امت مسلمہ کوارتداد سے روکنا ہماری ذمہ داری

سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
ناندیڑ مہاراشٹرا
8485884176
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں قرآن میں ہے ,, ان الذین ارتدوا علی ادبار ھم ،، ( محمد : 25 ) بیشک جو لوگ اپنی پشتوں پر لوٹ گئے ، ۔
پتھر اور پتوں کے زمانے سے شروع ہو کر انسان نے چیٹ جی پی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس تک کا سفر طئے کیا ہے ، تب سے لے کر آج تک کے سفر میں جو جدو جہد رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہمیشہ صحیح اور غلط کی جنگ میں صدیاں گذر گئی ، نہ صرف یہ بلکہ صنف نازک کو نشانہ بنا کر کامیابی حاصل کی جارہی ہے ، ہابیل اور قابیل کے زمانے سے لے کر ,,کو ایجوکیشن ،، کے بہانے سے نسل نو کو مرتد کروانے تک کا فاصلہ طئے ہوا ہے ، موجودہ دور جدید ٹیکنالوجی کے نام پر صرف فتنوں کا دور ہے ، ہر دن نئے نئے فتنے ظہور پذیر ہو رہے ہیں ، جو صرف دلوں سے اسلام کو دور کرنے کی چالاکیاں کر رہے ہیں ، اسلام کے مخالف قوتیں متحد ہو کر زور آزمائی میں مصروف ترین ہیں ،
یہ بہت سوچ سمجھ کر بنائے گئے منصوبے ہیں ، جس میں صنف نازک کو نشانہ بنا کر کامیابی کے زینے طے کر کے کانے دجال کے لئے راستے ہموار کر رہے ہیں ، ساتھ ہی ساتھ نوجوانوں کو بھی لپیٹ میں لیا جارہا ہے ، سب سے آسان ذریعہ سوشل میڈیا میں مصروف کروا کر نماز روزے سے دور کروایا جارہا ہے ، قرآن کی تعلیمات سے دور کروایا جارہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے اصولوں سے دور کروایا جارہا ہے ، اخلاقی تعلیم سے دور کروایا جارہا ہے ، حقوق العباد سے دور کروانے کے لئے انھیں نئے نئے تیز رفتار اپلیکیشنز میں الجھایا جارہا ہے ، جب یہ مکمل اسی میں ڈوب جائیں تو آسان حربہ ، کاری ضرب لگا کر انھیں مذہب سے ہٹایا جا رہا ہے ، اس کی شروعات کہاں سے ہورہی ہے یہ کبھی ہم نے غور نہیں کیا ہے ، آخری مرحلے میں لکیر پیٹ کر ذمہ داری نبھانے کی کوشش کرتے ہیں ، ہمیں چاہیئے کہ اس کی شروعات کی روک تھام کے لئے کہاں سے سفر شروع کریں اس بات پر توجہ دیں ، ناکہ واویلا کرنے پر ۔۔
سماج کے لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے قائم کردہ حدود کی کتنی پابندی کر رہے ہیں ، اس پر غور کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے ، جب شرعی حدود اور پابندیوں کا خوف ختم ہو جاتا ہے تو اس کے بہت سنگین نتائج سامنے آتے ہیں ، ۔۔۔۔۔۔ کانے دجال کی آمد کے دور میں یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے ، ہم کوشش تو کریں کہ اس ارتداد کو روکنے کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں ، وقت کے رہتے اقدامات طئے کرلینا چاہئے ،
معاشرے کو آزاد خیالی سے بچانا ہے ، معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائیوں کو روکنے کے لئے کیا کریں اس بارے میں سوچیں کہ آج ہمیں اسلامی نظام حیات کو بچانا ہے ۔۔۔۔ آئیے ہم اپنی نئی نسل کا ایمان بچانے اپنے گھر سے ہی شروعات کریں ، ۔۔۔۔۔ سب سے پہلے اپنے بچوں کو اسکول میں داخلے کے وقت ہی اسکول کی تاریخ کیا کہتی ہے ، نظر ثانی کرلیں ، اسکول کے موجود حضرات کے رویوں کو نوٹ کریں ، انگریزی میڈیم کے بجائے لڑکیوں کو اُردو میڈیم پر ترجیح دیں ، لڑکوں کے لئے انگریزی میڈیم اگر ضروری ہی ہو تو اسکول کے ماحول اور تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دیں ،
اسکول میں دن کے ابتدائی لمحات میں کس طرح دین سے ہٹا رہے ہیں نوٹ کریں ، اور بچوں کو گھر پر پابندی سے روزانہ دینی درس دیا کریں ، عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم پر مکمل توجہ دینا بے حد ضروری ہے ، لڑکیوں کے لئے قریب کے مدرسے کو ترجیح دیں ، اگر اس مدرسے کو ذہن قبول نہ کریں تو بچپن سے ہی ان کے لئے توجہ دیں کہ یہ کس طرح سے اسکول تک کا سفر طئے کرنے والی ہے ، عمر کے لحاظ سے لڑکے اور لڑکیوں کو غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ کریں ، استاد کو بھی ڈانٹے کا اختیار دیں ، بیجا لاڈ پیار نہ کریں ، ان کی ہر ضد پوری نہ کریں کچھ کو ادھوری رہنے دیں ، بات بے بات پر خوف دلائیں کہ غلطی پر گناہ کی سزا دین اسلام نے کن باتوں پر کیا کیا رکھی ہے ، ہر لمحہ خدا کا خوف دلائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے کچھ پہلو روزانہ گھر پر دہرایا کریں ، ، لڑکیوں کو سن بلوغت میں پہنچتے ہی پردے کی پابندی پر زور دیں ، گھر میں خاندان کے نوجوان لڑکوں کی آمد پر پابندی لگائیں ، بہت سوچ سمجھ کر کالج اور کورسز کا انتخاب کریں،
کالج ، اسکول ، ٹیوشن کی ذمہ داری لڑکیوں کے لئے والد خود نبھائیں کہ کبھی اکیلے سفر نہ کرنا پڑے ، پڑھانے والے استاد پر بھی اپنا دبدبہ رکھیں ، والدین کی غیر موجودگی میں گھر سے باہر قدم پر لڑکیوں پر پابندی لگائیں ، موبائل کا استعمال والد یا والدہ کے سیل فون سے کرائیں ، اور وہ بھی کچھ منٹ مختص کردیں ، آن لائن تعلیم بھی والدین کے فون سے رکھیں ، جیب خرچ کے لئے پیسے دیں تو مکمّل حساب لیں، اسکول اور کالج کی فیس والدین خود جا کر مکمل کریں ، سہیلیوں پر بھی نظر رکھیں کہ یہ کس قسم کی دوستی پر ہے ، لڑکوں پر بھی نظر رکھیں کہ کس طرح کے دوست احباب رکھے ہیں ، ان کے دوست احباب سے والدین ملتے رہا کریں ، لڑکیوں نے کسی بھی طرح سے غیر مسلم لڑکیوں سے دوستی نہ کریں ، کسی بھی سہیلیوں کی دعوتیں نہ کریں ، اگر کسی دعوت میں جانا ضروری ہوتو والدہ خود ساتھ رہیں ، خاندان سے ہٹ کر کوئی دعوت اٹینڈ نہ کروائیں ، ضرورت سے زیادہ میک اپ پر پابندی لگائیں ، خاص کر لباس پر توجہ دیں ، چست کپڑے نہ پہننے دیں ، برقع کے نام پر فیشن نہ کروائیں ، گاڑی سیکھنا ہو تو والد نے سیکھائیں ، بچیوں کے زور سے قہقہے لگانے پر اعتراض کریں ، اونچی آواز میں بات نہ کرنے دیں،
نصاب کے علاوہ بھی انھیں دینی ، اخلاقی و اعتقادی کتب پڑھنے کے لئے لا کر دیں ، ان کتب پر ڈیبیٹ ٹائپ بات چیت بھی رکھیں ، اسلامی نکات پر بات چیت کے دوران ان کے جواب پر حوصلہ افزائی ضرور کریں ، انھیں تحفے تحائف اور انعام بھی دیں تاکہ ، وہ دلجوئی سے مطالعہ کرسکیں ، گھر کے بزرگوں کے قصے سنائیں ، کوئی بات بگڑ جائے تو محبت سے سلجھائیں ، سختی برتنے پر معاملہ بگڑ بھی سکتا ہے ، باہر کے خوفناک حالات سے آگاہ کراتے رہیں ، والدین اپنی تربیت کی ذمہ داری سمجھ کر ہر چھوٹی بات کو اہمیت دیں تو کوئی لڑکی کوئی لڑکا بے بہرہ نہیں ہوگا ، ہمیں موجودہ حالات میں نئی نسل کو بچانا ہے ، ان کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہے ، اللّٰہ نئی نسل کو اس مہلک بیماری سے بچائے ، غیر کے شکنجے سے محفوظ رکھیں ، سورہ الممتحنہ کی آیت نمبر تیرہ کا ترجمہ پڑھائیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ,, اے ایمان والو! اس قوم سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہوا ہو وہ تو آخرت سے ایسے ناامید ہوگئے کہ جیسے کافر اہل قبور سے نا امید ہوگئے ،،
، گھر میں ہمیشہ دینی ماحول رکھیں ،
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ، اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہو جائے آمین ،




