شہر

میونسپل کارپوریشن انتخابات میں ووٹروں کو شدید مشکلات

ووٹنگ عمل میں بدانتظامی، ذمہ دار انتظامیہ پر سوالات

حالیہ دنوں منعقدہ میونسپل کارپوریشن انتخابات کے دوران ووٹنگ کے عمل میں شدید بدانتظامی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث شہریوں کو اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ووٹر لسٹ میں موجود خامیوں نے انتخابی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعدد معاملات میں ایک ہی خاندان کے افراد کے نام مختلف وارڈز اور الگ الگ پولنگ بوتھس میں درج پائے گئے۔ کہیں دو افراد کے نام دو مختلف حلقوں میں، تو کہیں تین افراد کے نام تین الگ پولنگ مراکز پر درج ہونے سے ووٹرز میں شدید الجھن پیدا ہوئی اور کئی لوگ ووٹ ڈالے بغیر واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔

اس بدانتظامی کا سب سے زیادہ اثر بزرگ شہریوں، خواتین، محنت کش طبقے اور ان ووٹرز پر پڑا جن کے پاس آمد و رفت کی سہولت موجود نہیں تھی۔ نتیجتاً صرف وہی ووٹر اپنا ووٹ ڈال سکے جو باشعور تھے یا جن کے پاس ذاتی سواری دستیاب تھی، جو جمہوریت کے لیے تشویشناک صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔

ووٹنگ کی شرح بڑھانے کے لیے ضروری تھا کہ انتظامیہ ووٹرز کو بروقت ان کے پولنگ اسٹیشن، بوتھ نمبر یا کم از کم پول چٹ فراہم کرتی، لیکن عملی طور پر اس اہم ذمہ داری میں کوتاہی سامنے آئی۔ عوام میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اس صورتحال کا فائدہ ان امیدواروں کو ہوا جن کے پاس وافر مالی وسائل اور افرادی قوت موجود تھی۔

انتخابات کے بعد بھی ضروری ہے کہ مقامی انتظامیہ ان سنگین خامیوں پر سنجیدگی سے غور کرے۔ ووٹر لسٹ کی اصلاح، ایک ہی خاندان کے افراد کے نام ایک ہی پولنگ اسٹیشن پر درج کرنا اور ووٹرز کو بروقت واضح معلومات فراہم کرنا فوری اصلاحات میں شامل ہونا چاہیے۔

وارڈ نمبر 17 کے متعدد ووٹرز کو اس مسئلے کا براہِ راست سامنا کرنا پڑا، تاہم یہ مسئلہ صرف ایک وارڈ تک محدود نہیں بلکہ پورے شہر کے جمہوری عمل پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر جمہوریت کو مضبوط بنانا ہے تو ووٹنگ کے عمل کو آسان، شفاف اور ووٹر دوست بنانا ناگزیر ہے، ورنہ حقِ رائے دہی صرف کاغذی حق بن کر رہ جائے گا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!