مضامین

مولانا نعیم صاحب قاسمیؒ : ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی


از قلم : مولانا سید آصف ندوی امام و خطیب مسجد غنی پورہ، ناندیڑ ۔

رات کے سناٹے میں جب شہر کے چراغ ایک ایک کر کے بجھنے لگے تھے، تب ایک چراغ ایسا بھی بجھا… جو دلوں کو منور کرتا تھا۔ گزشتہ شب تقریباً ساڑھے دس بجے مولانا نعیم صاحب قاسمیؒ (صدر مدرس دارالعلوم محل جا ہ مال ٹیکڑی, ناندیڑ اپنے ربِّ کریم کے حضور حاضر ہوگئے، وہ رب جس کی یاد میں انہوں نے اپنی پوری زندگی بسر کی۔
نو مہینوں کی طویل بیماری کے باوجود ان کے چہرے پر کبھی مایوسی کی جھلک نہیں دیکھی گئی۔ دل کا عارضہ، گردوں کی تکلیف، اور جسم کی کمزوری، مگر زبان پر ہمیشہ “الحمد للہ” کی مٹھاس۔گویا وہ درد کے پردوں میں بھی تسلیم و رضا کی تسبیح پڑھتے رہے۔

آج بروز اتوارصبح فجر کی نماز کے بعد جب معمول کے مطابق میں نے موبائل دیکھا، تو ایک پیغام نے مجھے جیسے پتھر کر دیا۔ آنکھیں ساکت، دل دھک سے رہ گیا۔ تحریر تھی: “حضرت مولانا نعیم صاحب قاسمیؒ اس دارِ فانی کو الوداع کہہ گئے۔” کچھ لمحوں کے لیے یقین ہی نہ آیا۔ میں خاموشی میں گم رہا، پھر دل نے بے اختیار قدموں کو حرکت دی۔ اپنے عزیز دوست جناب عبدالرب صاحب کے ساتھ میں دارالعلوم محل جا مال ٹکڑی جا پہنچا۔ وہی صحن، وہی کمرا، وہی فضا، مگر مولانا نہیں تھے۔ جب میں نے ان کے چہرے کی زیارت کی، تو یوں لگا جیسے سکون کی ایک لہر چاروں طرف پھیل گئی ہو۔وہ چہرہ زندگی بھر جس کے لبوں پر مسکراہٹیں رقص کرتی رہیں، آج خاموش تھا ، مگر اس کی خاموشی میں بھی نور تھا۔ کافی دیر تک میں سکتے کے عالم میں بیٹھا رہا، دل نہ مان رہا تھا کہ وہ اب نہیں رہے۔

وہ آخری ملاقات… جو دل پر نقش ہو گئی
یادش بخیر ، آج سے کوئی پندرہ دن پہلے کا واقعہ ہے۔ میں اپنی لختِ جگر، اپنی بیٹی کے نانا خسر کی عیادت کے لیے نارائن اسپتال گیا تھا۔محترم کی خیریت دریافت کرنے کے بعد جب میں واپس آنے لگا، تو ہسپتال کے احاطے میں دارالعلوم محل جا مال ٹکڑی کے چند اساتذہ نظر آئے۔ باتوں ہی باتوں میں معلوم ہوا کہ مولانا نعیم صاحب قاسمیؒ اسی اسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہیں، دل نے فوراً قدم موڑ دیے، میں الٹے پاؤں آئی سی یو کی جانب بڑھا، دروازہ کھلا، پردہ ہٹا، اور میری نظر مولانا پر جا ٹھہری۔اللہ کا شکر کہ وہ ہوشیار تھے۔ مجھے دیکھتے ہی علیک سلیک کے بعد مسکرا کر فرمایا: “ مولانا! ابھی کچھ دیر پہلے میں نے لیٹے لیٹے دیکھا کہ آپ آئے تھے، مگر چونکہ آپ سیدھے نکل گئے، بات نہ ہو سکی۔دل میں یہی حسرت تھی کہ کاش ملاقات ہو جاتی، اللہ کا شکر ہے کہ آپ پھر آ گئے۔” میں نے عرض کیا: “حضرت، طبیعت اب کیسی ہے؟” تب وہ نرم مسکراہٹ کے ساتھ بولے: “ہر حال میں اللہ کا شکر ہے، بہت بہتر ہوں، پہلے سے کچھ افاقہ ہے، صحت غنیمت ہے۔” تقریباً پندرہ منٹ یا شاید اس سے کچھ زیادہ ہم نے گفتگو کی۔

مولانا کا لہجہ پُر سکون، مطمئن اور شاکر تھا۔ کیا خبر تھی کہ یہ گفتگو میری ان سے آخری ملاقات ہوگی ۔ ایک ایسی ملاقات جو آج بھی دل کے گوشے میں روشنی بن کر محفوظ ہے۔
مولانا نعیم صاحبؒ اُن نفوسِ قدسیہ میں سے تھے
جن کی زندگی کا ہر لمحہ علم و دین کی خدمت کے لیے وقف تھا۔ وہ مدرسہ کی چوکھٹ کو عبادت گاہ سمجھتے، اور درس و تدریس کو زندگی کا مقصد۔ گزشتہ سات برسوں سے جامعہ دارالعلوم محل جا مال ٹکڑی ناندیڑ کے صدر مدرس کی حیثیت سے آپ نے نہ صرف دروسِ نظامیہ کو نکھارا، بلکہ طلبہ کے دلوں میں علم، عمل اور اخلاق کا نور بھرا۔ آپ کے درس میں لفظوں سے زیادہ روشنی بولتی تھی۔
دارالعلوم کربلا، ناندیڑ کے زیرِ سایہ چلنے والے تیس سے زیادہ مکاتب آپ کی شب بیداریوں، آپ کی دعاؤں اور آپ کے اخلاص کے امین ہیں۔ خاص طور پر مکتب سبیل الاسلام کی تعلیمی اصلاح و ترقی میں آپ کی رہنمائی نے نئی روح پھونکی۔

مولانا قاسمیؒ کا سفر صرف تدریس تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے جہاں بھی قدم رکھا، وہاں دین کی خوشبو پھیلا دی۔ جامعہ اشاعت العلوم اکل کواں، جامعہ مظاہر العلوم بیڑ، مدرسہ مفتاح العلوم کنوٹ اور پھر قندھار کے مرکز کی امامت ہر مقام ان کی دعوتی زندگی کا گواہ ہے۔ قندھار کی سرزمین پر آپ نے بدعات و خرافات کے اندھیروں میں سنت کی شمع جلائی، لوگوں کے دلوں سے جہالت کے بادل چھٹ گئے، اور عورتوں میں دینی بیداری پیدا کرنے کے لیے قندھار کے معروف ادارہ جامعہ رابعہ بصریہ للبنات کہ قیام میں بھی اپ کا انتہائی اہم رول رہا ہے۔ گویا آپ جانتے تھے کہ اگر مائیں بیدار ہوں گی تو نسلیں بھی ایمان سے منور ہوں گی۔

مرحوم اپنے اندر انسانی خوبیوں کا ایک حسین امتزاج رکھتے تھے، وہ عالم بھی تھے، مختلف عہدوں پر فائز بھی تھے، مگر ان سب سے پہلے ایک نرم دل انسان تھے۔ باتوں میں سنجیدگی کے ساتھ ظرافت و شگفتگی کا تڑکا، گفتگو میں ایسا توازن کہ علم بھی ملے اور دل بھی کھلے۔
چراغ جو بجھ کر بھی روشنی دے گیا : ان کے جانے سے صرف ایک شخصیت نہیں گئی، بلکہ ایک عہد ختم ہو گیا۔دارالعلوم کربلا و محل جاہ مال ٹیکری کے در و دیوار جیسے ان کی یادوں سے لبریز ہیں۔ وہاں کی ہواؤں میں اب بھی ان کی دعاؤں کی گونج باقی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ ابھی دارالعلوم محل جاہ کی مسجد سے باہر نکلے ہوں اور اب یہ کہیں گے ” اور مولانا آصف صاحب، بہت دنوں بعد تشریف لائے”.
اے ربّ کریم! جنہوں نے زندگی تیرے دین کے لیے گزاری، ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ ان کے درجات بلند فرما، ان کے علم کو صدقہ جاریہ بنا دے۔ اللّٰہم اغفر لہ، وارحمہ، و ارفع درجاتہ فی علیین، واجعل قبرہ روضۃً من ریاض الجنۃ۔ آمین۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!