شہنشاہ اکبر کے عہد میں فارسی ادب کی تاریخ کی تدوین عصرِ حاضر کی اہم ضرورت ہے : مولانا حارث شیخ
مصنفین نے سادہ اور عام فہم انداز میں فکرانگیز معلومات پیش کی ہیں : ڈاکٹر عبدالرشید شیخ

یو۔ای۔ایس۔ مہیلا مہا ودیالیہ کی اردو گھر تعلیمی سیر کامیاب
فارسی زبان و ادب پرتحریرکردہ تصنیف "عہدِ اکبر میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ و ارتقاء” کی رسمِ رونمائی
سولاپور (اقبال باغبان) : ’’اردو گھر دورہ مہم‘‘ کے تحت یو۔ای۔ایس۔ مہیلا مہا ودیالیہ، سولاپور کی جانب سے تعلیمی سیر، کتب خانے کے مطالعاتی دورے اور ’’عہدِ اکبر میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ و ارتقاء‘‘یہ کتاب کی رسمِ رونمائی پر مشتمل ایک خصوصی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ پروگرام کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زینب نائب کی صدارت و قیادت میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی جمعیت علمائے ہند، شاخ سولاپور کے صدر مولانا حارث شیخ ، مہمانِ اعزازی بی۔کیو۔ گرلز جونیئر کالج کے شعبۂ فارسی کے لکچرر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید شیخ اور روٹری کلب آف سولاپور اسمارٹ سٹی کے ڈائریکٹر اقبال باغبان نے شرکت کی۔ یہ کتاب ایس ۔ایس۔ اے آرٹس اینڈ کامرس کالج سولاپور کے صدرشعبہ اردو اور کو آرڈینٹر پی۔ایچ۔ڈی۔ریسرچ سینٹر پروفیسرڈاکٹرمحمد شفیع چوبدار اور ، شعبہ فارسی، یو۔ای۔ ایس۔ مہیلا مہاودیہ لیہ سولاپور کےاسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرسمیہ باغبان کی تخلیق کردہ ہے۔
مہمانِ خصوصی مولانا حارث شیخ نے اپنے خطاب میں شہنشاہ اکبر کے عہد میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ اور اس کے ارتقاء پر تحقیق و تدوین کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’شہنشاہ اکبر کے عہد کی فارسی ادب کی تاریخ لکھنا عہدِ حاضر کی ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے اس امر کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ فارسی زبان و ادب کے تاریخی سرمایے کو محفوظ کرنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے اس نوعیت کی علمی و تحقیقی کاوشیں ضروری ہیں۔ ان کے مطابق اکبر کے عہد میں فارسی زبان و ادب کی تاریخ کا مطالعہ ماضی کے ادبی و تہذیبی ورثے کو سمجھنے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید شیخ نے کتاب کے علمی و ادبی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مصنفین کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مصنفین نے سادہ اور عام فہم الفاظ میں بڑی فکرانگیز معلومات فراہم کی ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات کو اہم قرار دیا کہ تاریخی اور ادبی موضوعات کو آسان زبان میں پیش کیا جائے، تاکہ عام قارئین اور طلبہ بھی ان سے استفادہ کرسکیں۔ ان کے مطابق کتاب کی سادہ اور قابلِ فہم زبان اس کے علمی مواد کو قارئین تک پہنچانے میں معاون ہے۔
تقریب کے آغاز میں کالج کی پروفیسر ڈاکٹر سمیہ باغبان نے مہمانوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر صدف آراء چوبدار نے انجام دیے۔ رسمِ شکریہ پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے ادا کی۔
تعلیمی سیر کے آغاز میں یو۔ای۔ایس۔ مہیلا مہا ودیالیہ کی طالبات اور اساتذہ نے کالج سے سولاپور اردو گھر تک ایک پُرجوش جلوس نکالا۔ طالبات نے اردو زبان و ادب سے متعلق اقوال اور اشعار پر مشتمل تختیاں اٹھا رکھی تھیں۔اردو گھر پہنچنے پر ناظمِ اردو گھر ساحر نداف اور ’’اردو گھر دورہ مہم‘‘ کے کنوینر پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے طالبات اور اساتذہ کا پُرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انہیں اردو گھر کے اغراض و مقاصد، تعلیمی سرگرمیوں اور دستیاب سہولیات سے واقف کرایا گیا۔کتب خانے کے مطالعاتی دورے کے دوران پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے طالبات اور اساتذہ کو کتب خانے کے قیام، کتابوں کی خریداری اور مطالعے کی سہولیات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ طلبہ و طالبات کو مسابقتی امتحانات کی تیاری میں معاونت فراہم کرنے کے لیے کتابیں بھی کتب خانے میں شامل کی گئی ہیں۔ اس دوران طالبات کو کتب خانے کی افادیت، مطالعے کی اہمیت اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے دستیاب علمی وسائل کے بارے میں مفید کارآمد معلوماتی رہنمائی فراہم کی گئی۔
اس سیر کو کامیاب بنانے میں کالج کے ناظم کتب، ڈاکٹر امر دکشت، ڈاکٹرثمینہ سید، پروفیسرفرزانہ پٹیل، ڈاکٹر مسرورجہاں، پروفیسرعائشہ سوداگر، پروفیسرعمران شیخ، پروفیسر جبرئیل، پروفیسر صدف جہاں، پروفیسر رئیسہ مرزا، ڈاکٹر کوڑی اور سمیرنے خوب محنت کی۔




