حرمین شریفین پر میزائل اور ڈرون حملوں کی مبینہ اطلاعات پر آل انڈیا ملی کونسل کا شدید اظہارِ تشویش و مذمت
مقدس شہروں کی حرمت، زائرین کی سلامتی اور علاقائی امن ہر حال میں یقینی بنایا جائے: آل انڈیا ملی کونسل

نئی دہلی، 27 ؍اکتوبر 2026ء(پریس ریلیز):آل انڈیا ملی کونسل، نئی دہلی نے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی ہے۔ کونسل نے کہا ہے کہ ان مقدس مقامات کی جانب کسی بھی قسم کی جارحیت نہ صرف عالم اسلام کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا باعث ہے، بلکہ یہ مقدس مقامات کے تقدس، شہریوں کی سلامتی اور امن و بقائے باہمی کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔آل انڈیا ملی کونسل کے مرکزی دفتر سے جاری کردہ پریس بیان میں کونسل کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری شیخ نظام الدین نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے غیر معمولی روحانی اور مذہبی اہمیت کے حامل ہیں۔ مکہ مکرمہ میں خانۂ کعبہ واقع ہے، جو مسلمانوں کا قبلہ اور مرکز عبادت ہے، جبکہ مدینہ منورہ رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک ہجرت گاہ اور آپ ﷺ کی نسبت سے عالم اسلام کا نہایت مقدس شہر ہے۔
یہ دونوں شہر محض جغرافیائی مقامات نہیں، بلکہ مسلمانوں کے ایمان، عقیدت، روحانیت، اخوت اور وحدت کی علامت ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مقدس شہروں کی سلامتی اور حرمت کا تحفظ پوری مسلم امت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ حرمین شریفین کی جانب کسی بھی قسم کی جارحیت یا ان کے امن و امان کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی اقدام ناقابلِ قبول ہے۔ مقدس مقامات کی حرمت کا احترام ہر حال میں کیا جانا چاہیے اور ان کی سلامتی کو کسی بھی سیاسی، عسکری یا علاقائی تنازعے کی نذر نہیں ہونے دینا چاہیے۔شیخ نظام الدین نے مزید کہا کہ کسی بھی سیاسی مقصد، عسکری حکمتِ عملی یا علاقائی رقابت کو اس بات کا جواز نہیں بنایا جاسکتا کہ بے گناہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا جائے، زائرین کی سلامتی کو متاثر کیا جائے یا غیر معمولی مذہبی تقدس کے حامل مقامات کو مسلح تنازعات کی زد میں لایا جائے۔
مقدس مقامات کی حرمت اور انسانی جانوں کا تحفظ ایسے بنیادی اصول ہیں جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔آل انڈیا ملی کونسل نے علاقائی تنازعے میں شامل تمام فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں اور اپنے اختلافات کو مذاکرات، سفارتی کوششوں اور پُرامن ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ کونسل نے بین الاقوامی برادری اور متعلقہ عالمی اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کریں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور پورے خطے میں امن و استحکام صرف متعلقہ ممالک اور وہاں کے عوام ہی کے مفاد میں نہیں، بلکہ عالمی امن اور انسانیت کے وسیع تر مفاد کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ مذہبی مقامات کو عبادت، غور و فکر، روحانی سکون اور انسانوں کے درمیان محبت و اخوت کے فروغ کا مرکز رہنا چاہیے، نہ کہ انہیں جنگ و جدال اور عسکری کشمکش کے خطرات سے دوچار کیا جائے۔آل انڈیا ملی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ تمام مذاہب کے مقدس مقامات کا احترام، انسانی جانوں کا تحفظ اور پُرامن بقائے باہمی کی پاس داری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی کا تحفظ محض مسلمانوں کا مذہبی مطالبہ نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، انسانی وقار اور عالمی امن کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک ہے۔




