ہے۔یہ محض ایک انعام نہیں، بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ مدارسِ اسلامیہ آج بھی وہی تابناک اور باصلاحیت قیادت فراہم کر رہے ہیں جو ملت کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔انتخابی عمل کی سختیاں اور جویریہ سرکار کا انتخاب۔کونسل کے مطابق اس سال کے ’’40 انڈر 40‘‘میں ملک کے کونے کونے سے تقریباً 950 درخواستیں موصول ہوئیں۔

یہ درخواستیں صرف عام امیدواروں کی نہیں بلکہ مختلف شعبہ ہائے حیات میں نام کمانے والے افراد کی تھیں، جن میں سیاست، تعلیم، طب، انجینئرنگ، قانون، صحافت، کارپوریٹ لیڈرشپ، سماجی خدمت، معیشت، دینی و عصری تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکنگ جیسے متنوع میدان شامل تھے۔ابتدائی جانچ کے بعد 215 امیدواروں کو انٹرویو کے لیے مدعو کیا گیا۔ پھر کئی مرحلوں کی جانچ پڑتال، سخت سوالات اور علمی و قائدانہ صلاحیتوں کے عملی امتحان کے بعد صرف 105 امیدوار ہی باقی رہ سکے۔ بالآخر چار دن تک جاری رہنے والے عظیم فائنل ایونٹ کے بعد 40 ابھرتے ہوئے مسلم رہنما منتخب ہوئے اور انہی میں ایک نمایاں نام عالمہ جویریہ سرکار کا بھی تھا۔اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے ہر دور میں علمی، سماجی اور اصلاحی میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ قیادت کے جھنڈے بلند کیے ہیں۔ مگر جدید دور میں مسلم معاشرے میں خواتین کی قیادت اکثر پس منظر میں دھکیل دی گئی۔ ایسے وقت میں لوہارا کی عالمہ جویریہ سرکار کا ’’ینگ ایمرجنگ لیڈر‘‘کے طور پر منتخب ہونا نہ صرف ایک فرد کی کامیابی ہے بلکہ یہ ایک انقلابی پیغام ہے کہ مسلم خواتین آج بھی ہر محاذ پر قیادت کا دم خم رکھتی ہیں۔عالمہ جویریہ سرکار کا تعلق برار خطے کے ضلع آکولہ کے قصبہ لوہارا سے ہے۔

وہ ’’مدرسہ البنات الصالحات، لوہارا‘‘کی ناظمہ تعلیمات ہیں اور اسی کے زیرِ سایہ چلنے والے’’حوابائی اسکول و جونیئر کالج‘‘ کی پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔انہوں نے دینی و عصری تعلیم کو یکجا کر کے بچیوں کی ہمہ جہت تربیت کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ان کی جدوجہد نے درجنوں بچیوں میں علمی بیداری، سماجی شعور اور اخلاقی اقدار کو زندہ کیا۔ وہ اس بات کی روشن مثال ہیں کہ ایک خاتون نہ صرف درس و تدریس میں مہارت حاصل کر سکتی ہے بلکہ ایک مضبوط منتظم اور بااثر قائد بھی بن سکتی ہے۔آل انڈیا مسلم ڈویلپمنٹ کونسل کے اس اقدام کا مقصد ایسے نوجوان مسلم رہنماؤں کو سامنے لانا ہے جو سماج اور ملک میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھ سکیں۔ منتخب شدہ 40 لیڈران کو آئندہ مرحلوں میں لیڈرشپ ڈویلپمنٹ، پالیسی سازی، سماجی خدمت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ ملت و قوم کی قیادت کا عملی بوجھ اٹھا سکیں۔جویریہ سرکار کے اس اعزاز پر پورے ودربھ خطے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی سطح پر مبارکبادوں کا تانتا بندھ گیا۔

سماجی، تعلیمی اور مذہبی حلقے اس کامیابی کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ ضلع آکولہ کے عوام نے ان کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف جویریہ سرکار کا اعزاز ہے بلکہ پوری برار و مہاراشٹر کی عزت و وقار میں اضافہ ہے۔یہ اعزاز اس حقیقت کی دلیل ہے کہ جب لگن، خلوص، جدوجہد اور ایمان داری ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو چھوٹے قصبے کی ایک بیٹی بھی ملک گیر سطح پر اپنے نام کا پرچم لہر ا سکتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت عالمہ جویریہ سرکار کی اس کامیابی کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنائے اور انہیں ملت و سماج کی قیادت کے عظیم منصب پر مزید ترقی عطا کرے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!