منتخب نمائندے غائب، عوام پریشان – مال ٹیکڑی انڈرگراؤنڈ برج پانی میں ڈوبا، حادثے کا خدشہ بڑھ گیا

29 جنوری 2026 (منور خان) شہر میں بنیادی سہولیات کی خستہ حالی اور انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی ایک بار پھر عوام کے لیے مصیبت بن گئی ہے۔ مال ٹیکڑی علاقہ میں واقع انڈرگراؤنڈ برج نالی کے گندے پانی سے بھر گیا، جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ انڈرگراؤنڈ راستہ شہر کے اہم مقامات کو جوڑتا ہے اور روزانہ سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیاں یہاں سے گزرتی ہیں۔ مگر نکاسیٔ آب کے ناقص انتظام کی وجہ سے نالی کا گندے یہاں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ اس بار بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی، جہاں برج تالاب کا منظر پیش کرنے لگا۔

جان خطرے میں ڈال کر سفر : پانی بھر جانے کے باعث کئی موٹر سائیکل سوار، آٹو رکشہ اور کار ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ لوگوں نے مجبوراً اپنی گاڑیاں ریلوے پٹری کے اوپر سے گزارنے کی کوشش کی، جو انتہائی خطرناک عمل ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر اسی دوران ٹرین گزر جائے۔
علاقہ کے لوگوں مطابق، “ہم روزانہ اسی راستے سے کام پر جاتے ہیں۔ پانی بھر جانے سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ جان کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ کئی بار گاڑیاں بند ہو جاتی ہیں اور لوگوں کو دھکا لگا کر نکالنا پڑتا ہے۔”
انتخابی وعدے، مگر عمل ندارد شہریوں نے اس صورتحال پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران سڑکوں کی مرمت، نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری اور ٹریفک مسائل کے حل کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے۔ امیدواروں نے خود کو “عوام کا خادم” قرار دیا تھا، مگر کامیابی کے بعد کوئی بھی اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کو تیار نہیں۔
مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ نیا نہیں بلکہ کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے۔ ہر بار شکایات کی جاتی ہیں، افسران موقع کا دورہ بھی کرتے ہیں، مگر مستقل حل کی طرف کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
طلبہ اور مریض سب متاثر -اس راستے کے بند ہونے یا پانی میں ڈوب جانے سے اسکول جانے والے طلبہ، ملازمین اور مریض سبھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ایمبولینس گاڑیوں کی آمد و رفت میں بھی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، جو کسی ہنگامی حالت میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ
شہریوں نے میونسپل کارپوریشن اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ: برج سے فوری طور پر پانی نکالنے کے لیے پمپنگ سسٹم لگایا جائے
نکاسیٔ آب کی نالیوں کی صفائی کی جائے مستقل ڈرینیج سسٹم تیار کیا جائے
خطرناک حالات کے پیش نظر عارضی طور پر ٹریفک کی متبادل راہ فراہم کی جائے
عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہاں کسی بھی وقت جانی نقصان ہو سکتا ہے، جس کی پوری ذمہ داری متعلقہ حکام اور منتخب نمائندوں پر عائد ہوگی۔
شہریوں کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے: “الیکشن کے وقت وعدے کرنے والے رہنما اب کہاں ہیں، اور عوام کو اس مصیبت میں تنہا کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟”




