کتاب، روشنی اور یادِ رفتگاں: مرحومہ حجن مہ جبین قاضی مشتاق کے نام ایک ادبی خراج

عقیل خان بیاولی، جلگاؤں
کبھی کبھی ایک شخصیت کی یاد اتنی پُر اثر ہوتی ہے کہ وہ وقت کی گردش کے باوجود زندہ رہتی ہے۔ وہ اپنی خوشبو، اپنے عمل کے نقوش چھوڑ جاتی ہے۔ مرحومہ حجن مہ جبین قاضی مشتاق انہی روشن چراغوں میں سے ایک چراغ تھیں، جن کے فیضانِ علم کو ایک بار پھر انجمن کی فضا نے محسوس کیا۔کے کے اردو گرلز ہائی اسکول و ڈاکٹر شاہین قاضی جونیئر کالج میں قائم حجن مہ جبین قاضی مشتاق احمد لائبریری نے 19 تا 23؍ ستمبر کے دوران نہ صرف کتابوں کی ایک روح پرور نمائش پیش کی بلکہ علم و ادب سے جُڑے خلوص اور عقیدت کی ایسی خوشبو پھیلائی جو قلوب کو معطر کر گئی۔ یہ محض ایک نمائش نہیں تھی، بلکہ ایک کاروانِ عشقِ علم تھا، جس نے طالبات کے دلوں میں کتاب دوستی کا چراغ روشن کیا۔
کتابیں وہ خزانہ ہیں جو انسان کے اندر کی پیاس بجھاتی ہیں۔ وہ استاد بھی ہیں، رفیق بھی اور رہنما بھی۔ اس نمائش کے پہلے دن جب ادارے کے چیئرمین شاہ زاہد امان اللہ نے افتتاح کیا، تو کتابوں کی خوشبو اور ورق گردانی کی سرسراہٹ نے طالبات کے دلوں میں وہی پرانا پیغام جگایا کہ:
"جو کتابوں سے محبت کرتا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔”اس میں قاضی مشتاق احمد کی تحریروں کا لمس نظر آیا ۔
20؍ ستمبر کو جب طالبات نے کتب خانہ کی تحریروں کا مطالعہ کیا، خصوصاً قاضی مشتاق احمد کے افسانے، تو ان کے ذہنوں میں سوالات بھی جاگے اور خواب بھی۔ وہ محض کہانیاں نہیں تھیں، بلکہ زندگی کے آئینے تھے، جو درد، محبت حقیقت انسیت اور جدوجہد کے رنگوں سے سجے ہوئے تھے۔
تیس طالبات نے مختلف کتابوں پر تبصرے کۓ ، گویا ایک نسل نے قلم کو آزمایا اور اظہارِ خیال کی مشق کی۔ چھ بہترین تبصروں کو انعام دینا دراصل یہ پیغام تھا کہ "الفاظ کی کاشت جاری رکھو، یہ تمہارے دلوں کو زرخیز بنائیں گے۔”خراجِ تحسین اور روحانی لمحے۔ 23؍ ستمبر کو منعقدہ پروگرام نے ایک محفل کی صورت اختیار کی۔ صدر مدرسہ تنویر جہاں شیخ اقبال کے صدارتی خطاب میں وہی سچائی جھلکی کہ قاضی مشتاق احمد کا قلم آج بھی زندہ ہے اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے محفل کو نورانی فضا بخشی۔ پھر حمد و نعت کی آوازوں میں دلوں کی عقیدت گھل گئی۔ نظمیں، مقالات اور طالبات کے تاثرات ایک ہی سمت اشارہ کرتے رہے: کتابیں ہماری بہترین رفیق ہیں۔طالبات نے جن کتابوں پر اظہارِ خیال کیا، ان میں امنگ جیسے رسالے، شہید بھگت سنگھ اور دیگر دو ڈرامے، دل کے سلگنے کا سبب اور مرزا غالب کی حویلی شامل تھیں۔ یہ انتخاب ہی اس بات کا ثبوت تھا کہ نئی نسل تاریخ، ادب اور فکر کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے بس ضرورت ہے رہنمائی اور تحریک کی۔ایک امانت، ایک وصیت۔
ادارہ کے بانی ضلع کی تعلیمی ترقی کے محرک،دختران تعلیم کے پاسبان الحاج ڈاکٹر امان اللہ شاہ کی امانت ہے یہ دارالمطالعہ جن کی اس کے قیام سے متعلق وصیت تھی کے کم کھاؤ ہلکہ پہنوں کچے مکان میں رہوں مگر تعلیم کا دامن کبھی نہ چھوڑوں، جگہ جگہ دار المطالعہ قائم کرو، مطالعہ عام کرو،اور انہیں نقوش پر ٹیم انجمن اپنے تعلیمی سفر کی طرف کامیابی سے رواں دواں ہے۔یہ محفل مرحومہ حجن مہ جبین قاضی مشتاق کے ایصالِ ثواب کے لیے تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ان کے نام سے جُڑی ایک امانت بھی تھی علم کی امانت، قلم کی وصیت۔ ان کی یاد نے ہمیں یہ سبق دیا کہ مطالعہ محض مشغلہ نہیں، بلکہ زندگی کا وہ چراغ ہے جو وقت کے اندھیروں کو چیر کر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔آخر میں تہمینہ شیخ نے بجا طور پر کہا کہ یہ کاوش طالبات کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔ یہ صرف ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک بیج تھا جو بو دیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہی بیج علم کے درخت میں بدلے گا اور کئی نسلوں کو سایہ اور ثمر عطا کرے گا۔ کامیابی کے لیے شاہ ذاکر کی قیادت میں شکیلہ شیخ ،نازیہ شیخ ،تبریز اسلم و جملہ اسٹاف ممبران نے محنت کی ۔




