ارے بھائی! ہارن ذرا آہستہ بجاؤ… مسلمان سو رہا ہے!


✍️ شیخ عمران
(مدیر اعلیٰ: چوتھا ستون، ناندیڑ)
آج کا دور تیز رفتاری، سخت مقابلے اور بیداری کا دور ہے۔ ہر قوم تعلیم، اتحاد اور منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان معاشرہ اب بھی غفلت کی گہری نیند میں سویا ہوا ہے۔ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، لیکن ہم جاگنے کے لیے تیار ہی نہیں۔
یہ "ہارن” دراصل ایک علامت ہے—ایک تنبیہ، ایک پکار—جو ہمیں جگانے کے لیے دی جا رہی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں۔ مرکزی و ریاستی سطح پر نت نئے قوانین سامنے آ رہے ہیں، جیسے وقف املاک، تین طلاق، لو جہاد، گئوونش، ایس آئی آر وغیرہ، مگر افسوس کہ ہمارے نوجوانوں اور ذمہ دار افراد میں ان کے بارے میں مطلوبہ شعور موجود نہیں۔
آج ہمارے نوجوانوں کو تعلیمی، سماجی اور سیاسی میدان میں صفِ اول میں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ ہماری بنیاد ہی "اقراء” سے رکھی گئی تھی۔ اسلام ہمیں عدل، انصاف، مساوات، اتحاد اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، لیکن افسوس کہ آج ہمارے نوجوان اپنی قیمتی صلاحیتیں ہوٹلوں، چائے خانوں اور پان کی دکانوں تک محدود کر چکے ہیں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
"بے مقصد زندگی، زندگی نہیں بلکہ موت ہے۔”
آج ہم اپنے مقصدِ حیات کو بھلا کر ایک بے سمت زندگی گزار رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟
یقیناً اس کے ذمہ دار صرف نوجوان ہی نہیں، بلکہ والدین اور وہ تنظیمیں بھی ہیں جو خود کو قوم کا رہنما کہتی ہیں۔
ہمارے شہر ناندیڑ میں حالیہ قتل کی واردات اور گینگ وار میں مسلم نوجوانوں کی شمولیت ایک سنگین لمحۂ فکریہ ہے۔ قرآنِ کریم نے ہمیں "خیرِ امت” قرار دیا، مگر ہمارے اعمال اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
جو ہو چکا، سو ہو چکا—اب وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں، بامقصد زندگی اختیار کریں اور اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کریں۔
اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کی جائے اور ان میں تعلیمی، اخلاقی اور دینی شعور پیدا کیا جائے۔
رات بھر ہوٹلوں اور چائے خانوں میں وقت ضائع کرنے کے رجحان کو ختم کیا جائے۔
برائیوں اور جرائم سے دور رہنے کی ترغیب دی جائے۔
نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت میں لگا کر انہیں ملت کے مفاد کے لیے تیار کیا جائے۔
ان کے اندر سیاسی شعور بیدار کیا جائے تاکہ وہ اپنے حقوق کو پہچان سکیں۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں، جبکہ ملی جماعتوں اور علماء کرام کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ علماء کو چاہیے کہ خطبۂ جمعہ میں موجودہ حالات پر روشنی ڈالیں اور قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فراہم کریں۔
مزید برآں، "اصلاحِ معاشرہ” کے عنوان سے باقاعدہ مہم چلائی جائے، اور ہر گلی و محلے میں مرد و خواتین کے لیے اصلاحی و تعلیمی پروگرام منعقد کیے جائیں۔
یاد رکھیں!
اگر ہم آج نہ جاگے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خود کو بدلیں، ورنہ زمانہ ہمیں پیچھے چھوڑ دے گا۔
جاگو! یہ وقت جاگنے کا ہے—ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔
ابھی نہیں تو کبھی نہیں!




