سہارنپور کلکٹوریٹ میں صدیوں قدیم مسجد کا رات کی تاریکی میں انہدام انتہائی قابلِ مذمت اور قانون کی بالادستی پر ننگا حملہ: ملی کونسل

نئی دہلی، 7؍ ستمبر(پریس ریلیز) : آل انڈیا ملی کونسل نے اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کلکٹوریٹ کے احاطے میں واقع ایک سو سال سے زائد قدیم تاریخی مسجد کو انتظامیہ کی جانب سے بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں منہدم کیے جانے کے واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
آل انڈیا ملی کونسل کے مرکزی دفتر سے جاری ایک اخباری بیان میں کونسل کے قومی معاون جنرل سکریٹری سلیمان خان نے کہا ہے کہ سہارنپور کی تاریخی مسجد، جو کہ برطانوی دور یعنی 1911ء سے پہلے کی قائم شدہ ہے، کو رات کی تاریکی اور صبح سویرے بلڈوزر چلا کر مسمار کرنا نہ صرف بدنیتی پر مبنی ہے بلکہ آئینِ ہند اور عدالتوں کے ذریعے دیے گئے حقوقِ زیارت و عبادت کا کھلا مذاق ہے۔ سلیمان خان نے عبادت گاہوں سے متعلق قانون(Places of Worship Act, 1991) کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے کہاپارلیمنٹ کا بنایا ہوا 1991ء کا عبادت گاہیں (خصوصی دفعات قانون اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ 15 اگست 1947ء کو کسی بھی مذہبی مقام کی جو قانونی و تاریخی حیثیت تھی، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
سہارنپور کلکٹوریٹ کی یہ مسجد ایک صدی سے زائد عرصے سے قائم تھی اور مسلسل ‘وقف بالاستعمال’ (Waqf by user) کے تحت قانوناً محفوظ تھی۔ انتظامیہ نے پلیسز آف ورشپ ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے آئینی ضمانتوں کو بلڈوزر تلے روند دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب مسجد انتظامیہ عدالت عالیہ (ہائی کورٹ) سے رجوع کرنے کی قانونی تیاری کر رہی تھی، تب انہیں اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا مناسب موقع دیے بغیر اتنی جلدی میں کارروائی کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مقصد صرف قانونی عمل کی تعمیل نہیں بلکہ ایک مخصوص ذہنیت کی تسکین تھی۔ علاوہ ازیں عوامی نمائندوں اور مقامی آبادی کو محبوس کر کے عوام کی آواز کو دبانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔
آل انڈیا ملی کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی اور جلدبازی میں کی گئی انہدامی کارروائی کا فوری طور پر اعلیٰ سطحی عدالتی جائزہ لیا جائے۔ اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور تاریخی و وقف جائیدادوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے 1991ء کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ پر اس کی روح کے مطابق سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ تمام جمہوری اور انصاف پسند قوتیں اس آمرانہ رویے کے خلاف آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی آواز بلند کریں۔ ملی کونسل نے واضح کیا ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے تمام قانونی و آئینی راستے اختیار کیے جائیں گے اور ملک کے آئینی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا جائے گا۔




