کیا گو رکشکوں کا تانڈوں مہاراشٹر میں پھیلتا جارہا ہے؟

مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے قریب حدگاؤں میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہایت تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ایک ٹرک، جو سیب لے کر مدھیہ پردیش جا رہا تھا، اسے روک کر محض شک کی بنیاد پر حملہ کرنا نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، خود کو گؤ رکھشک کہنے والے افراد—جن کا تعلق مبینہ طور پر بجرنگ دل سے بتایا جا رہا ہے—نے ٹرک کو روکا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ اس میں گائے کا گوشت ہے۔ بغیر کسی ثبوت اور قانونی اختیار کے، انہوں نے نہ صرف گاڑی کو نقصان پہنچایا بلکہ ایک بے گناہ شخص، نداف، کو شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا۔ ڈرائیور کو صرف اس لیے چھوڑ دینا کہ وہ عیسائی تھا، اور کلینر کو اس کے نام کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنانا، اس واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ بھی دیتا ہے۔
یہ عمل کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لینا، کسی بھی الزام پر خود ہی فیصلہ کرنا اور سزا دینا، ریاستی نظامِ انصاف کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ اگر واقعی کوئی شک تھا تو متعلقہ اداروں—پولیس یا دیگر حکام—کو اطلاع دی جانی چاہیے تھی، نہ کہ خود “فیصلہ” سنا کر تشدد کیا جاتا۔ مہاراشٹر جیسے ریاست میں، جہاں ماضی میں اس نوعیت کے واقعات نسبتاً کم دیکھنے میں آتے تھے، اس طرح کے حملے ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگر بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو یہ عناصر مزید حوصلہ پکڑ سکتے ہیں اور امن و امان کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔
انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ: اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرے ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دے
ایسے گروہوں کے خلاف واضح پیغام دے کہ قانون سے بالا تر کوئی نہیں متاثرہ شخص کو مکمل طبی اور قانونی مدد فراہم کی جائے
یہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی پر حملہ ہے۔ اگر آج اسے نظر انداز کیا گیا تو کل اس کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
سید عمران ناندیڑ




