مضامین

عالمی حدّت، ماحولیاتی بحران اور انسان کی خود ساختہ تباہی

         ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں ترقی، آسائش اور صنعتی انقلاب کے نام پر انسان نے خود اپنے لیے تباہی کے راستے ہموار کر لیے ہیں۔ کرۂ ارض پر بڑھتی ہوئی گرمی، موسمی شدّت، خشک سالی، بے وقت بارشیں، گلیشیئرز کا پگھلنا اور فضائی آلودگی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ فطرت انسان کے ظلم و زیادتی کے خلاف خاموش احتجاج کر رہی ہے۔ آج عالمِ انسانیت جس ماحولیاتی بحران کا سامنا کر رہی ہے، وہ کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اجتماعی خطرہ بن چکا ہے۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار زمین اس تیزی سے موسمی تبدیلیوں کا شکار ہوئی ہے کہ سائنس دان اسے "ماحولیاتی ہنگامی حالت” قرار دے رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی ماہرینِ ماحولیات مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ اگر عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ چند دہائیوں میں دنیا کے کئی علاقے ناقابلِ رہائش ہوسکتے ہیں۔ سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ساحلی شہر ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے جب کہ زرعی نظام تباہ ہونے سے خوراک کا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔ قدرت نے انسان کو زمین پر اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا اور اسے عقل، شعور اور اختیار عطاء کیا تاکہ وہ زمین کی حفاظت کرے، اس کی نعمتوں سے اعتدال کے ساتھ فائدہ اٹھائے اور ماحول کے توازن کو برقرار رکھے۔ لیکن انسان نے اپنی خواہشات، مادّی ترقی اور دولت کمانے کی اندھی دوڑ میں قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال شروع کردیا۔

جنگلات کی کٹائی، فیکٹریوں کا دھواں، گاڑیوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں، پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال اور ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ نے زمین کے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی اگرچہ انسانی سہولت کا ذریعہ بنی، لیکن اسی ترقی نے ماحول کو شدید نقصان بھی پہنچایا۔ ایئرکنڈیشنرز، کارخانوں، پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں اور بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کے استعمال نے فضا میں زہریلی گیسوں کی مقدار میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ اسی طرح پلاسٹک کی آلودگی نے سمندروں، دریاؤں اور زمین کی زرخیزی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ہر سال لاکھوں جانور اور آبی حیات پلاسٹک کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی اور صنعتی سرگرمیوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے اثرات نے زمین کے قدرتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہی نقصانات میں ایک اہم مسئلہ اوزون تہہ کی تباہی بھی ہے۔ اوزون کی تہہ زمین کے گرد ایک حفاظتی حصار کی مانند ہے جو سورج سے آنے والی مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ لیکن فیکٹریوں، کیمیائی مادّوں، اسپرے اور مختلف صنعتی گیسوں کے بے تحاشا استعمال نے اس حفاظتی تہہ کو کمزور کردیا ہے۔ اوزون کی تہہ میں پیدا ہونے والے شگاف انسانی صحت، حیاتیاتی نظام اور ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہورہے ہیں کیونکہ ان مضر شعاعوں کے باعث جلدی امراض، کینسر اور موسمی شدّت میں اضافہ ہورہا ہے۔

اوزون تہہ کی کمزوری اور گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج نے گلوبل وارمنگ کے مسئلے کو مزید سنگین بنادیا ہے۔ زمین کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت دنیا بھر کے گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلا رہا ہے۔ قطبین اور بلند پہاڑی علاقوں میں موجود برفانی ذخائر انسانی زندگی کے لیے قدرتی پانی کے ذخیرے کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن شدید گرمی کے باعث یہ ذخائر مسلسل کم ہورہے ہیں۔ گلیشیئرز کے پگھلنے سے سمندروں کی سطح بلند ہورہی ہے جس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں کے زیرِ آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اسی طرح بے وقت سیلاب، پانی کی قلت اور موسمی بے ترتیبی جیسے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں جو مستقبل میں انسانی بقاء کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

ان تمام ماحولیاتی خطرات کی ایک بڑی وجہ انسان کا بڑھتا ہوا "کاربن فٹ پرنٹ” بھی ہے۔ کاربن فٹ پرنٹ سے مراد وہ مجموعی مقدار ہے جو انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر نقصان دہ گیسوں کی صورت میں فضا میں شامل ہوتی ہے۔ گاڑیوں کا استعمال، بجلی کا بے جا ضیاع، کارخانوں کا دھواں، جنگلات کی کٹائی اور ایندھن کا زیادہ استعمال کاربن فٹ پرنٹ میں اضافہ کرتے ہیں۔ جتنا زیادہ کاربن فضا میں شامل ہوگا اتنی ہی زیادہ زمین کی گرمی میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی روزمرّہ زندگی میں ماحول دوست طرزِ عمل اپنائے، توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کرے اور قدرتی وسائل کے استعمال میں اعتدال اختیار کرے تاکہ زمین کو مزید تباہی سے بچایا جاسکے۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور جدید طرزِ تعمیر نے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شہروں کی توسیع، بلند و بالا عمارتوں، سڑکوں اور رہائشی منصوبوں کی تعمیر کے لیے بڑی تعداد میں درخت کاٹے جارہے ہیں، جس کے نتیجے میں قدرتی سرسبزی تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ انسان نے فطرت کی خوبصورتی کو کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل کردیا ہے جہاں ٹھنڈی ہوا، سایہ دار درخت اور صاف ماحول ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں گرمی کی شدّت دیہی علاقوں کی نسبت کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ کنکریٹ، سیمنٹ اور تارکول سورج کی حرارت کو جذب کرکے دیر تک محفوظ رکھتے ہیں، جس کے باعث شہروں کا درجۂ حرارت مسلسل بلند رہتا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اس صورتحال کو "اربن ہیٹ آئی لینڈ” یعنی شہری حرارتی جزیرہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب گاڑیوں کا بے ہنگم اضافہ، فیکٹریوں کا دھواں اور آبادی کا دباؤ فضائی آلودگی میں مزید اضافہ کررہا ہے۔ صاف ہوا، کھلے میدان اور قدرتی ماحول کی کمی انسان کی جسمانی و ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ شہروں کی منصوبہ بندی میں ماحول دوست اصولوں کو ترجیح دی جائے۔ نئی تعمیرات کے ساتھ شجرکاری کو لازمی بنایا جائے، پارکس اور سبزہ زار قائم کیے جائیں اور ایسے منصوبے متعارف کروائے جائیں جو قدرتی ماحول کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں۔ کیونکہ اگر شہری ترقی صرف کنکریٹ، دھویں اور ہجوم کا نام بن جائے تو یہ ترقی انسان کے سکون اور بقاء دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا میں کاربن گیسوں کے اخراج میں سب سے زیادہ حصّہ صنعتی ممالک کا ہے، مگر ماحولیاتی تباہی کے اثرات غریب اور ترقی پذیر ممالک زیادہ برداشت کررہے ہیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش، افریقی ممالک اور چھوٹے جزیرہ نما خطے شدید سیلاب، گرمی اور موسمی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں حالانکہ ان ممالک کا آلودگی پھیلانے میں کردار نسبتاً کم ہے۔

عالمی سطح پر درجۂ حرارت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ گرین ہاؤس گیسوں کا بڑھتا ہوا اخراج ہے۔ یہ گیسیں سورج کی حرارت کو زمین کے ماحول میں قید کر لیتی ہیں جس کے نتیجے میں زمین مسلسل گرم ہوتی جارہی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں زمین کے اوسط درجۂ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث موسموں کا توازن بگڑ چکا ہے۔ کہیں شدید گرمی کی لہریں انسانوں کی جان لے رہی ہیں تو کہیں سمندری طوفان اور سیلاب بستیاں اجاڑ رہے ہیں۔

شدید گرمی نے عام انسان کی زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ سورج کی تپش پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، شہروں میں درختوں کی کمی اور کنکریٹ کے جنگلات نے گرمی کی شدّت کو دوگنا کردیا ہے۔ غریب طبقہ، مزدور، کسان اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بجلی کی طویل بندش، پانی کی قلت اور بیماریوں میں اضافہ انسانی زندگی کے لیے ایک مستقل خطرہ بنتا جارہا ہے۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک، سانس کی بیماریوں اور جلدی امراض کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی صرف انسانی صحت ہی نہیں بلکہ معیشت، زراعت اور معاشرتی نظام کو بھی متاثر کررہی ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں کمی، پانی کی قلت اور زمین کی بنجر ہوتی ہوئی حالت کسانوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کررہی ہے۔ کئی ممالک میں خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں پانی اور خوراک کی کمی عالمی تنازعات کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یہ حقیقت بھی نہایت افسوسناک ہے کہ ترقی یافتہ ممالک صنعتی ترقی اور معاشی طاقت کے حصول کے لیے ماحول کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بڑے بڑے کارخانے، ایٹمی تجربات، جنگی ہتھیاروں کی تیاری اور بے قابو صنعتی سرگرمیاں زمین کے ماحول کو تباہ کررہی ہیں۔ دولت اور ترقی کی دوڑ میں انسان یہ بھول چکا ہے کہ اگر زمین ہی محفوظ نہ رہی تو ترقی، طاقت اور سرمایہ سب بے معنی ہوجائیں گے۔

اسلام بھی انسان کو ماحول کی حفاظت، اعتدال اور صفائی کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں زمین پر فساد پھیلانے سے منع کیا گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہو”۔ یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان اگر قدرتی نظام میں غیر ضروری مداخلت کرے گا تو تباہی اس کا مقدر بن جائے گی۔ درخت لگانا، پانی کو ضائع نہ کرنا، جانوروں اور قدرتی وسائل کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا اسلامی تعلیمات کا حصّہ ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے ماحول کے تحفّظ کو عملی زندگی میں بھی اہمیت دی۔ آپﷺ نے درخت لگانے کی ترغیب دی اور جانوروں پر ظلم سے منع فرمایا۔ ایک حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اگر قیامت قائم ہونے لگے اور کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو اگر ممکن ہو تو اسے لگا دے۔ یہ تعلیم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام تعمیر، سرسبزی اور ماحول کی حفاظت کا دین ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے سمجھے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ صنعتی آلودگی پر سخت قوانین نافذ کریں، شجرکاری کو فروغ دیں، متبادل توانائی کے ذرائع اپنائیں اور عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار کریں۔ اسی طرح ہر فرد کی بھی ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھے، پانی اور بجلی کا ضیاع روکے، درخت لگائے اور فطرت کے ساتھ محبت کا رویہ اختیار کرے۔ آج کی نوجوان نسل ماحولیاتی تحفّظ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں ماحول دوست سرگرمیوں کو فروغ دینا، سوشل میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کرنا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا اور شجرکاری مہمات میں حصّہ لینا نوجوانوں کی قومی و انسانی ذمّہ داری ہے۔ اگر نئی نسل ماحول کے تحفّظ کو اپنی ترجیح بنالے تو آنے والے وقت میں زمین کو تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔

اگر انسان نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو آنے والے دن مزید خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ انسان کی بقاء کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ وقت فطرت کے ساتھ جنگ کرنے کا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر جینے کا ہے۔ انسان کو سمجھنا ہوگا کہ حقیقی ترقی وہی ہے جو انسانیت، ماحول اور آنے والی نسلوں کے تحفّظ کے ساتھ وابستہ ہو۔ ورنہ دولت اور ترقی کی یہ اندھی دوڑ ایک دن پوری انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گی۔ زمین صرف انسان کی ملکیت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔ اگر آج انسان نے اپنی خواہشات، لالچ اور بے احتیاطی پر قابو نہ پایا تو کل کی دنیا دھواں، پیاس، بھوک اور تباہی کی تصویر بن سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان فطرت کے ساتھ دشمنی ختم کرے اور زمین کو امن، سرسبزی اور زندگی کا گہوارہ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

بحیثیتِ مسلمان ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ یہ زمین، اس کی فضائیں، دریا، پہاڑ، جنگلات اور تمام نعمتیں اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ انسان کو دنیا میں محض حاکم بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ اسے خلیفۃُ الارض کا مقام دے کر اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ زمین میں اصلاح، توازن اور بھلائی کو فروغ دے۔ جب انسان اپنی خواہشات، لالچ اور مادّی مفادات کے لیے قدرتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے تو درحقیقت وہ اللّٰہ کی عطاء کردہ نعمتوں کی ناقدری کرتا ہے۔ قرآنِ مجید بار بار انسان کو غور و فکر، اعتدال اور فساد سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا لوگوں کے اعمال کے سبب” یہ آیت آج کے ماحولیاتی بحران کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔

بڑھتی ہوئی گرمی، آلودگی، خشک سالی، سیلاب اور موسمی بے ترتیبی دراصل انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ اگر انسان توبہ، اصلاح اور ذمّہ داری کا راستہ اختیار نہ کرے تو فطرت کا یہ بگاڑ مزید تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلام ہمیں صرف عبادات ہی نہیں بلکہ ماحول، جانوروں، درختوں، پانی اور زمین کے حقوق ادا کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے صفائی نصف ایمان ہے، اسراف ممنوع ہے اور ہر وہ عمل ناپسندیدہ ہے جس سے انسانوں یا دیگر مخلوقات کو نقصان پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ شجرکاری، پانی کی حفاظت، صفائی اور اعتدال اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصّہ ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان ترقی اور ٹیکنالوجی کو فطرت کی تباہی نہیں بلکہ اس کی حفاظت کا ذریعہ بنائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پاکیزہ، سرسبز اور محفوظ دنیا چھوڑ کر جائیں۔ اگر انسان نے اللّٰہ کے بنائے ہوئے قدرتی نظام کا احترام کیا، ماحول کے ساتھ عدل و توازن قائم رکھا اور اپنی زندگی کو اعتدال کے اصولوں کے مطابق ڈھال لیا تو یہی طرزِ عمل دنیا کے امن، انسانی بقاء اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ورنہ انسان کی بے احتیاطی اور خود غرضی اسے ایسی تباہی کی طرف لے جاسکتی ہے جہاں پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔
🗓 (24.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!