سنو! سرگوشیاں کچھ کہہ رہی ہیں۔۔

✍️ ایوب نلامندو شولاپور
+91 97668 19981
ش۔ شکیل کا تعلق ویسے تو علم و ادب کے گہوارے سولاپور سے ہے ۔ گزشتہ چند سالوں سے آپ نے بود و باش اورنگ آباد میں اخیتار کی ہے۔ ش شکیل سنجیدہ افسانہ و افسانچہ نگار ہیں۔ موصوف کی تخلیقات ملک کے مؤقر رسائل و اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ش شکیل اپنی تدریسی مصروفیت کے باوجود اپنی نثری جولانیاں زیر نظر کتاب "سرگوشیاں ” میں دکھائی ہے۔ اس سے قبل موصوف کی بچوں کے لئے لکھی گئی کہانیوں کا مجموعہ بڑا کون ! منظر عام پر آکر داد تحسین حاصل کر چکی ہے۔
زیر نظر کتاب سرگوشیاں ش شکیل کا اولین افسانچوں کامجموعہ ہے ۔کتاب کا انتساب اردو زبان کے مایہ ناز قلم کار فرزند دکن نامور ادیب ڈاکٹر عبدالقادر فاروقی صاحب (سرپرست بھارتیہ اردو وکاس فاونڈیشن سولاپور )کے نام معنوں کیا ہے۔ 28 اکتوبر 2024 کو ڈاکٹر عبدالقادر فاروقی صاحب کی شولاپور آمد پر آپ کے بدست رسم رونمائی عمل میں آئی تھی۔ زیر نظر کتاب میں 79 افسانچے و منی کہانیاں شامل ہیں جو نہایت دلچسپ ہے ۔
ش شکیل اپنی تحریروں میں قاری سے سرگوشیاں کرتے ہے۔ یہ سرگوشیاں سماج کی حقیقت کا عکاس ہیں۔ان میں ایک اصلاحی پیغام چھپا ہے ۔اس پیغام کو جاننے اور سمجھنے کے لئے آپ کو سرگوشیاں کا مطالعہ کرنا ہوگاسنو!۔۔سرگوشیاں کچھ کہہ رہی ہیں. سرگوشیاں کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس پر ملک و بیرون کے معتبر قلمکار جیسے جناب اظہر فاضل جالنہ, محترم ارشد صدیقی بیڑ,محترمہ غوثیہ سلطانہ نوری شکاگو۔وغیرہ نے مضامین لکھے ۔ کتاب کی اشاعت پر فکشن نگار ش شکیل کے ساتھ ساتھ فعال شخصیت جواں سال افسانچہ نگار جناب سلطان اختر بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ی ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ ہر اردو داں کے لئے مفید ثابت ہوگا.




