خطرہ! خطرہ! عالمی سیاست میں خوف کی مارکیٹنگ


✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
خواتین و حضرات! آئیں خوش آمدید کہیں عالمی سیاست کے عظیم الشان سرکس میں، جہاں رسّی پر چلنے والے مداریوں کی جگہ سفارت کار ہیں، اور آگ کے دائروں میں سے گزرنے والے شیروں کی جگہ میزائلوں کے ماڈل۔ اسٹیج کے ایک طرف ایران اپنے دفاعی ساز و سامان کی نمائش میں مصروف ہے، اور دوسری جانب امریکہ ہاتھ میں میگا فون لیے اعلان کر رہا ہے: "خطرہ! خطرہ! ممکنہ خطرہ!”۔ تماشائی حیران ہیں کہ خطرہ کہاں ہے؟ زمین پر، فضاء میں، یا پریس کانفرنس کے مائیک میں؟
یہ وہ دنیا ہے جہاں میزائلوں کی رینج سے زیادہ بیانات کی رینج طویل ہو چکی ہے۔ ایک ملک کہتا ہے: "ہمارا پروگرام پُرامن ہے”، دوسرا کہتا ہے: "ہمیں اس امن سے ہی خطرہ ہے!” گویا اب امن بھی وضاحت طلب ہو گیا ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ یہ فرماتے ہیں کہ ایرانی میزائل "جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں”، تو نقشے کانپتے نہیں، مگر ٹی وی اسکرین ضرور چمک اٹھتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے جغرافیہ کی کتاب کو اچانک سیاسی تھرلر ناول میں بدل دیا گیا ہو۔ ادھر تہران کے ترجمان مسکرا کر کہتے ہیں: "جناب! ہمارے میزائل سیاحتی ویزا پر نہیں نکلے ہوئے!”
حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں خوف صرف ایک جذبہ نہیں، ایک حکمتِ عملی بھی ہے۔ اسے کبھی "Deterrence” کہا جاتا ہے، کبھی "قومی سلامتی”، اور کبھی سادہ لفظوں میں "دیکھو ہم کتنے چوکس ہیں!”۔ طاقتور ملک اگر خطرے کی بات نہ کرے تو عوام پوچھنے لگتے ہیں کہ پھر اتنا بڑا دفاعی بجٹ کس لیے؟ اور اگر خطرہ بیان کرے تو دنیا پوچھتی ہے کہ اتنی طاقت کے باوجود ڈر کیسا؟ یوں یہ کہانی صرف میزائلوں کی نہیں، بیانیوں کی بھی ہے۔ صرف فاصلے کی نہیں، تاثر کی بھی ہے۔ اور صرف سلامتی کی نہیں، سیاست کی بھی ہے۔ آگے جو کچھ آپ پڑھنے جا رہے ہیں، وہ اسی عالمی ڈرامے کی تفصیل ہے جہاں میزائل کبھی سیاح بن جاتے ہیں، اعداد و شمار پاسپورٹ بدل لیتے ہیں، اور خوف بزنس کلاس میں سفر کرتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس اسٹیج کا اصل ہدایت کار کون ہے! حقیقت، مفاد یا محض تالیاں؟
یوں لگتا ہے کہ عالمی سیاست کا اسٹیج ایک بار پھر سج گیا ہے، مرکزی کرداروں میں ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ، اور پس منظر میں ڈھول کی تھاپ پر بیان بازی کا ناچ جاری ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ امریکہ کو اچانک یاد آیا کہ ایران کے میزائل نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی فضاء میں چہل قدمی کر رہے ہیں بلکہ شاید کسی دن سیاحتی ویزا لے کر بحرِ اوقیانوس پار بھی پہنچ جائیں! چنانچہ واشنگٹن سے اعلان ہوا کہ "یہ میزائل یورپ اور ہمارے اڈوں کے لیے خطرہ ہیں، بلکہ ممکن ہے کل ہمارے گھر کی گھنٹی بھی بجا دیں!”
ادھر تہران نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "حضور! یہ سب بڑے جھوٹ ہیں۔ نہ ہمارے میزائل اتنے سیاح مزاج ہیں، نہ ہمارا پروگرام اتنا ڈرامائی!” ایرانی ترجمان نے سوشل میڈیا پر گویا ایک طنزیہ چائے پارٹی سجا دی اور امریکی الزامات کو "فلمی اسکرپٹ” قرار دے دیا۔ اصل مزاح تو یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت، جس کے بحری بیڑے سمندروں میں ایسے گھومتے ہیں جیسے پارک میں بچے سائیکل چلاتے ہوں، وہ ایران کے میزائلوں سے اس قدر خائف دکھائی دے رہی ہے کہ ہر بیان میں ہلکی سی گھبراہٹ جھلکنے لگتی ہے۔ گویا ایک دیو قامت پہلوان محلے کے ایک دبلے پتلے حریف کے ڈمبل دیکھ کر اعلان کر دے کہ "یہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں!”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خبردار کیا کہ ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو "جلد امریکہ تک پہنچ سکیں گے”۔ سننے والے سوچنے لگے کہ یہ میزائل ہیں یا ایکسپریس ڈیلیوری سروس؟ دوسری طرف احتجاجی ہلاکتوں کی تعداد پر بھی لفظی جنگ جاری ہے۔ امریکہ کہتا ہے تعداد زیادہ ہے، ایران کہتا ہے "حضور! حساب کتاب درست کر لیں، یہ ریاضی بھی آپ ہی کی ایجاد ہے!” یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عالمی سیاست اب اقوامِ متحدہ کے فورم سے زیادہ ٹوئٹر کے کمنٹس سیکشن میں طے ہو رہی ہو۔ طنز کی بات یہ ہے کہ جس ملک کے پاس دنیا کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہو، وہ بار بار خطرے کی گھنٹی بجائے تو سوال ضرور اٹھتا ہے: کیا یہ حقیقی خوف ہے یا سیاسی اسٹیج کا ایک اور منظر؟ کبھی کبھی طاقتور بھی اپنے ہی سائے سے چونک اٹھتا ہے اور پھر اسے "عالمی خطرہ” قرار دے دیتا ہے۔ یوں عالمی سیاست کی اس مزاحیہ داستان میں ہر فریق خود کو سنجیدہ اور دوسرے کو ڈرامائی ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، جب کہ تماشائی حیران ہیں کہ اصل اسکرپٹ رائٹر کون ہے!
ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام کوئی آج کی ایجاد نہیں۔ 1980ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران جب شہروں پر میزائل برسے تو تہران نے نتیجہ نکالا کہ "جس کے پاس میزائل نہیں، اس کے پاس مائیک بھی نہیں” یعنی عالمی سیاست میں آواز بھی اسی کی سنی جاتی ہے جو دفاعی صلاحیت رکھتا ہو۔ تب سے ایران نے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کیے، جن کی رینج تقریباً 2000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ اب 2000 کلومیٹر کا ہندسہ واشنگٹن کے نقشے میں امریکہ تک نہیں پہنچتا، لیکن یورپ کے کچھ حصّے اور خطے میں امریکی اڈے ضرور اس دائرے میں آتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی بیانات میں تشویش کی لکیر گہری ہو جاتی ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو "جلد امریکہ تک پہنچ سکیں گے”، تو سنجیدہ ماہرین نقشہ نکال لیتے ہیں اور طنزیہ مزاج لوگ کیلکولیٹر۔ سوال یہ بنتا ہے: کیا یہ ٹیکنیکل تشویش ہے یا سیاسی تھیٹر؟
ایران کا جوہری پروگرام برسوں سے عالمی بحث کا مرکز ہے۔ 2015ء میں جوہری معاہدہ 2015 (JCPOA) ہوا، جس میں ایران نے یورینیم کی افزودگی محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور بدلے میں پابندیوں میں نرمی ملی۔ پھر 2018ء میں امریکہ نے معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ نتیجہ؟ ایران نے بھی بتدریج اپنی جوہری سرگرمیاں بڑھانا شروع کر دیں۔ یوں یہ معاملہ شطرنج کی بساط بن گیا: ایک چال ادھر، ایک جواب اُدھر۔ طنز یہ ہے کہ ہر فریق خود کو "عالمی امن کا اصل چوکیدار” ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، جب کہ تماشائی سوچتے ہیں کہ اگر سب چوکیدار ہیں تو محلے میں اتنی بے چینی کیوں ہے؟ جنوری کے احتجاجی واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد پر بھی شدید اختلاف ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک عدد بتاتی ہیں، ایرانی حکام دوسرا، اور امریکی بیانات تیسرا۔ یہاں ریاضی واقعی بین الاقوامی ہو جاتی ہے۔ ہر فریق اپنے ذرائع کو معتبر اور مخالف کے اعداد کو "سیاسی پروپیگنڈا” قرار دیتا ہے۔ گویا اعداد و شمار بھی پاسپورٹ لے کر کیمپ بدل لیتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کا دفاعی بجٹ دنیا میں سب سے بڑا ہے، اس کے بحری بیڑے متعدد سمندروں میں موجود ہیں، اور درجنوں ممالک میں اس کے فوجی اڈے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر خوف کس بات کا ہے؟ دیکھا جائے تو بڑی طاقتیں اکثر ممکنہ خطرات کو ابتدائی مرحلے پر ہی روکنے کی حکمت عملی اپناتی ہیں۔ اسے "Deterrence Doctrine” کہا جاتا ہے یعنی خوف کو بیان کر کے ہی خطرے کو محدود کرنا۔ لیکن طنزیہ انداز میں یوں لگتا ہے جیسے ایک دیو قامت پہلوان اس بات پر پریس کانفرنس کر رہا ہو کہ "محلے میں ایک نیا لڑکا جم جا رہا ہے، عالمی امن خطرے میں ہے!”۔ سیاسی تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کا معاملہ صرف میزائلوں تک محدود نہیں۔ اس میں مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کی سیاست، اسرائیل کی سلامتی، خلیجی ممالک کے مفادات، اور امریکی داخلی سیاست سب شامل ہیں۔ کبھی کبھی عالمی خطرات کا بیانیہ اندرونی سیاسی مقبولیت بڑھانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ دشمن جتنا بڑا دکھائی دے، لیڈر اتنا ہی مضبوط نظر آتا ہے۔
یوں اس پوری داستان میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ طاقتور ملک بھی "ممکنہ خطرے” کو نمایاں کر کے اپنی پالیسیوں کا جواز پیش کرتا ہے، جب کہ دوسرا فریق اسے "سیاسی ڈراما” قرار دیتا ہے۔ تماشائیوں کے لیے یہ ایک سنجیدہ موضوع ہے، مگر بیانات کا انداز اکثر طنزیہ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ کبھی میزائل "سیاح” بن جاتے ہیں، کبھی اعداد "سیاسی مہاجر”، اور کبھی خوف خود ایک سفارتی ہتھیار۔ آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے! کیا یہ حقیقی سلامتی کا مسئلہ ہے؟ یا عالمی سیاست کے اسٹیج پر ایک اور بھرپور مکالمہ جہاں ہر کردار اپنی آواز بلند رکھنا چاہتا ہے تاکہ تالیاں اسی کے حصّے میں آئیں؟
آخرکار پردہ گرتا ہے، روشنی مدھم پڑتی ہے، اور عالمی سیاست کا یہ عظیم الشان شو اپنے اختتام کو پہنچتا ہے! مگر تماشہ ختم نہیں ہوتا، صرف وقفہ آتا ہے۔ اسٹیج کے ایک کونے میں ایران اپنے میزائلوں کو دوبارہ "پارک” کر رہا ہے، اور دوسرے کونے میں امریکہ اگلی پریس کانفرنس کے لیے مائیک چیک کر رہا ہے: "Testing… خطرہ… one, two, three!”۔ تماشائی اپنی نشستوں سے اٹھتے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں: "یہ واقعی خطرہ تھا یا ٹریلر؟”۔ کیونکہ اس ڈرامے میں ایک عجیب تسلسل ہے؛ ہر چند ماہ بعد نیا بیان، نیا خدشہ، نیا "عالمی خطرہ”، اور پھر وہی پرانا سوال: "اب کیا ہوگا؟” اور جواب؟ "دیکھتے رہیے!”
ڈونلڈ ٹرمپ جیسے کردار اس اسٹیج کو مزید رنگین بنا دیتے ہیں، جہاں ایک جملہ ہیڈ لائن بن جاتا ہے اور ایک خدشہ عالمی بیانیہ۔ ادھر تہران کے ترجمان بھی کم نہیں وہ بھی طنز کی چاشنی میں لپٹے ہوئے جوابات دے کر اس کھیل کو برابر کا مقابلہ بنا دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ کوئی سفارتی مکالمہ نہیں بلکہ ایک "ورلڈ کپ آف بیان بازی” ہو جہاں ہر ٹیم اپنی اپنی اسکورنگ میں مصروف ہے۔ اصل سبق شاید یہی ہے کہ عالمی سیاست میں حقیقت اور تاثر کے درمیان فاصلہ کبھی کبھی میزائل کی رینج سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ خوف کبھی حقیقی ہوتا ہے، کبھی مفروضہ، اور کبھی صرف ایک "ضروری بیانیہ” تاکہ بجٹ بھی جواز پائے اور قیادت بھی مضبوط دکھائی دے۔
اور ہم؟ ہم وہی تماشائی ہیں! کبھی سنجیدہ تجزیہ کرتے ہوئے، کبھی ہنستے ہوئے، اور کبھی سر پکڑ کر یہ سوچتے ہوئے کہ: "کیا واقعی دنیا اتنی خطرناک ہے، یا بس اس کا اسکرپٹ بہت اچھا لکھا گیا ہے؟”۔ یوں اس عالمی تھیٹر میں نہ ہیرو مکمل ہیرو ہے، نہ ولن مکمل ولن! سب اپنے اپنے کردار میں مصروف ہیں، اور سب کی کوشش یہی ہے کہ اسٹیج کی روشنی ان پر قائم رہے۔ آخر میں بس اتنا ہی: میزائل اپنی جگہ، بیانات اپنی جگہ!!! مگر سب سے تیز رفتار چیز آج بھی "خوف کی خبر” ہے، جو پل بھر میں سرحدیں پار کر کے سیدھا ذہنوں میں اتر جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلا سین کیا ہوگا! نیا خطرہ، نیا بیان… یا شاید وہی پرانی کہانی، نئے عنوان کے ساتھ!
(27.02.2026)
Masood M. Khan (Mumbai)
masood.media4040@gmail.com




