مہاراشٹرا

مذہبی رہنماؤں کی توہین اور نفرت پھیلانے کی سازش ناقابلِ برداشت

"قصورواروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ جلگاؤں ضلع ایکتا سنگھٹنا"

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
ملک میں سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور آئینی اقدار کو کھلی چیلنج دینے والے دو نہایت سنگین اور قابلِ مذمت واقعات پر اقلیتی طبقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ جلگاؤں ضلع ایکتا تنظیم نے ان دونوں معاملات میں فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت و انتظامیہ کو واضح انتباہ دیا ہے۔ پہلا سنگین معاملہ: مذہبی رہنما کی تصویر کی توہین۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں "رِشبھ ٹھاکر‘‘ نامی شخص کو جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی کی تصویر پر انتہائی توہین آمیز اور غیر انسانی فعل کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔

ایکتا تنظیم کے مطابق یہ عمل محض ایک مذہبی رہنما کی توہین نہیں بلکہ ملک کے کروڑوں مسلم شہریوں کی مذہبی شناخت پر براہِ راست حملہ، فرقہ وارانہ نفرت بھڑکانے کی دانستہ سازش اور آئین و قانون کو کھلا چیلنج ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ جرم بی این ایس اور سائبر کرائم سمیت سنگین دفعات کے تحت قابلِ تعزیر ہے، اس کے باوجود تاحال مؤثر کارروائی نہ ہونا انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔‌ دوسرا معاملہ: اسمبلی میں نامناسب اصطلاح کا استعمال دوسری جانب، مہاراشٹر اسمبلی میں معزز نائب وزیر اعلیٰ جناب ایکناتھ شندے کی جانب سے ایک متنازع اور توہین آمیز اصطلاح کے استعمال پر بھی تنظیم نے شدید اعتراض کیا ہے۔

یکجہتی تنظیم کے مطابق مذکورہ لفظ کسی قانونی، انتظامی یا فوجداری اصطلاح کا حصہ نہیں، بلکہ ایک مخصوص طبقے کو مجرم ٹھہرانے اور منفی شبیہ قائم کرنے والا ہے، جو آئینِ ہند کے دفعات 14، 15، 19 اور 21 کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسمبلی جیسے باوقار ایوان سے اس نوعیت کی زبان سماج میں خوف، نفرت اور تقسیم کو فروغ دیتی ہے۔ایکتا سنگھٹنا کے واضح مطالبات،
جلگاؤں ضلع ایکتا سنگھٹنا حکومت سے درج ذیل مطالبات کرتی ہے:1. رِشبھ ٹھاکر کے خلاف فوری مقدمہ درج کر کے گرفتاری عمل میں لائی جائے۔

2. توہین آمیز ویڈیو کو تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے فوراً ہٹایا جائے۔3. ملزم کے خلاف سخت ترین دفعات کے تحت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ کرے4. اسمبلی میں نامناسب اصطلاح کے استعمال کے معاملے میں باضابطہ جانچ، عوامی معافی اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔5. مستقبل میں عوامی نمائندوں کی جانب سے سماج کو مجروح کرنے والی زبان کے استعمال پر سخت ضابطۂ اخلاق نافذ کیا جائے۔ سنگھٹنا نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور سخت کارروائی نہیں کی گئی تو سماج میں پیدا ہونے والی کسی بھی بے چینی، احتجاج یا امن و امان کی صورتحال کی مکمل اخلاقی و انتظامی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ایکتا سنگھٹنا

کے فاروق شیخ نے کہا: "ہم آئین، قانون اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، لیکن مذہبی رہنماؤں کی توہین اور سماج کو مجرم ٹھہرانے والی زبان اب ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔‘‘حفاظ فاؤنڈیشن کے حافظ عبدالرحیم اور ایس ڈی پی آئی کے نائب صدر مولانا قاسم نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقامی جمعیۃ علماء نے اس کی شدید مخالفت کی ہے اور بروقت کارروائی نہ ہونے کی صورت میں عوامی ردِعمل کا خدشہ ظاہر کیا۔ ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر شریمنت ہارکر کو مظہر پٹھان، سلیم انعامدار اور فاروق شیخ کی جانب سے باضابطہ عرضداشتیں پیش کی گئیں اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر ندیم ملک، مولانا قاسم ندوی، مظہر پٹھان، سلیم انعامدار، انیس شاہ، ایڈووکیٹ اویس شیخ، سید عرفان، طاہر شیخ، عبدالروف عبدالرحیم، سعید شیخ، جاوید شیخ، چراغ الدین شیخ سمیت دیگر معززین موجود تھے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!