
۔مسعود محبوب خان (ممبئی)انسانی تاریخ کا سب سے پہلا تعارف علم سے ہوتا ہے۔ قرآن کا پہلا لفظ اقرأ اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسان کی فضیلت، اس کی ذمّہ داری اور اس کی خلافتِ ارضی کی بنیاد علم، فہم اور شعور پر رکھی گئی ہے۔ علم محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ وہ روشنی ہے جو انسان کو اپنے ربّ، اپنے نفس اور اپنے سماج کے ساتھ درست تعلق قائم کرنے کا سلیقہ عطاء کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وہ نظام جو انسان کو محکوم، خاموش اور بے اختیار بنانا چاہتا ہے، سب سے پہلے علم، سوال اور فکر کے دروازے بند کرتا ہے۔
دینِ اسلام کی پوری فکری روایت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ایمان جبر سے نہیں بلکہ شعور سے پھوٹتا ہے، اور اطاعت اندھی نہیں بلکہ سمجھی بوجھی ہوتی ہے۔ قرآن بار بار افلا تعقلون، افلا تتفکرون اور افلا یتدبرون کے ذریعے انسان کو سوال کرنے، سوچنے اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہی دعوت انسانی وقار، اخلاقی ذمّہ داری اور اجتماعی انصاف کی بنیاد بنتی ہے۔ چنانچہ جہاں علم محدود ہو، سوال جرم بن جائے اور فکر کو خوف کے شکنجے میں جکڑ دیا جائے، وہاں نہ صرف انسانیت مجروح ہوتی ہے بلکہ دین بھی اپنی روح کھو دیتا ہے۔
افغانستان میں طالبان کی جانب سے علم، تحقیق اور فکری آزادی پر عائد کی جانے والی پابندیاں اسی المیے کی ایک زندہ مثال ہیں۔ یہ اقدامات محض نصابی تبدیلیاں نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور سیاسی منصوبے کا حصّہ ہیں جس میں انسان کو باخبر شہری کے بجائے مطیع رعایا، اور دین کو اخلاقی ہدایت کے بجائے اقتدار کے جواز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جب کتابیں ممنوع ہوں، سوال جرم ٹھہرے اور انسانی حقوق کو غیر اسلامی قرار دے دیا جائے، تو دراصل نشانہ صرف تعلیم نہیں بنتی بلکہ انسان کا شعور، اس کا وقار اور اس کا مستقبل زد میں آ جاتا ہے۔
یہ مضمون اسی پس منظر میں طالبان کی علم دشمن پالیسیوں کا دینی اور انسانی زاویے سے تجزیہ پیش کرتا ہے۔ اس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ علم پر پابندی، انسانی حقوق کا خاتمہ اور فکری آزادی کا گلا گھونٹنا نہ تو دینی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی مہذب سماج کا تقاضا، بلکہ یہ اقتدار کے خوف، سوال سے گھبراہٹ اور آمریت کے استحکام کی حکمتِ عملی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کے نتائج صرف افغانستان تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ دین کی عالمی ساکھ، انسانی اقدار اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر گہرے اور خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یوں یہ تحریر ایک ایسے فکری مکالمے کی دعوت ہے جس کا مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ جہاں علم زندہ ہو، وہیں دین بھی زندہ رہتا ہے، اور جہاں سوال دبائے جائیں، وہاں نہ انسان باقی رہتا ہے نہ ایمان کی روح۔
رپورٹس، بالخصوص افغان جریدہ ہشتِ صبح اور معتبر تحقیقی ادارہ افغانستان اینالیسٹس نیٹ ورک (AAN) اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے تعلیمی اور فکری میدان میں غیر معمولی سخت گیری اختیار کرتے ہوئے 670 سے زائد یونیورسٹی سطح کی نصابی کتب اور اس کے علاوہ سینکڑوں ایسی کتابوں کو ممنوع قرار دے دیا ہے جو عام مطالعے، تاریخ، سیاست اور سماجی علوم سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ اقدام محض چند مخصوص عنوانات تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ علم کے ان تمام شعبوں تک پھیلا ہوا ہے جو انسانی شعور کو بیدار کرنے اور سماج میں سوال اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان پابندیوں کی زد میں سب سے پہلے وہ مضامین آئے ہیں جو فرد کو اس کے بنیادی حقوق سے آگاہ کرتے ہیں، چنانچہ انسانی حقوق سے متعلق تمام تعلیمی مواد کو یا تو مکمل طور پر نصاب سے خارج کر دیا گیا ہے یا اسے ممنوع فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح انتخابی نظام اور آئینی قانون جیسے مضامین، جو ریاست اور شہری کے تعلق کو منضبط کرتے ہیں اور اقتدار کو جواب دہ بنانے کا شعور دیتے ہیں، طالبان کی پالیسیوں کے لیے ناقابلِ قبول ٹھہرے اور انہیں تدریسی عمل سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا۔
مزید برآں، سوشیالوجی، فلسفۂ اخلاق اور جدید سیاسی فکر جیسے علوم بھی پابندیوں کی زد میں آ گئے ہیں، حالانکہ یہی مضامین کسی معاشرے میں اخلاقی شعور، سماجی ہم آہنگی اور فکری توازن پیدا کرتے ہیں۔ طالبان کی نظر میں یہ علوم نہ صرف "غیر ضروری” بلکہ ان کے قائم کردہ سخت گیر اور یک رُخی نظامِ فکر کے لیے خطرہ سمجھے گئے، کیونکہ یہ طلبہ کو تنقیدی سوچ اور آزادانہ تجزیے کی صلاحیت عطاء کرتے ہیں۔
رپورٹس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ افغانستان کی جدید تاریخ اور سیاست سے متعلق کئی اہم کتب کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے، تاکہ نئی نسل کو اپنے ہی ملک کے سیاسی ارتقاء، اقتدار کی کشمکش اور سماجی تبدیلیوں کے اسباب و نتائج سے واقف ہونے سے روکا جا سکے۔ اسی تناظر میں خواتین مصنفات اور ایرانی اہلِ قلم کی تحریروں کو بھی باقاعدہ طور پر پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جو اس امر کی علامت ہے کہ یہ اقدامات محض تعلیمی نہیں بلکہ گہرے سیاسی، مسلکی اور صنفی تعصبات پر مبنی ہیں۔
ان تمام حقائق سے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ کتابوں اور مضامین پر عائد کی جانے والی یہ پابندیاں کسی عارضی سکیورٹی خدشے، وقتی سیاسی دباؤ یا ہنگامی صورتحال کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم، مرکزی اور نظریاتی پالیسی کا حصّہ ہیں۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد علم کو محدود کرنا، فکری تنوع کو ختم کرنا اور ایسی نسل تیار کرنا ہے جو سوال کرنے کے بجائے اطاعت پر مجبور ہو۔ یوں تعلیمی ادارے تحقیق و جستجو کے مراکز کے بجائے محض مخصوص فکر کی ترسیل کے آلہ کار بنائے جا رہے ہیں، جس کے اثرات افغانستان کے تعلیمی، فکری اور سماجی مستقبل کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
طالبان کی علم دشمن پالیسی کا فکری پس منظر
طالبان کی جانب سے علم، تحقیق اور فکری آزادی پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو اگر محض انتظامی اقدامات سمجھا جائے تو یہ حقیقت کا ادھورا ادراک ہوگا۔ دراصل ان پالیسیوں کے پیچھے ایک مخصوص فکری سانچہ اور نظریاتی تصورِ علم کار فرما ہے، جو علم کو اس کے ہمہ گیر اور ارتقائی مفہوم کے بجائے ایک محدود، جامد اور مسلکی دائرے میں قید کر دیتا ہے۔
(الف) علم کا محدود اور جامد تصور
طالبان کے نزدیک علم کی قدر و حیثیت اسی وقت تسلیم کی جاتی ہے جب وہ ان کے مخصوص فقہی اور مسلکی فہم کے مطابق ہو۔ ایسا علم جو ان کے طے شدہ نظریاتی سانچے سے باہر نکلتا ہو، خواہ وہ سماج کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، اسے یا تو غیر ضروری قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر اسے "مغربی سازش” اور "اخلاقی فساد” جیسے نعروں کے ذریعے مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ جدید سماجی علوم، بالخصوص سوشیالوجی، سیاسیات اور فلسفہ، اسی لیے ان کی نظر میں قابلِ اعتراض ٹھہرے، کیونکہ یہ علوم معاشرے کو جامد کے بجائے متحرک اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں اور انسان کو سوال کرنے، سوچنے اور نتائج اخذ کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔
تنقیدی فکر (Critical Thinking) طالبان کے فکری نظام میں سب سے بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے، اس لیے کہ تنقید انسان کو محض روایت کا تابع نہیں رہنے دیتی بلکہ وہ اقتدار، رسم اور تعبیر سب پر سوال اٹھانے کی جرأت پیدا کر دیتی ہے۔ چنانچہ طالبان ایسا علم باقی رکھنا چاہتے ہیں جو سوال نہ اٹھائے، جو طاقت کے مراکز سے ٹکرانے کے بجائے ان کی توثیق کرے، اور جو فرد کو ایک باشعور اور ذمّہ دار شہری بنانے کے بجائے محض مطیع اور خاموش رعایا میں بدل دے۔ اس تصورِ علم میں تعلیم کا مقصد ذہن کو روشن کرنا نہیں بلکہ اسے ایک خاص سمت میں منجمد کر دینا ہے۔
(ب) اقتدار کے استحکام کا خوف
طالبان کی علم دشمن پالیسی کے پس منظر میں دوسرا اور نہایت اہم عنصر اقتدار کے استحکام کا خوف ہے۔ تاریخ، سیاست، آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے مضامین محض کتابی مباحث نہیں ہوتے، بلکہ یہ عوام میں حقوق کا شعور پیدا کرتے ہیں، حکمرانوں کے اختیارات کو قانونی اور اخلاقی دائرے میں مقید کرنے کا تصور دیتے ہیں اور اقتدار کے جواز پر سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مضامین کسی بھی آمرانہ یا غیر جواب دہ نظام کے لیے فطری طور پر خطرہ بن جاتے ہیں۔
طالبان بخوبی جانتے ہیں کہ جب نوجوان نسل تاریخ کے تجربات، سیاسی ارتقا اور آئینی اصولوں سے واقف ہو جاتی ہے تو وہ محض طاقت کے بل پر قائم نظم کو طویل عرصے تک قبول نہیں کرتی۔ تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوان، اندھی اطاعت کے بجائے دلیل مانگتے ہیں اور آمریت کو تقدیر نہیں بلکہ ایک عارضی اور قابلِ تبدیلی نظام سمجھتے ہیں۔ یہی شعور طالبان کے اقتدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اسی لیے تاریخ، سیاست، جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے مضامین سب سے پہلے نشانے پر آئے اور انہیں نصاب اور کتب خانوں سے منظم انداز میں خارج کر دیا گیا۔
انسانی حقوق کا خاتمہ: اصل سبب
افغانستان میں انسانی حقوق سے متعلق مضامین کا نصاب سے اخراج محض تعلیمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہرے اور واضح سیاسی و فکری پیغام کا اظہار ہے۔ یہ اقدام دراصل یہ اعلان کرتا ہے کہ فرد کو کوئی فطری یا پیدائشی حقوق حاصل نہیں، بلکہ اس کی حیثیت صرف اتنی ہے جتنی حکمران قوت اسے عطاء کرنا چاہے۔ جب انسانی حقوق کو تعلیم اور قانون دونوں سے خارج کر دیا جاتا ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھنے سے آزاد ہو جاتی ہے اور حکمرانوں کو ہر قسم کی تنقید اور سوال سے بالاتر قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس تصور کے تحت یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اقتدار کی بنیاد قانون، اخلاق یا عوامی رضا پر نہیں بلکہ محض طاقت پر ہے، اور یہی طاقت قانون کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ جب "طاقت ہی قانون ہے” کا اصول نافذ ہو جائے تو انصاف، احتساب اور شہری آزادی جیسے تصورات خود بخود غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے خاتمے کا اصل سبب یہی ہے کہ وہ اقتدار کو ایک اخلاقی اور قانونی دائرے میں مقید کرتے ہیں، جب کہ طالبان کا نظام اقتدار کسی ایسے دائرے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو اس کی مطلق حیثیت کو محدود کرے۔
اسی پس منظر میں آئینی قانون، انتخابی نظام اور شہری آزادیوں کو "غیر اسلامی” قرار دے کر ختم کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ دعویٰ نہ صرف علمی اعتبار سے کمزور ہے بلکہ تاریخی حقائق بھی اس کی تردید کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بیعت، شوریٰ، عدل، احتساب اور رعایا کے حقوق جیسے تصورات ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتے رہے ہیں، جو واضح طور پر اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ حکمران مطلق العنان اور ناقابلِ سوال ہو۔ آئینی نظم، اجتماعی مشاورت اور شہری حقوق کی ضمانت کو یکسر غیر اسلامی قرار دینا دراصل اسلام کی وسیع اخلاقی اور قانونی روایت کو ایک محدود اور سیاسی مفاد پر مبنی تعبیر میں قید کرنے کے مترادف ہے۔
یوں انسانی حقوق، عوامی اصولوں اور شہری آزادیوں کا خاتمہ کسی دینی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ اقتدار کے استحکام کی ایک حکمتِ عملی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں فرد اپنے حقوق سے ناواقف ہو، ریاست خود کو جواب دہ نہ سمجھے اور حکمران ہر قسم کی تنقید سے بالا تر رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کی تعلیم کو ختم کر کے دراصل ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھی جا رہی ہے جو قانون اور اخلاق کے بجائے خوف اور طاقت کے سہارے قائم ہو۔
اس جبر کے نتائج اور خطرات
افغانستان میں علم، تحقیق اور فکری آزادی کے خلاف جاری جبر کے نتائج محض تعلیمی دائرے تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پورے معاشرے، ریاستی ڈھانچے اور دینی تشخص پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ نتائج بیک وقت فکری، سماجی، سیاسی اور تہذیبی سطحوں پر ظاہر ہو رہے ہیں، جن میں سب سے پہلا اور سنگین نقصان نوجوان نسل کو پہنچ رہا ہے۔
(الف) نوجوان نسل کا فکری قتل
تعلیم کا بنیادی مقصد ذہن کو جمود سے نکال کر سوال، تجزیے اور تخلیق کی طرف لے جانا ہوتا ہے، مگر طالبان کی پالیسیوں کے نتیجے میں یہی عمل الٹ دیا گیا ہے۔ جب تنقیدی سوچ کو نصاب اور کتب خانوں سے خارج کر دیا جاتا ہے تو نوجوان محض معلومات کے حافظ تو بن سکتے ہیں، مگر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح تنقیدی فکر کا خاتمہ دراصل ذہنی جمود کو جنم دیتا ہے، جو کسی بھی زندہ معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
اسی کے ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کی موت واقع ہوتی ہے، کیونکہ تخلیق آزادیِ فکر کے بغیر ممکن نہیں۔ ادب، تحقیق، سائنسی جستجو اور فکری اجتہاد سب اسی ماحول میں پنپتے ہیں جہاں سوال اٹھانے اور نئے زاویے تلاش کرنے کی اجازت ہو۔ جب یہ راستے بند کر دیے جائیں تو نوجوان نسل محض ماضی کی جامد تعبیرات کو دہرانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ افغانستان کی نئی نسل عالمی علمی دنیا سے مکمل طور پر کٹ جاتی ہے اور فکری تنہائی کا شکار ہو جاتی ہے۔
(ب) افغانستان کا عالمی تنہائی کی طرف جانا
تعلیمی نصاب اور تحقیقی معیارات کو عالمی اصولوں سے کاٹ دینے کا ایک بڑا نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان آہستہ آہستہ عالمی تعلیمی برادری سے باہر ہو رہا ہے۔ جب یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے مضامین بین الاقوامی علمی معیار سے ہم آہنگ نہ ہوں تو افغان جامعات اور ڈگریاں عالمی سطح پر اپنی حیثیت کھو دیتی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر یہ پڑتا ہے کہ افغان طلبہ کے لیے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع محدود بلکہ مسدود ہو جاتے ہیں۔
اسی صورتحال کا ایک اور سنگین پہلو دماغی ہجرت (Brain Drain) کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ جو اساتذہ، محققین اور باصلاحیت نوجوان اب بھی علمی آزادی اور بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں، وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یوں افغانستان نہ صرف حال میں علمی پسماندگی کا شکار ہو رہا ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی اپنے بہترین ذہنوں سے محروم ہوتا جا رہا ہے، جو کسی بھی قوم کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
(ج) مذہب کی بدنامی
ان تمام نتائج میں سب سے خطرناک اور دور رس اثر مذہب کی بدنامی ہے۔ علم، تحقیق اور انسانی حقوق پر عائد کی جانے والی یہ سخت پابندیاں "اسلام” کے نام پر نافذ کی جا رہی ہیں، جس سے دنیا کے سامنے اسلام کا ایک ایسا چہرہ پیش ہو رہا ہے جو جبر، تنگ نظری اور فکری قید و بند سے عبارت ہے۔ حالانکہ اسلامی تاریخ اس کے بالکل برعکس گواہی دیتی ہے۔ اسلام کی تہذیبی روایت علم کے حصول، تحقیق، مکالمے اور اختلافِ رائے کی حوصلہ افزائی سے بھری ہوئی ہے چاہے وہ بغداد کا بیت الحکمہ ہو، قرطبہ کی جامعات ہوں یا اسلامی فقہ میں اجتہاد کی روایت۔
جب جبر کو دین کا لبادہ اوڑھا دیا جائے تو اس کا نقصان صرف معاشرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ خود دین کی اخلاقی ساکھ بھی مجروح ہوتی ہے۔ نئی نسل، جو پہلے ہی فکری گھٹن کا شکار ہے، مذہب کو علم دشمن اور آزادی سلب کرنے والی قوت کے طور پر دیکھنے لگتی ہے، جو بالآخر دینی اقدار سے دوری کا سبب بن سکتی ہے۔ اس طرح طالبان کی یہ پالیسیاں نہ صرف افغانستان کے تعلیمی اور فکری مستقبل کو تاریک کر رہی ہیں بلکہ اسلام کے اس روشن اور انسان دوست پیغام کو بھی مسخ کر رہی ہیں جو صدیوں تک علم و حکمت کی بنیاد بنا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان کی جانب سے عائد کی جانے والی یہ پابندیاں محض چند کتابوں یا مضامین تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنی نوعیت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ علم، اظہارِ رائے اور فکری جستجو ہر معاشرے کے بنیادی حقوق میں شمار ہوتے ہیں، اور جب ان حقوق کو منظم انداز میں سلب کیا جائے تو دراصل فرد کی انسانیت ہی کو محدود کر دیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ پابندیاں افغانستان کے مستقبل پر ایک فکری تالا ہیں، جو نہ صرف موجودہ نسل کی ذہنی نشوونما کو روکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے امکانات کو بھی قید کر دیتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ طالبان علم کے وجود سے انکار کرتے ہیں، بلکہ ان کا بنیادی خوف اس سوال سے ہے جو علم کے ساتھ لازماً جنم لیتا ہے۔ علم انسان کو یہ جرأت عطاء کرتا ہے کہ وہ حالات کو سمجھ سکے، اقتدار کے دعوؤں کا تجزیہ کرے اور دی گئی تعبیرات کو حتمی ماننے کے بجائے ان پر غور و فکر کرے۔ یہی سوال، یہی فکری بیداری طالبان کے قائم کردہ سخت گیر اور غیر جواب دہ نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ چنانچہ وہ علم کو اس حد تک محدود کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ اطاعت پیدا کرے، سوال نہیں۔
تاریخ کا مستقل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جہاں سوال دبائے جائیں، وہاں معاشرہ بظاہر خاموش تو ہو سکتا ہے مگر وہ خاموشی دراصل جمود، خوف اور گھٹن کی علامت ہوتی ہے۔ ایسے معاشروں میں پائیدار امن کبھی قائم نہیں ہو پاتا، کیونکہ امن انصاف اور شعور کے بغیر محض وقتی سکوت کا نام ہوتا ہے۔ اسی طرح ترقی بھی ممکن نہیں رہتی، اس لیے کہ ترقی کی بنیاد تخلیقی سوچ، تحقیق اور آزادانہ مکالمے پر ہوتی ہے، نہ کہ اندھی اطاعت پر۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ جہاں فکری سوالات کو کچلا جائے، وہاں حقیقی دینی اقدار بھی باقی نہیں رہتیں۔ دین کا اخلاقی جوہر اختیار، جبر اور خوف سے نہیں بلکہ شعور، رضامندی اور فہم سے پروان چڑھتا ہے۔ جب مذہب کو سوال سے خوف زدہ کر دیا جائے تو وہ ہدایت کے بجائے محض اقتدار کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔ یوں طالبان کی یہ پالیسیاں نہ صرف انسانی حقوق اور قومی مستقبل کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ اس دین کے روشن، حکیمانہ اور انسان دوست پیغام کو بھی مجروح کر رہی ہیں، جس کی بنیاد علم، تفکر اور سوال پر رکھی گئی تھی۔
علم، سوال اور ایمان کی بقاء
افغانستان میں علم، تحقیق اور فکری آزادی پر عائد کی جانے والی پابندیاں محض ایک ملک یا ایک دور کا المیہ نہیں بلکہ یہ انسانیت اور دین دونوں کے لیے ایک سنگین انتباہ ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سبق بار بار دیتی ہے کہ جب اقتدار اپنے دوام کے لیے علم سے خوف کھانے لگے اور سوال کو بغاوت سمجھ لیا جائے تو معاشرے زوال کی اس ڈھلان پر اتر جاتے ہیں جہاں سے واپسی آسان نہیں رہتی۔ ایسے میں خاموشی وقتی نظم تو پیدا کر سکتی ہے، مگر وہ عدل، ترقی اور امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ علم کا انکار دراصل اس امانت سے انکار ہے جو انسان کو بحیثیتِ خلیفۃ الارض عطاء کی گئی۔ اسلام نے کبھی جہالت کو دینداری کا مترادف نہیں بنایا، نہ ہی اطاعت کو شعور کے بغیر قبول کیا۔ قرآن کی دعوتِ فکر اور سنّتِ نبویؐ کی عملی روایت اس حقیقت کی شاہد ہے کہ ایمان سوال سے گھبرا کر نہیں بلکہ سوال سے گزر کر پختہ ہوتا ہے۔ جو نظام سوال کو کچل دے، وہ خواہ کتنا ہی مذہبی لبادہ اوڑھ لے، دراصل دین کی روح سے دور ہو جاتا ہے۔
انسانی زاویے سے یہ پابندیاں فرد کے وقار پر حملہ ہیں۔ انسان کو سوچنے، سمجھنے اور اپنی رائے قائم کرنے کا حق دیے بغیر کسی معاشرے کو نہ مہذب کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ نوجوان نسل کو فکری قید میں جکڑ دینا وقتی اقتدار کو تو سہارا دے سکتا ہے، مگر قوم کے مستقبل کو تاریکی کے حوالے کر دیتا ہے۔ ایسی پالیسیاں نہ صرف ذہنوں کو بنجر کرتی ہیں بلکہ سماج کو خوف، بے یقینی اور جمود میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس جبر کو دین کے نام پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ جب مذہب کو علم دشمنی، انسانی حقوق کی نفی اور فکری جبر کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود مذہب کو پہنچتا ہے۔ نئی نسل کے ذہن میں دین ایک ایسی قوت کے طور پر ابھرنے لگتا ہے جو سوال سے خوف زدہ اور آزادی سے دشمن ہے، حالانکہ اسلام کی اصل شناخت حکمت، عدل اور انسان دوستی ہے۔ یہ تاثر دین کی دعوت کو کمزور اور اس کی اخلاقی ساکھ کو مجروح کر دیتا ہے۔
اس لیے یہ مضمون محض تنقید نہیں بلکہ ایک تذکیری صدا ہے؛ اہلِ اقتدار کے لیے بھی اور اہلِ علم کے لیے بھی۔ اہلِ اقتدار کے لیے اس لیے کہ طاقت کو قانون اور اخلاق سے بالا تر سمجھنے کا انجام ہمیشہ تباہ کن رہا ہے، اور اہلِ علم کے لیے اس لیے کہ خاموشی بھی بعض اوقات جبر کی تائید بن جاتی ہے۔ علم، سوال اور مکالمہ ہی وہ راستے ہیں جو دین کو زندہ، انسان کو باوقار اور معاشرے کو پائیدار بنا سکتے ہیں۔ یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ جہاں علم پر پہرے ہوں، وہاں ایمان کمزور ہو جاتا ہے؛ جہاں سوال دبائے جائیں، وہاں امن خواب بن جاتا ہے؛ اور جہاں انسان کو سوچنے سے روکا جائے، وہاں نہ دین سلامت رہتا ہے نہ انسانیت۔ اگر افغانستان کو ایک باوقار، پُرامن اور زندہ معاشرہ بنانا ہے تو علم کو قید نہیں، آزاد کرنا ہوگا کیونکہ علم ہی وہ چراغ ہے جس سے ایمان بھی روشن رہتا ہے اور انسان بھی۔




