مہاراشٹرا
وقف (ترمیمی) قانون 2025 منسوخ کرو!” جلگاؤں میں گونجی اقلیتوں کی آواز ضلع کلکٹر آفس کے باہر “وقف بچاؤ کمیٹی” کا پُرزور احتجاج.
مفتی خالد کی قیادت میں وزیراعلیٰ کو یادداشت پیش، “جیل بھرو تحریک” کا اعلان.

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی).
وقف جائیدادوں کے تحفظ، مذہبی آزادی کے احترام اور اقلیتی برادری کے دستوری حقوق کی بحالی کے مطالبے پر آج جلگاؤں "وقف بچاؤ کمیٹی” کے زیراہتمام ایک تاریخی و پُرزور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ضلع کلکٹر آفس کے باہر ایک گھنٹے تک مسلسل گونجتے نعرے ماحول میں دستوری انصاف اور مذہبی آزادی کی گونج بن گئے. “وقف قانون 2025 منسوخ کرو!” “وقف ہماری امانت ہے، اسے چھینا نہیں جا سکتا!”“مذہبی آزادی پر حملہ بند کرو!”شرکا نے مرکزی حکومت کے منظور کردہ وقف (ترمیمی) قانون 2025 کو “سیاہ قانون” قرار دیتے ہوئے اس کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا گیا وزیر اعلیٰ کے نام میمورنڈم پیش۔احتجاج کے بعد مفتی خالد کی قیادت میں ایک وفد نے ڈاکٹر شریمنت ہارکر (ایڈیشنل ضلع کلکٹر) کو
وزیراعلیٰ مہاراشٹر کے نام میمورنڈم پیش کی۔
اس میں درج ذیل اہم مطالبات شامل تھے:1. مرکزی حکومت سے وقف (ترمیمی) قانون 2025 فوراً منسوخ کرایا جائے 2. سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک اس قانون کی عمل آوری روکی جائے۔3. ریاستی سطح پر “وقف جائیداد تحفظ کمیٹی” تشکیل دی جائے تاکہ وقف املاک کی حفاظت و نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ “دستور اور سیکولر ڈھانچے پر براہِ راست حملہ”۔ فاروق شیخ
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وقف بچاؤ کمیٹی کے کنوینر فاروق شیخ نے کہا“مرکزی حکومت کا یہ قانون وقف جائیدادوں کے خود مختار انتظامی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔
یہ نہ صرف مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئینِ ہند کی سیکولر روح کو بھی مجروح کرتا ہے۔حکومت اس قانون کے ذریعے مذہبی و تعلیمی اداروں کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتی ہے ، مگر یہ ناانصافی کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کی جائے گی۔”انہوں نے کہا کہ وقف بچاؤ کمیٹی جمہوری اور دستوری دائرے میں رہ کر اس قانون کے خلاف اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔“ پرنسپل لاء بورڈ کی قیادت میں جلگاؤں سے اُٹھی یہ آواز اب پورے ملک میں گونجے گی” مفتی خالد۔۔مفتی خالد نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اگر مرکزی حکومت نے یہ سیاہ قانون واپس نہ لیا، تو ہم مہاراشٹر کے تمام اضلاع میں ‘جیل بھرو تحریک’ چلائیں گے۔اس تحریک کا آغاز 27 اکتوبر کو جلگاؤں میں بھی کیا جائے گا۔
”انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد مذہب یا سیاست کی نہیں بلکہ دستور، انصاف اور اقلیتی حقوق کی لڑائ
عوامی اتحاد اور اجتماعی شعور کی مثال احتجاج میں علما، دانشوران، سماجی کارکنان طلبہ و نوجوانوں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔اجتماع سے حافظ قاسم ندوی، حافظ عبد الرحیم پٹیل، انیس شاہ نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر مفتی خالد، فاروق شیخ، ندیم ملک، ایڈوکیٹ اویس شیخ، انیس شاہ، حافظ عبد الرحیم پٹیل، متین پٹیل، مولانا قاسم ندوی، مولانا غفران، ڈاکٹر عمران خان، اکبر سر، عارف دیشمکھ، سلیم شیخ (ریڈی ایٹر والے)، چراغ الدین شیخ، جاوید اقبال، اشفاق احمد پٹیل، رفیق شیخ، عرفان شاہ (جامنیر)، رؤف بھیکن پٹیل، سید چاند امیر، عمر شیخ، اظہر دیشمکھ، مظہر خان، یوسف خان و دیگر معزز حضرات شریک رہے۔انصاف و مساوات کی صدا۔
یہ احتجاج صرف وقف املاک کے تحفظ کی تحریک نہیں، بلکہ آئینِ ہند کی روح ،مساوات، سیکولرزم اور انصاف ۔ کی بحالی کی صدا ہے۔ جلگاؤں سے اُٹھی یہ آواز اب پورے ملک میں گونجنے والی ہے، جہاں ہر انصاف پسند شہری ایک ہی بات کہتا دکھائی دے رہا ہے:“وقف ہماری امانت ہے۔ دستور ہمارا ضمانت ہے!”




