انجمن محبانِ ادب کی افسانوی نشست کامیابی سے ہمکنار

مورخہ ۹ مئی ۲۰۲۶ء بروز سنیچر انجمن محبانِ ادب کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار افسانوی نشست کا انعقاد میڈیا سینٹر، مالیگاؤں میں کیا گیا۔ یہ نشست معروف قلمکار محترم لئیق انور صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی، جبکہ ممتاز ادیب محترم ڈاکٹر اقبال برکی صاحب نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی۔
پروگرام کا آغاز ہارون اختر صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں انجمن محبانِ ادب کی جانب سے صدرِ تقریب اور مہمانانِ کرام کا شاندار استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر شہر اورنگ آباد سے تشریف لانے والی معروف افسانہ نگار، معلمہ و صحافی خان افراء تسکین صاحبہ نے ہارون اختر صاحب کو شال اور گل پیش کرکے انجمن کے صدر کی حیثیت سے ان کی برسوں پر محیط ادبی و تنظیمی خدمات کا اعتراف کیا۔
افسانہ خوانی کے سلسلے کا آغاز منصور اکبر صاحب نے اپنے مختصر مگر فکرانگیز افسانچے سے کیا۔ بعد ازاں ابنِ آدم صاحب، اشفاق عمر صاحب، خان افراء تسکین صاحبہ، صابر گوہر صاحب اور عزیز اعجاز صاحب نے اپنے بہترین افسانے پیش کیے، جنہیں حاضرینِ محفل نے بے حد سراہا۔
افسانوں کی اس عمدہ پیش کش پر ذاکر خان ذاکر صاحب، ڈاکٹر اقبال برکی صاحب، عمران جمیل صاحب، شہروز خاور صاحب، صادق اسد صاحب، احمد نعیم صاحب، انتخاب حسین صاحب اور عبدالرحمن اختر صاحبان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے تمام قلمکاروں کو بے پناہ داد و تحسین سے نوازا۔
نشست کے دوران سیف نیوز مالیگاؤں اور انجمن محبانِ ادب کی جانب سے خان افراء تسکین صاحبہ کی ادبی و تدریسی خدمات کے اعتراف میں میمنٹو، شال اور گلدستہ پیش کرکے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ یہ اعزاز ہارون اختر صاحب، لئیق انور صاحب، ڈاکٹر اقبال برکی صاحب، صابر گوہر صاحب، احمد ایوبی صاحب اور نعیم شاہین سر کے دستِ مبارک سے تفویض کیا گیا۔
خان افراء تسکین صاحبہ نے انجمن محبانِ ادب کی مسلسل ادبی و نثری خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی نشستوں کا تسلسل نہایت خوش آئند ہے بلاشبہ انجمن ادب کے فروغ میں قابلِ قدر کردار ادا کر رہی ہے۔
صدارتی خطبے میں لئیق انور صاحب نے اپنے زرّیں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انجمن محبانِ ادب کی افسانوی نشست میں پیش کیے گئے تمام افسانے معیاری اور فکرانگیز تھے۔ انہوں نے تمام قلمکاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا:
“آپ اردو زبان کے بھی وارث ہیں اور اردو کہانی کے بھی۔ میری دعا ہے کہ آپ فنِ افسانہ اور زبانِ اردو کو زندہ رکھنے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”
آخر میں شبیر انصاری صاحب نے رسمِ شکریہ ادا کیا، جبکہ نظامت کے فرائض عزیز اعجاز صاحب نے بحسن و خوبی انجام دیے، اور اس طرح یہ بامقصد ادبی نشست کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔




