قومی

ناندیڑ: "سقوطِ حیدرآباد (ریاست دکن) تاریخ کے آئینے میں” کے زیرِ عنوان عظیم الشان اجلاس، ماہرین کا تاریخی حقائق پر زور

​ناندیڑ، (17 ستمبر 2026): مسلم نمائندہ کونسل ناندیڑ کے زیرِ اہتمام 17 ستمبر کو روشن فنکشن ہال میں "سقوطِ حیدرآباد (ریاست دکن) تاریخ کے آئینے میں” کے عنوان سے ایک اہم اور پروقار جلسہ عام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس اجلاس میں دانشورانِ قوم، نوجوانوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
​17 ستمبر کو ہر سال مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اور اسی تاریخ کو 250 سال سے زائد عرصے تک قائم رہنے والی ریاستِ حیدرآباد کا انڈین یونین میں انضمام بھی عمل میں آیا تھا۔ ان تاریخی واقعات کے حوالے سے بعض عناصر سیاسی مفادات کے لیے تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں تاریخی حقائق کو مستند دستاویزات کی روشنی میں سامنے لانے کے لیے حیدرآباد سے معروف تاریخ دانوں اور ماہرین کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔
​اجلاس کا آغاز سید اکبر کی تلاوتِ کلام مجید سے ہوا، جس کے بعد آصف حسین نے اپنے پرسوز ترانے سے سماں باندھ دیا۔ جلسے کی نظامت مسلم
نمائندہ کونسل کے سیکریٹری جنرل سید عمران نے انجام دی۔
​مسلم نمائندہ کونسل ناندیڑ کے صدر ایڈوکیٹ نصیر الدین فاروقی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے اجلاس کی غرض و غایت بیان کی۔ انہوں نے کہا، "ہم یہ چاہتے ہیں کہ بھارت میں مسلمان کسی بھی طرح کے جھوٹے پروپیگنڈے میں آکر احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں، بلکہ اپنے ماضی کو یاد رکھتے ہوئے مکمل تشخص اور وقار کے ساتھ زندگی گزاریں۔” انہوں نے مزید کہا کہ سقوطِ حیدرآباد سے متعلق سماج میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور نئی نسل کو اصل تاریخ سے واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
​حیدرآباد سے تشریف لائے معروف مصنف و تاریخ داں کیپٹن لنگالا پانڈورنگا ریڈی نے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاستِ حیدرآباد کا انضمام نظام میر عثمان علی خان کی رضامندی سے ہوا تھا اور جب حکومتِ ہند نے فوج بھیجی تو کوئی بڑی مزاحمت نہیں ہوئی۔ حکومتِ ہند نے بعد میں نظام کو ریاست کا گورنر مقرر کیا تھا، اس لیے 17 ستمبر کو ’لبریشن ڈے‘ یا ’مکتی سنگرام دن‘ کے طور پر منانا مناسب نہیں۔ انہوں نے نظام حکومت کے فلاحی اقدامات اور اس وقت کے سیاسی حالات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔
​سینئر صحافی و تجزیہ نگار ڈاکٹر خالد مُلّا نے موجودہ تعلیمی نصاب میں تاریخ کی مخصوص پیش کش پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو کسی ایک زاویے سے دیکھنے کے بجائے حقائق کے پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ تاریخی واقعات کو مخصوص انداز میں پیش کرنے سے نئی نسل اپنے ماضی سے کٹ رہی ہے اور معاشرے میں دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔
​اجلاس کی صدارت کرنے والے سینئر صحافی ڈاکٹر انعام الرحمن غیور نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بعض عناصر سیاسی مفادات کے لیے تاریخی واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے نظام حکومت کے ڈھائی سو سالہ دور کے فلاحی کارناموں، عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام اور چین کے ساتھ جنگ کے دوران میر عثمان علی خان کی جانب سے حکومتِ ہند کو 10 ٹن سونا دینے کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دور میں اعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے لیے اردو کے علاوہ تیلگو، کنڑ، مراٹھی اور انگریزی میں بھی امتحانات دینے کی سہولت موجود تھی، اور نظام کے پورے دورِ حکومت میں کبھی ہندو مسلم فسادات نہیں ہوئے۔
​ڈاکٹر غیور نے رضاکاروں کے کردار پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بعض رضاکاروں اور کمیونسٹوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے زیادتیاں کیں، جن کا میر عثمان علی خان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان چند افراد کے مظالم کو پوری ریاست سے جوڑ کر نظام حکومت کو بدنام کرنا سراسر ناانصافی ہے۔
​اس اہم فکری نشست میں کل ہند تعمیرِ ملّت کے سابق صدر جناب ضیاء الدین نیر صاحب نے بھی خصوصی شرکت کی۔ سامعین نے مقررین کے خیالات کو انتہائی غور سے سنا اور تاریخ کے پوشیدہ پہلوؤں سے روشناس ہوئے۔
​پروگرام کے اختتام پر مسلم نمائندہ کونسل کے سیکریٹری ایڈوکیٹ ندیم پٹھان نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کا باقاعدہ اختتام دعائیہ کلمات پر ہوا۔
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!