صدر محترم جمعیۃ علماء اترپردیش کا ملک کی آزادی کے موضوع پر ایک پرمغز بیان آزادیٔ وطن کی مختصر داستان
بقلم: حضرت مولانا سید اشہد رشیدی صاحب مہتمم جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد وصدر جمعیۃ علماء اترپردیش نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ، امابعد

!
دوستو اور ساتھیو! ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں علماء اور مسلمانوں کا کیا کردار ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لئے صرف اتناہی کافی ہے کہ جو کردار ہمارا ہے وہ کسی کا نہیں ہے، جو کردار ہمارے بزرگوں نے پیش کیا ہے دوسری قومیں اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں؛ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج مسلم قوم اور ہمارا نوجوان خود اپنے بزرگوں کی تاریخ، کردار اور وطن عزیز کے لئے ان کی قربانیوں سے ناواقف ہے، میں تاریخ وار کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھوں گا، میری گفتگو کے دو موضوع ہوں گے: پہلا موضوع یہ ہے کہ آزادیٔ وطن میں ہمارے بزرگوں کی کیا خدمات رہیں ہیں؟ اس کا ایک سرسری سا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
دوسرا موضوع یہ ہے کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ میں اپنے پہلے موضوع کی طرف آتا ہوں ۔
آزادئ وطن میں مسلمانوں کا کردار
دوستوں اور ساتھیوں ! ایک لمبے عرصہ ہندوستان کے طول وعرض پر مسلمانوں نے حکومت کی اور ملک کو سونے کی چڑیا بنادیا، قومی یکجہتی کو پروان چڑھاتے ہوئے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اس وسیع وعریض ملک کو ایک لڑی میں پرویا، ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور سلطنت کو نقصان پہنچانے والی ہر طاقت کو سرنگو کردیا، ہر طرف خوشحالی تھی امن چین وسکون تھا، نہ کسی کے مذہب سے چھیڑچھاڑ کی جاتی تھی اور نہ کسی سے رنگ ونسل کی بنیاد پر تعصب برتا جاتا تھا؛ لیکن جب حکمران خاندان میں بے راہ روی عام ہوگئی، اقتدار کی کرسی تک پہنچنے والے نفسانی خواہشات کی پیروی میں مصروف ہوگئے اور اپنے فرض منصبی کو بھلا بیٹھے تو خدا کی طرف سے پکڑ آئی اور ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کے نام سے سات سمندر پار سے آنے والی ایک تجارتی کمپنی نے ملک کی سیاست میں دخل دینا شروع کیا، اور مقامی غداروں کو ساتھ لے کر حکومت وقت کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی، فوجی طاقت اور غداروں کی سازشوں نے رنگ دکھایا نتیجہ کے طورپر ملک کے مختلف علاقے یکے بعد دیگرے انگریزوں کے قبضہ میں جاتے رہے، جگہ جگہ مزاحمت بھی ہوئی مگر اپنوں کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے بہت سی ریاستیں دشمنوں کے زیر قبضہ چلی گئیں، شمالی ہند پر پوری طرح تسلط قائم کرنے کے بعد انگریز جنوبی ہند کی طرف متوجہ ہوئے جہاں ان کا سامنا ایک طرف مرہٹوں سے ہوا تو دوسری طرف سلطنتِ خداداد کے امیر ٹیپو سلطان شہیدؒ سے ہوا، جو انگریزوں کی غلامی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
ان کا یہ مقولہ بہت مشہور ہوا: ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسال کی زندگی سے بہترہے‘‘ ہندوستان کے اس سپوت نے وطن عزیزکی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے ۱۷۹۹ء میں جام شہادت نوش کیا اور مادرِ وطن سے محبت کی عجیب وغریب داستان صفحہ ہستی پر رقم کرگیا۔ انگریز افسر نے ان کی لاش پر کھڑے ہوکر یہ کہا تھا: کہ آج ہندوستان ہمارا ہوگیا، متحارب ریاستوں پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد ۱۸۰۳ء میں انگریزوں نے دہلی کا رخ کیا اور اس پر قابض ہونے کے بعد جب یہ اعلان کیا: کہ ’’خلق خدا کی ، ملک بادشاہ سلامت کا اور حکم کمپنی بہادر کا‘‘ تو اس وقت کے سب سے بڑے عالم دین حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلویؒ نے یہ فتویٰ دیا کہ آج ہمارا ملک غلام ہوگیا ہے، ہر ہندوستانی پرفرض ہے کہ وہ ملک کی آزادی کے لئے جہاد کرے، شاہ صاحب کو سزا کے طور پر شہر بدر کیا گیا، ان کو زہر دیا گیا اور ان کے جسم پر
چھپکلی کا اپٹن ملا گیا، جس سے آنکھوں کی روشنی جاتی رہی مگر اس مردِ مجاہد کے پائے استقلال میں ذرہ برابر کوئی جنبش پید ا نہ ہوئی اور وہ اپنے فتویٰ پر قائم رہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک ہر چہار جانب حسب استطاعت مسلمانِ ہند جہاد کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے، شاہ صاحب اور ان کے تلامذہ نے سر سے کفن باندھ کر انگریزوں کے خلاف میدانِ جہاد میں برسر پیکار ہونے کا عزم مصمم کرلیا اور جب ۱۸۱۸ء میں انگریز کا قبضہ پورے ملک پر ہوگیا اور کسی میں چوں کرنے کی بھی جرأت نہیں تھی، اس وقت وطن عزیز کی آزادی کے لئے اگر کوئی طبقہ متحرک تھا تو وہ صرف علماء کرام تھے ، شاہ صاحب کے شاگرد اور ان کے متوسلین تھے جو ملک کے طول وعرض میں گھوم پھر کے مسلمانوں کے دلوں میں انقلاب کی روح پھونکنے میں مصروف تھے۔
حضرت شاہ صاحب کی وفات کے بعد ۱۸۲۴ء میں حضرت سید احمد شہیدؒ اپنے ساتھیوں کے ساتھ میدان کار زار میں کود پڑے اور مادر وطن کی آزادی کے لئے انگریز اور اس کے وفاداروں سے ٹکراگئے، بالاکوٹ کے میدان میں وطن عزیز کی آزادی اور تحفظ کے لئے دشمنوں سے لڑتے ہوئے حضرت سید احمد شہیدؒ مولانا اسماعیل شہیدؒ اور ان کے رفقاء نے ۱۸۳۱ء میں جام شہادت نوش کیا اور یہ ثابت کردیا کہ ہماری گردنیں کٹ تو سکتی ہیں، مگر سامراجی قوتوں کے سامنے جھک نہیں سکتیں، یہی وہ جذبہ تھا جس نے بچے کچے مجاہدین آزادی کو میدان بدل کر پھر سے انگریز کے خلاف صف آراء ہونے کی ہمت عطاکی۔
چنانچہ جب ۱۸۵۷ء میں انگریز وں نے دہلی پر دوبارہ چڑھائی کی اور اس کو اجاڑ دیا، ہزاروں علماء کا قتل کیا ، مدرسوں پر بلڈوزر چلادیا، تو مجاہدین نے اپنا رخ بدلا اور میرٹھ ومظفرنگر کو اپنی کارروائی کا مرکز بنایا اور انگریز کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کردیا جس کی قیادت سیدالطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے فرمائی اور اس میں حضرت مولاناقاسم نانوتویؒ ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت مولانا منیر صاحب نانوتویؒ اور حضرت حافظ ضامن شہیدؒ جیسی بزرگ ہستیوں نے شرکت فرمائی؛ لیکن بقضائے الٰہی اس میں بھی ناکامی ہوئی، مگر مجاہدین کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور اب انہوں نے اپنی توجہ تعلیمی اداروں کے قیام کی طرف مبذول کرلی، چنانچہ ۱۸۶۶ء میں ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کا قیام عمل میں آیا، اس کے بعد ’’مظاہر علوم سہارنپور‘‘ اور پھر ۱۸۷۸ء میں ’’جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی‘‘ کو قائم کیا گیا، ان مدارس کے قیام کے پیچھے اصل مقصد یہ تھا کہ ان اداروں سے ایسی نسل تیار کی جائے جو آزادی ٔ وطن کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دینے کے لئے تیار رہے، چنانچہ دارالعلوم دیوبندکے ایک نامور سپوت حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے آزادیٔ وطن کے لئے ۱۹۰۷ء میں ’’تحریک
ریشمی رومال‘‘ شروع کی اس کو ۱۹۴۱ء تک اس قدر مضبوط کردیا تھا کہ اگر کچھ اپنے لوگ خیانت نہ کرتے تو اسی وقت ہندوستان آزاد ہوجاتا، اس تحریک کو چلانے کی پاداش میں حضرت شیخ الہند اور ان کے رفقاء کو مالٹا میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں؛ لیکن ان بزرگوں کے تربیت یافتہ ساتھیوں نے مایوس ہوکر پیچھے ہٹنے کے بجائے ہندوستان میں ایک نئی تحریک کی بنیاد رکھ دی اور ۱۹۱۹ء میں باقاعدہ ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ کی تشکیل عمل میں آئی، جس نے برادرانِ وطن کو ساتھ لے کر آزادیٔ وطن کے لئے جانی ومالی قربانیاں پیش کیں، اس کے اکابر نے جیلیں کاٹیں، حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ، حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحبؒ، سحبان الہند مولانا احمد سعید صاحبؒ اور مولانا سید فخر الدین احمد صاحب ؒ وغیرہ کی جدوجہد رنگ لائی اور ۱۹۴۷ء میں انگریز کو اپنا بوریا بستر گول کر کے یہاں سے جانا پڑا اور ملک کو غلامی سے چھٹکارا ملا۔ اگر اس مختصر سی تاریخ آزادی پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ ۱۸۰۳ء سے لے کر ۱۹ ۱۹ء تک مکمل آزادی کے حصول کے لئے صرف مسلمان ہی انگریز حکومت سے ٹکراتا رہا اور اپنے ملک کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دیتا رہا جس کی مثال کسی اور قوم کے پاس نہیں ہے۔
نظریۂ شیخ الہندؒ
حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ جب مالٹا سے رہا ہوکر آئے تو اپنے شاگردوں اور متوسلین کو جمع کرکے فرمایا کہ میں نے دورانِ اسارت تحریک آزادی کی ناکامی پر غور کیا تو یہ بات سمجھ میں آئی کہ انگریز’’ لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کرکے ہندوستانیوں کی قوت کو منتشر کرتا رہا اور اپنے اقتدار کو طول دینے میں کامیاب ہوتا رہا،اگر آزادیٔ وطن کی تحریک میں دیگر اقوام کو بھی شامل کرلیا جائے، تو یقینا کامیابی مل جائے گی، چنانچہ آپ نے جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے قومی اتحاد ویکجہتی کا نعرہ بلند کیا اور بلا تفریق مذہب وملت ہر ہندوستانی کو جہاد آزادی میں شرکت کی دعوت دی اور جب متحدہ کوشش ہوئی تو دیش آزاد ہوگیا، آج بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور نفرت کی آندھی سے بچانے کے لئے قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اسی سے اقوام کا ایک دوسرے پر اعتماد بحال ہوگا اور پیار ومحبت عام ہوگا، نیز ملک کو کمزور کرنے والی طاقتوں کو ناکام بنانا ممکن ہوسکے گا۔
موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں
میری گفتگو کا دوسرا موضوع یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہمیں کس طرح کا کردار پیش کرکے ہوا کے رخ کو بدلنے کی کوشش کرنی ہے؟ دوستوں! ہمارے ملک میں فرقہ پرست طاقت نفرت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے وہ ہندوستانیوں کے شیرازہ کو بکھیر نے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، ان حالات میں ہمیں انفرادی واجتماعی ہر سطح پر قومی اتحاد کو فروغ دینے اور آپسی میل ملاپ کو پروان چڑھانے کے لئے قربانیاں دینی چاہئے، غصہ کو قابو میں کرنے اور انتقامی جذبات پر کنٹرول رکھنے کی ضرورت موجودہ وقت میں پہلے سے زیادہ ہے ، قومی یکجہتی کو بڑھاوا دے کر ہی ہم فرقہ پرست طاقتوں کو کنارے لگانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ اگر ہم نے کسی اور طرح کا (نامناسب) کردار پیش کیا اور کسی بھی موقع پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کا سیدھا فائدہ فرقہ پرست قوتوں کو پہنچے گا، اور ملک نفرتوں کی آماجگاہ بن جائے گا۔
دوسرے نمبر پر ہمیں اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش میں مصروف ہوجانا چاہئے؛ کیونکہ اگر وہ راضی نہ ہوا تو ساری دنیا مل کر بھی ہم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکے گی، چنانچہ ایک حدیث قدسی میں نبی کریم علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ اﷲ رب العزت یہ کہتا ہے کہ میں شہنشاہوں کا شہنشاہ ہوں، اگر میری فرمابرداری کی جائے گی تو میں حکامِ وقت کے دلوں میں مخلوق کے لئے نرمی پیدا کردوں گا، ورنہ تو شدائد ومشکلات انسانوں کو گھیر لیں گی، ارشاد نبوی ا ہے:عن أبي الدرداء ؓقال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن اللّٰہ تعالیٰ یقول: أنا اللّٰہ لا الہ إلا انا، مالک الملوک، وملک الملوک قلوب الملوک في یدي، وان العباد إذا اطاعوني حولت قلوب ملوکھم علیہم بالرحمۃ والرأفۃ، وان العباد إذا عصوني حولت قلوبہم بالسخطۃ والنقمۃ، فسامو ھم سوء العذاب۔ (الحدیث مشکوۃ ؍۳۲۳)حضرت ابودرداءؓ سے نبی کریم علیہ السلام کا یہ فرمان مروی ہے کہ اللہ رب العزت یہ فرماتا ہے کہ میں خداہوں میرے سوا کوئی خدانہیں ہے، میں شہنشاہوں کا شہنشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں، بندے جب میری اطاعت وفرمانبرداری کرتے ہیں تو میں بادشاہوں اور حاکموں کے دلوں میں ان کیلئے محبت اور نرمی کو پیدا کردیتاہوں ، اور بندے جب میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں حاکموں اور بادشاہوں کے دلوں میں ان کیلئے غیض وغضب اور سختی کا جذبہ پیدا کردیتا ہوں، چنانچہ وہ ان کو سخت ترین پریشانیوں اور مصائب میں مبتلا کردیتے ہیں۔
اس روایت سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ سرکار کسی بھی پارٹی کی کیوں نہ ہو اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والا کسی سیکولر پارٹی کا نمائندہ ہی کیوں نہ ہو، حالات میں نرمی اس وقت تک پیدا نہیں ہوگی جب تک کہ ہم احکام شریعت کی پیروی کرتے ہوئے اپنے رب کوراضی کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔
اس لئے موجودہ حالات سے نکلنے کیلئے ایک طرف ہمیں قومی یکجہتی کو فروغ دینا چاہئے اور دوسری طرف اعمال صالحہ کو انجام دیتے ہوئے زندگی کے ہر قدم پر گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے ، اللہ رب العزت ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازے(آمین) ۔
وصلی اللہ علی النبی الکریم




