مضامین

والدین جنّت کے دروازے ہماری زندگی کا حقیقی سرمایہ

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
فون 09422724040

(اگر اس مضمون کے ساتھ میرا 2؍ نومبر 2021ء کو تحریر کردہ مضمون "وریدھا آشرم اور اسلام” بھی مطالعہ کیا جائے، تو ان شاء اللّٰہ! یہ مزید مفید اور بصیرت افروز ثابت ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم معاشرے میں شاذ و نادر ہی وریدھا آشرم تعمیر کیے گئے ہیں۔ میں خود کم از کم تین مختلف وریدھا آشرم گیا ہوں، مگر وہاں کسی بھی مسلم متاثرہ فرد کو نہیں پایا۔)

جب ہم نے دنیا میں پہلی بار سانس لی، تو والدین ہی تھے جنہوں نے ہمارے لیے اپنی نیند، سکون اور آرام قربان کر دیا۔ وہ جنہوں نے اپنی جوانی ہماری تربیت میں لگا دی، اپنے خواب ہمارے مستقبل کے لیے قربان کر دیے، اور ہر دکھ سہہ کر ہمیں خوشیاں دیں۔ آج، جب ان کے ہاتھ کمزور ہو گئے، چہرے پر جھریاں آ گئیں، اور چلنے کے لیے سہارے کی ضرورت ہے، تو کیا ہم ان کو "اولڈ ایج ہوم” کے دروازے پر چھوڑ آئیں؟ یہ کیسی بے حسی اور ناشکری ہے!

والدین وہ چھاؤں ہیں جن کے بغیر زندگی کی دھوپ ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ وہ ہمارے لیے صرف والدین نہیں بلکہ ایک پناہ گاہ ہیں، ہمارے لیے محبت، سکون، اور تحفّظ کا سب سے بڑا ذریعہ۔ جب ہم بیمار ہوتے ہیں، تو وہ راتوں کو جاگتے ہیں۔ جب ہم کسی مشکل میں ہوتے ہیں، تو وہ ہمارے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ اور آج، جب ان کی اپنی عمر ڈھل گئی، ان کی بینائی دھندلا گئی، اور ان کے قدم لڑکھڑانے لگے، تو ہم انہیں اکیلے کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا ہم نے بھولا دیا کہ وہی والدین ہمارے بچپن میں ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے؟ وہ جو اپنے کپڑوں کی پرواہ کیے بغیر ہمیں نیا لباس دلایا کرتے تھے؟ وہ جو اپنے پسندیدہ کھانے چھوڑ کر ہماری خواہش پوری کرتے تھے؟ کیا ہم ان کی قربانیوں کا یہی صلہ دیں گے کہ ان کے آخری ایام تنہائی اور بیگانگی میں گزریں؟

بوڑھے والدین کے لیے اولڈ ایج ہوم بھیجنا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی فعل بھی ہے۔ والدین کا دل صرف ہمارے ساتھ رہنے سے خوش ہوتا ہے۔ انہیں ایک بند کمرے یا اجنبیوں کے درمیان رکھنے سے ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ خود کو غیر ضروری اور بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں، جیسے ان کی پوری زندگی کی محنت بے معنی ہوگئی ہو۔ جب کوئی شخص دنیا میں آتا ہے، تو سب سے پہلا لمس ماں کی محبت اور باپ کی حفاظت کا ہوتا ہے۔ والدین وہ ہستیاں ہیں جو اپنی پوری زندگی ہمارے لیے وقف کر دیتی ہیں۔ وہ ہماری ہر مسکراہٹ کے لیے جیتے ہیں، ہمارے ہر آنسو کو پونچھنے کے لیے جاگتے ہیں، اور ہر مشکل لمحے میں ہمیں سہارا دیتے ہیں۔ لیکن جب وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں، ان کی طاقت کم ہو جاتی ہے، اور وہ ہماری محبت اور توجہ کے سب سے زیادہ محتاج ہو جاتے ہیں، تو کیا ہم ان کے بڑھاپے کو تنہائی اور اولڈ ایج ہوم کے حوالے کر دیں؟

والدین کا دل صرف اپنی اولاد کے ساتھ رہنے سے خوش ہوتا ہے۔ ان کے لیے ہم ان کی دنیا ہوتے ہیں، ان کی جینے کی وجہ ہوتے ہیں۔ انہیں اجنبی لوگوں کے درمیان، بند کمروں میں رکھ دینا ان کی خوشیوں کو چھین لینے کے مترادف ہے۔ ان کے دل پر یہ احساس غالب آ جاتا ہے کہ شاید ان کی محبت اور قربانیوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ یہ سوچ انہیں اندر سے توڑ دیتی ہے اور انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بے مصرف اور بوجھ ہیں۔ اولڈ ایج ہوم، جہاں جسمانی ضرورتیں تو پوری ہو سکتی ہیں لیکن جذباتی سکون نہیں مل سکتا۔ ماں کی گود، باپ کی نصیحت، اور گھر کی گرمجوشی کا نعم البدل کسی بھی ادارے میں نہیں ہو سکتا۔ وہاں موجود ہر چہرہ اجنبی ہوتا ہے، ہر لمحہ ایک نئے زخم کی مانند ہوتا ہے۔ والدین اپنی اولاد کی آواز سننے، ان کی محبت محسوس کرنے، اور ان کے قریب ہونے کو ترستے ہیں۔

ذرا سوچیں، وہ ماں جو ہمیں اپنی گود میں لے کر گھنٹوں بیٹھا کرتی تھی، آج ہمیں دیکھنے کے لیے ترس رہی ہو۔ وہ باپ جو ہماری ہر فرمائش پوری کرتا تھا، آج ہم سے چند لمحوں کی بات کرنے کے لیے محتاج ہو۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا یہ انسانیت ہے؟ یہ ایک گہرا اور دل کو چھو لینے والا سوال ہے، جو ہمیں اپنی زندگی اور رشتوں کی حقیقت پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ والدین وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے ہماری پرورش میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا، اپنی خواہشات کو ہمارے خوابوں کے لیے مٹا دیا، اور اپنی ضروریات کو ہمارے آرام کے لیے ترک کر دیا۔ لیکن وقت کے ساتھ، ہم اپنی مصروفیات اور خود غرضی میں اس قدر گم ہو جاتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو بھول جاتے ہیں۔

انصاف اور انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے والدین کے جذبات اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ ان کے ساتھ وقت گزارنا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، اور انہیں یہ احساس دلانا کہ وہ آج بھی ہماری زندگی کا ایک اہم حصّہ ہیں، ہماری بنیادی ذمّہ داری ہے۔ یہ سوال نہ صرف ایک آئینہ ہے بلکہ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذات میں تبدیلی لائیں اور والدین کے ساتھ محبت اور احترام کا مظاہرہ کریں، تو یہی انسانیت کی معراج اور انصاف کا تقاضا ہوگا۔

یہ ہماری ذمّہ داری ہے کہ والدین کی عزّت کریں، ان کے بڑھاپے کا سہارا بنیں، اور انہیں زندگی کے آخری لمحات محبت اور سکون سے گزارنے دیں۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: "اور والدین کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو ان کو ‘اف’ تک نہ کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے ادب سے بات کرو” (سورہ بنی اسرائیل: 23)۔ یہ آیت ہمیں والدین کی خدمت کی اہمیت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتی ہے۔ والدین کی خدمت نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ جنّت کا راستہ بھی ہے۔

بے شک، والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت ہمارے ایمان کا ایک لازمی حصّہ ہے۔ قرآن مجید کی یہ آیت نہایت جامع انداز میں ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ والدین کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے والدین کی عزت اور خدمت کو نہ صرف ایک اخلاقی ذمّہ داری قرار دیا بلکہ اسے اپنی عبادت کے فوراً بعد ذکر کرکے اس کی اہمیت کو دو چند کر دیا۔

والدین کی خدمت کرنا نہ صرف ہمارے لیے دنیوی سکون کا باعث ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جس میں محبت، قربانی، اور بے لوثی کا ایک ایسا مظاہرہ ہوتا ہے جو کسی اور تعلق میں نظر نہیں آتا۔ ان کی زندگی کے آخری لمحات کو محبت اور سکون سے بھر دینا ہمارے لیے ایک نایاب موقع ہے کہ ہم ان کی قربانیوں کا کسی حد تک حق ادا کر سکیں۔ احادیث میں بھی والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو جنّت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ والدین کی خدمت دینِ اسلام کا ایک اہم ستون ہے۔ نبی کریمﷺ نے والدین کی خدمت کو جہاد کے برابر قرار دیا اور فرمایا: "تمہاری جنّت تمہاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے”۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ان کی خدمت میں ہی ہماری کامیابی پوشیدہ ہے۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ان کی دعاؤں کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھیں اور ان کی خوشی کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھیں۔

بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں بھیجنا نہ صرف ایک غیر انسانی فعل ہے بلکہ ان کے دل کو توڑنے کے مترادف ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج ہم اپنے والدین کے ساتھ جیسا سلوک کریں گے، کل ہماری اولاد بھی ہمیں ویسا ہی جواب دے گی۔ والدین ہماری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، اور ان کی خدمت ہمارے لیے عزّت اور برکت کا ذریعہ ہے۔ آئیے، اپنے والدین کے بڑھاپے کو ان کے لیے سکون اور خوشی کا وقت بنائیں، نہ کہ تنہائی اور بیگانگی کا۔

بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں بھیج دینا نہ صرف ان کے دل کو توڑنے جیسا ہے بلکہ ہماری اخلاقی اور دینی ذمّہ داری سے غفلت کا مظاہرہ بھی ہے۔ والدین ہماری زندگی کا وہ اثاثہ ہیں جن کی قربانیوں اور دعاؤں کی بدولت ہم اس مقام پر پہنچتے ہیں، اور ان کے بڑھاپے میں ان سے منہ موڑ لینا انسانیت اور انصاف کے خلاف ہے۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا مکافات عمل کا میدان ہے۔ آج اگر ہم اپنے والدین کو تنہائی اور بیگانگی کا شکار بنائیں گے تو کل ہماری اولاد بھی ہمیں اسی طرح نظر انداز کر سکتی ہے۔ والدین کے لیے بڑھاپے کا وقت آرام، سکون، اور محبت کا ہونا چاہیے، جہاں وہ اپنی زندگی کے تجربات اور یادوں کے ساتھ خوشی سے وقت گزار سکیں۔

اسلام میں والدین کی خدمت کو عظیم عبادت قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "وہ شخص برباد ہو گیا، جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کرکے جنّت نہ کما سکا۔” (مسلم)۔ یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ والدین کی خدمت ہماری دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ والدین کی عزّت کریں، ان کے جذبات کا احترام کریں، اور ان کے بڑھاپے کو ان کے لیے خوشیوں کا وقت بنائیں۔ یہ نہ صرف ہمارے لیے اجر کا باعث ہے بلکہ معاشرے میں محبت اور ہمدردی کی مثال بھی قائم کرتا ہے۔

بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم بھیجنا غیر اخلاقی اور غیر انسانی فعل ہے۔ یہ نہ صرف ان کے دل کو توڑتا ہے بلکہ ہماری اپنی انسانیت کو بھی مجروح کرتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج ہم اپنے والدین کے ساتھ جیسا سلوک کریں گے، کل ہماری اولاد بھی ہمیں ویسا ہی جواب دے گی۔ والدین کی محبت اور خدمت ہمارے لیے عزّت، سکون، اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ آئیے، اپنے والدین کے بڑھاپے کو ان کے لیے سکون اور خوشی کا وقت بنائیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ ہمارے لیے بوجھ نہیں بلکہ زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔

بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم بھیجنا ایک ایسا عمل ہے جو ان کے دل کو توڑنے کے ساتھ ساتھ ہماری اپنی اخلاقی اقدار اور انسانی احساسات کو بھی مجروح کرتا ہے۔ والدین وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ ہماری خوشیوں اور ضرورتوں کے لیے قربان کیا، اور جب ان پر بڑھاپے کا وقت آتا ہے، تو ان کی خدمت اور محبت ہمارا فرض بن جاتا ہے۔ آج اگر ہم ان کے بڑھاپے کو نظر انداز کرتے ہیں اور انہیں تنہائی کا شکار بناتے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کے ساتھ بے انصافی ہے بلکہ ایک ایسا عمل بھی ہے جو مستقبل میں ہمارے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی بنیاد رکھتا ہے۔ جیسا ہم بوئیں گے، ویسا ہی کاٹیں گے۔

والدین کو ان کے بڑھاپے میں محبت، سکون، اور عزّت فراہم کرنا ہماری ذمّہ داری ہے۔ ہمیں ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے کہ وہ خود کو بوجھ نہیں بلکہ ایک قیمتی سرمایہ سمجھیں۔ ان کی زندگی کے آخری ایام کو خوشیوں سے بھر دینا نہ صرف ہماری دنیاوی عزّت و سکون کا باعث ہوگا بلکہ آخرت میں کامیابی اور اللّٰہ کی رضا کا ذریعہ بھی بنے گا۔ "والدین ہماری جنّت کا دروازہ ہیں، انہیں اکیلا چھوڑنا خود اپنے نصیب کی جنّت کو ٹھکرا دینے کے مترادف ہے”۔

🗓 (16.11.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!