ایم بی بی ایس اور دیگر باوقار تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کا جماعتِ اسلامی ہند ناندیڑ کی جانب سے تہنیتی پروگرام

جماعتِ اسلامی ہند ناندیڑ کی جانب سے آج دفترِ جماعت، نئی آبادی میں ان طلبہ کی حوصلہ افزائی اور تہنیت کے لیے ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا، جنہوں نے ایم بی بی ایس،انجینئرنگ اور آئی آئی ٹی سمیت ملک کے معروف اور باوقار تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرکے نمایاں تعلیمی کامیابی حاصل کی ہے۔تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ماہرِ تعلیم شیخ نجم الدین اور سابق ایجوکیشن آفیسر سرتاج شاکر کو اورنگ آباد سے مدعو کیا گیا تھا۔
پروگرام میں میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کی تعلیمی حصولیابیوں کو سراہتے ہوئے پھولوں کا گلدستہ اور ایک کتاب کا تحفہ دے کر تہنیت پیش کی گئی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ نجم الدین نے کہا کہ میڈیکل شعبے میں داخلہ پانے کے لیے ملت کے طلبہ کی جانب سے پچھلے چند سالوں میں کافی سنجیدہ کوششیں دیکھی جا رہی ہیں، جس کے کافی مثبت اثرات بھی نمایاں طور پر محسوس ہو رہے ہیں اور مسلم طلبہ کا میڈیکل کالجوں میں داخلوں
کا تناسب بڑھ رہا ہے۔انہوں نے ناندیڑ گورنمنٹ میڈیکل کالج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ناندیڑ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں اس سال 30 سے 35 مسلم طلبہ نے فری سیٹ پر داخلہ پانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو اپنے آپ میں ایک بڑی بات ہے۔ جس طرح میڈیکل کی تعلیم کو لے کر سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں، اگر دیگر شعبہ جات میں بھی اسی نوعیت کی کوششیں کی گئیں تو بعید نہیں کہ آئی آئی ٹی، انجینئرنگ، کامرس اور دیگر شعبوں میں بھی مسلم طلبہ کی کامیابی کے تناسب میں اضافہ ہوگاu۔ایم بی بی ایس میں داخلہ پانے والے طلبہ سے شیخ نجم الدین نے خصوصی طور پر گزارش کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرلیں تو اس کے بعد کسی بھی گورنمنٹ اسپتال میں طبی خدمات کی فراہمی کو ترجیح دینا، کیونکہ آپ کی خدمت سے سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے غریب اور بے سہارا لوگوں کا بہتر سے بہتر علاج ہوسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم میں مہارت کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار کو بھی سنوارنا بہت ضروری ہے۔ طبی خدمات انجام دیتے وقت ایمانداری اور دیانت داری سے کام لینا ضروری ہے۔سرتاج شاکر نے اپنی تقریر میں کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دوران سخت محنت اور مستقل مزاجی بہت ضروری ہوتی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دوران کئی بار مشکل مرحلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پست ہمت ہوئے بغیر کوششیں جاری رکھی جائیں تو بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔انہوں نے آئن اسٹائن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں اس کی ریاضی بہت کمزور تھی۔ وہ ٹھیک سے دس تک کے پہاڑے بھی یاد نہیں رکھ پاتا تھا، جس کے لیے اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد اس نے دل میں مضبوط ارادہ کیا اور مطالعہ کرکے ایک عظیم سائنس داں بنا۔ اسی طرح ہم بھی تعلیم کے میدان میں امتیازی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔امیرِ مقامی جماعتِ اسلامی
ناندیڑ پٹھان عابد خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ جماعتِ اسلامی ہند ناندیڑ کی جانب سے منعقد کیے گئے اس پروگرام کا مقصد طلبہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تعلیم، محنت اور اعلیٰ تعلیمی اہداف کے حصول کے جذبے کو فروغ دینا تھا۔ خصوصاً ایم بی بی ایس جیسے پیشہ ورانہ کورس میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کی کامیابی کو قابلِ تحسین قرار دیا گیا۔اس موقع پر طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی مزید کامیابی اور مستقبل میں ملک و ملت کی خدمت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ پروگرام میں تعلیمی میدان میں نمایاں
کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں اپنی محنت کا سلسلہ جاری رکھنے کی ترغیب دی گئی۔جماعتِ اسلامی ہند ناندیڑ کی جانب سے اس طرح کے پروگراموں کے ذریعے طلبہ کی تعلیمی کامیابیوں کو معاشرے کے سامنے لانے اور نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے حوصلہ دینے کی کوشش کی گئی۔تقریب کی نظامت ایس ایم صمیم نے کی، جبکہ اظہارِ تشکر شعبۂ تعلیم کے مقامی سیکریٹری محمد جمیل نے ادا کیا۔ تقریب میں کثیر تعداد میں طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے شرکت کی۔




