قومی

جمعیۃ علماء گونڈی کے زیر اہتمام ایک روزہ عظیم الشان اجلاس عام کا انعقاد

اسلام نے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے:مولانا سید ازہر مدنی

ممبئی 13/ اکتوبر جمعیۃ علماء گونڈی کے زیر اہتمام شیواجی نگر گونڈی میں حافظ شمس الحق صدر جمعیۃعلماء گونڈی کی صدارت میں ایک عظیم الشان اجلاس عام "اصلاحِ معاشرہ” کا انعقاد کیا گیا، جس میں کثیر تعداد میں مقامی اوراطراف کےلوگوں نے شرکت کی۔اجلاس کا آغاز قاری سیف الباری کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ مولانا احمد حسین قاسمی (مسجد دار ارقم )اور مفتی شرف الدین اعظمی (امام و خطیب انوار جامع مسجد) نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نعتِ پاک کا نذرانہ پیش کیا۔ جبکہ نظامت کے فرائض جمعیت علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی نے انتہائی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیے۔ اجلاس کے سرپرست اور جمعیت علماء گونڈی کے جنرل سکریٹری مولانا صدر عالم قاسمی نے کارکردگی رپورٹ پیش فرمائی اور حاضر سامعین ،علماء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

مقرر خصوصی مولانا سید ازہر مدنی (ناظم اصلاح معاشرہ، جمعیۃ علماء ہند) نے اپنے کلیدی خطاب میں ’’اصلاحِ معاشرہ کے ضمن میںپڑوسیوں کے آٹھ حقوق، زبان کی حفاظت اور اکرام ضیوف ‘‘کے عنوان پر مفصل روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے معاشرے میں باہمی محبت اور رواداری کو فروغ دینے پر زور دیا۔
مولانا مدنی نے فرمایا کہ اسلامی تعلیمات ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بھی تعلیم دیتا ہے ۔پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی معاشرے میں محبت، اخوت، امن اور بھائی چارے کے فروغ کی بنیاد ہے۔ اسلام نے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔

مولانا نے زبان کی حفاظت پر گفتگو فرماتے ہوئے کہا کہ زبان ایک چھوٹا سا عضو ہے، لیکن اس کے اثرات بہت وسیع ہیں۔ یہی زبان انسان کو عزت و احترام کے مقام پر پہنچاتی ہے اور یہی زبان اسے ذلت و رسوائی سے بھی دوچار کردیتی ہے۔ زبان سے ادا ہونے والا ایک میٹھی بول دلوں میں محبت پیدا کردیتی ہے، جبکہ ایک تلخ جملے سے برسوں کے تعلقات ختم ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے زبان کی حفاظت، سچ بولنے، نرم گفتگو کرنے اور فضول و نقصان دہ باتوں سے بچنے کی خصوصی تعلیم دی ہے۔

انہوں نے اکرام ضیوف کے ضمن میں اپنے بیان میں فرمایا کہ مہمان کی عزت و تکریم، اس کی خاطر مدارت اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ،مہمان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق اس کی خدمت کرنا،اسلامی اخلاق اور اس کی تعلیمات کا اہم حصہ ہے ۔ اسلام نے مہمان نوازی کو ایمان، حسنِ اخلاق اور اعلیٰ معاشرتی اقدار سے جوڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک صالح معاشرہ اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ اگر ہر گھر اپنے پڑوسی کے آرام کا خیال رکھنے لگے، ہر صاحبِ استطاعت ضرورت مند پڑوسی کی مدد کرے، ہر شخص دوسروں کی عزت کی حفاظت کرے اور اختلافات کو لڑائی کے بجائے بات چیت سے حل کرے تو معاشرے میں امن و محبت کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر و نائب امیر شریعت مہاراشٹر) نے "رزقِ حلال کی اہمیت اور برکات اور اصلاح معاشرہ” کے موضوع پر نہایت مؤثر بیان فرمایا اور حلال روزی کمانے اور رزق حرام سے بچنے کی تلقین کی۔اور اصلاح معاشرہ کے بارے میں فرمایا کہ ہر فرد اپنے دائرۂ اختیار میں اصلاح کی کوشش کرسکتا ہے۔ والدین اپنی اولاد کی تربیت کریں، اساتذہ طلبہ کے اخلاق سنواریں، علماء دین کی صحیح تعلیمات عام کریں، تاجر دیانت داری اختیار کریں، نوجوان اپنی صلاحیتیں مثبت کاموں میں لگائیں اور ہر شخص اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کرے تومعاشرہ کی اصلاح ہوجائے گی ۔

مفتی حفیظ اللہ قاسمی (ناظم تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے موجودہ دور میں "نوجوان نسل میں بے راہ روی اور سماج میں پھیلی برائیوں” کی نشاندہی کی اور ان کے ازالہ کے لئے سامعین کو متوجہ کیا۔ اجلاس میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مولانا اشتیاق احمد قاسمی (خازن جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کو کامیاب بنانے میں مولانا محمد اسید قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء شمال مشرقی زون،ممبئی )مفتی محمد احمد (خازن جمعیۃ علماء گونڈی)،مولانا اشرف علی نعمانی (مدرسہ اشرفیہ غیاث العلوم ) مولانا ریاض احمد مظاہری، اور مولانا نسیم احمد ندوی(جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات)قاری محمد یوسف (آفس سکریٹری جمعیۃعلماء گونڈی ) سمیت مقامی یونٹ کے ذمہ داران نے اہم کردار ادا کیا۔آخر میں دعا پر اس پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!