مضامین

 بازارِ مفاد پرستی (منسٹروں کے بازار کی ایک طنزیہ سیر)

       

 ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

شہر کے بیچوں بیچ آج کل ایک عجیب و غریب بازار سجا ہوا ہے۔ نام ہے "منسٹروں کا بازار”۔ یہ کوئی عام بازار نہیں جہاں سبزی، کپڑا یا برتن فروخت ہوتے ہوں، بلکہ یہاں انسانوں کے چہروں پر چڑھے نقاب، ضمیر کے سودے، جھوٹ کے ہار، چاپلوسی کے عطر اور مفاد پرستی کے تیار شدہ پیکٹ فروخت ہوتے ہیں۔ بازار کے دروازے پر ایک بڑا سا بورڈ آویزاں ہے: "ایمان بیچنا منع نہیں، صرف قیمت مناسب ہونی چاہیے!”۔ جونہی آدمی اندر داخل ہوتا ہے، ہر طرف رنگ برنگی دکانیں نظر آتی ہیں۔ کہیں اقتدار کے سوداگر بیٹھے ہیں، کہیں ضمیر کے تاجر، کہیں اصولوں کے قصائی اور کہیں اخلاق کے کفن فروش۔

ایک دکان پر غیر معمولی ہجوم تھا۔ میں نے قریب جا کر دیکھا تو اس پر بڑا سا بورڈ لگا تھا: "اصول بدلنے کا کارخانہ”۔ دکاندار نہایت خوش اخلاقی سے آوازیں لگا رہا تھا: "آئیے حضور! یہاں ہر پارٹی کے لیے الگ الگ اصول دستیاب ہیں۔ اقتدار میں ہوں تو جمہوریت بہترین، اپوزیشن میں ہوں تو آمریت خطرناک! صبح کا بیان الگ، شام کی پریس کانفرنس الگ!”۔ سامنے ایک صاحب کھڑے تھے۔ انہوں نے تجسس سے پوچھا: "بھائی صاحب! کوئی ایسا اصول بھی ہے جو ہر حکومت میں یکساں طور پر چل جائے؟”۔ دکاندار نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: "جی ہاں! اسے مفاد کہتے ہیں۔ یہ ہر موسم، ہر جماعت اور ہر حکومت میں یکساں کارآمد رہتا ہے!”۔ یہ سن کر اردگرد کھڑے کئی گاہک اثبات میں سر ہلانے لگے، گویا وہ اس نایاب اصول کے پرانے خریدار ہوں۔

"اصول بدلنے کے کارخانے” سے آگے بڑھا تو ساتھ ہی ایک اور دکان نظر آئی۔ بڑے شوخ حروف میں اس کا نام "یوٹرن سپر اسٹور” لکھا تھا۔ یہاں ہر قسم کے یوٹرن دستیاب تھے؛ چھوٹے، درمیانے، بڑے، بلکہ خاندانی پیک بھی۔ دکان پر خاصی چہل پہل تھی۔ ایک گاہک نے آگے بڑھ کر پوچھا: "کیا کوئی ایسا یوٹرن بھی ہے جس میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے؟”۔ دکاندار نے اعتماد سے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "جی بالکل! یہ ہمارا سب سے مقبول ماڈل ہے۔ اس کے ساتھ مفت وضاحتی پریس کانفرنس بھی دی جاتی ہے، جس میں ثابت کیا جاتا ہے کہ اصل میں آپ نے یوٹرن لیا ہی نہیں تھا، بلکہ عوام آپ کے مؤقف کو سمجھنے میں غلطی کر بیٹھے تھے!”۔ یہ سن کر کئی گاہک مطمئن ہو گئے اور فوراً بکنگ کروانے لگے۔ ایک صاحب نے تو احتیاطاً سالانہ پیکج بھی خرید لیا، تاکہ ضرورت پڑنے پر بار بار وضاحت نہ کرنی پڑے۔

یوٹرن سپر اسٹور کی رونق دیکھ کر میں آگے بڑھا تو ایک نہایت شاندار دکان دکھائی دی۔ سنہری حروف میں اس کا نام "ضمیر مارٹ” لکھا تھا۔ دکان کے باہر ایک دلکش اشتہار آویزاں تھا: "پرانا ضمیر لائیں، نیا عہدہ پائیں!”۔ تجسس کے مارے میں اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک شخص اپنا ضمیر تولوانے آیا ہوا تھا۔ دکاندار نے بڑی مہارت سے ضمیر کو ترازو پر رکھا، کچھ دیر حساب کتاب کیا، پھر افسوس بھرے لہجے میں بولا: "معاف کیجیے جناب! آپ کا ضمیر کافی خالص معلوم ہوتا ہے، اس لیے مارکیٹ میں اس کی زیادہ قیمت نہیں لگے گی”۔ وہ شخص حیران ہو کر بولا: "تو پھر کوئی صورت بتائیے”۔ دکاندار فوراً قریب جھکا اور رازدارانہ انداز میں کہنے لگا: "اگر اس میں تھوڑا سا جھوٹ، کچھ منافقت اور مناسب مقدار میں چاپلوسی ملا دی جائے تو اچھی خاصی قیمت مل سکتی ہے، بلکہ کوئی اعلیٰ عہدہ بھی ہاتھ آ سکتا ہے!”۔ یہ سنتے ہی وہ شخص بےتابی سے بولا: "پھر دو کلو منافقت، ایک کلو چاپلوسی اور آدھا کلو جھوٹ بھی شامل کر دیجیے!”۔ دکاندار مسکرایا، رسید کاٹتے ہوئے بولا: "مبارک ہو جناب! اب آپ کا ضمیر مارکیٹ کے معیار کے مطابق ہو گیا ہے”۔

ضمیر مارٹ سے نکل کر میں بازار کے ایک اور کونے کی طرف بڑھا تو وہاں ایک نہایت مصروف دکان دکھائی دی۔ دکان کے اوپر بڑے دلکش انداز میں "وعدوں کی بیکری” لکھا تھا۔ اندر تازہ تازہ وعدے تیار ہو رہے تھے۔ خوشبو ایسی پھیلی ہوئی تھی کہ عوام بیچارے بےاختیار کھنچے چلے آتے تھے۔ کوئی خوشحال مستقبل کے وعدے خرید رہا تھا، کوئی روزگار کے، اور کوئی فوری ترقی کے خصوصی پیکٹ پسند کر رہا تھا۔ ایک نوجوان نے تجسس سے دکاندار سے پوچھا: "یہ وعدے کتنے دن تک تازہ رہتے ہیں؟”۔ دکاندار نے زور دار قہقہہ لگایا اور بولا: "بیٹا! الیکشن تک تو بالکل تازہ اور خوشبودار رہتے ہیں، لیکن نتائج آتے ہی ان کی مدتِ استعمال ختم ہو جاتی ہے، پھر یہ خود بخود خراب ہو جاتے ہیں!”۔

ابھی نوجوان اس جواب پر حیران ہی تھا کہ اچانک بازار کے لاؤڈ اسپیکر سے ایک پرجوش اعلان گونجا: "خصوصی رعایت! صرف آج کے لیے — قومی خدمت کے نام پر ذاتی مفاد نصف قیمت میں!”۔ اعلان سنتے ہی لوگوں کا ہجوم اس طرف ٹوٹ پڑا۔ کچھ لوگ تو اتنی جلدی میں تھے کہ راستے میں خریدے ہوئے وعدے بھی گرا بیٹھے، مگر انہیں اٹھانے کی زحمت کسی نے نہ کی۔

وعدوں کی بیکری سے آگے بڑھا تو ایک جدید طرز کی عمارت دکھائی دی جس پر روشن حروف میں "سوشل میڈیا فیکٹری” لکھا تھا۔ اندر داخل ہوا تو عجیب منظر تھا۔ کہیں ٹرینڈ تیار ہو رہے تھے، کہیں ہیش ٹیگ پیک کیے جا رہے تھے، اور کہیں جذبات کو مصنوعی رنگوں اور مصالحوں سے مزید تیز بنایا جا رہا تھا۔ ایک نوجوان نے کاؤنٹر پر جا کر پوچھا: "یہ غصّہ کتنے کا ہے؟”۔ مالک نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "حقیقی غصّہ تو بہت مہنگا پڑتا ہے، کیونکہ اس کے لیے تحقیق، شعور اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔ البتہ مصنوعی غصّہ صرف ایک پوسٹ شیئر کرنے پر مفت مل جاتا ہے!”۔ نوجوان نے فوراً ایک پیکٹ اٹھایا اور بغیر پڑھے آگے بڑھ گیا۔

دکان کے ایک کونے میں "فوری ماہرین سازی یونٹ” بھی قائم تھا۔ وہاں چند منٹ کی تربیت کے بعد ماہرین تیار کیے جا رہے تھے۔ کوئی صبح معاشیات پر لیکچر دے رہا تھا، دوپہر میں خارجہ پالیسی کا تجزیہ کر رہا تھا، اور شام ہوتے ہوتے کرکٹ، موسمیات اور عالمی سیاست پر بھی ماہرانہ رائے دینے لگا تھا۔ میں نے ایک نو آموز ماہر سے پوچھا: "آپ کی اصل تخصص کیا ہے؟”۔ وہ اعتماد سے بولا: "فی الحال تو معلوم نہیں، مگر سوشل میڈیا پر لوگ مجھے ہر موضوع کا ماہر مانتے ہیں!”۔

سوشل میڈیا فیکٹری کی ہنگامہ خیزی سے نکل کر میں آگے بڑھا تو ایک نہایت مصروف دکان دکھائی دی۔ دروازے پر چمکتا ہوا بورڈ آویزاں تھا: "چہرہ بدلنے کا سیلون” اندر عجیب رونق تھی۔ سیاستدان، مفکر، تجزیہ نگار اور چند نام نہاد دانشور اپنی باری کے انتظار میں قطار بنائے بیٹھے تھے۔ یہاں ایک ہی شخص صبح قوم پرست، دوپہر میں سیکولر، شام کو مذہبی اور رات کو انقلابی بن کر باہر نکلتا تھا۔ میں یہ رنگا رنگ تبدیلیاں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ آخر نہ رہ سکا اور حجام سے پوچھ بیٹھا: "یہ سب کیسے ممکن ہے؟”۔ حجام نے قینچی ایک طرف رکھتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا: "حضور! یہ دور ہی میک اپ کا ہے۔ یہاں چہرے نہیں، بیانات تبدیل کیے جاتے ہیں”۔ پھر وہ ذرا جھک کر بولا: "اور اگر گاہک خصوصی پیکج لے لے تو ہم ماضی بھی تبدیل کر دیتے ہیں!”۔

سیلون کے بالکل برابر ایک نسبتاً خاموش دکان تھی جس کا نام "عوامی یادداشت سینٹر” تھا۔ یہاں پرانی خبریں، انتخابی وعدے، تقاریر اور تاریخی بیانات بڑی احتیاط سے محفوظ کیے جاتے تھے۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی اہم دکان ہونے کے باوجود وہاں کوئی گاہک نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے دکاندار سے پوچھا: "بابا! کاروبار کیسا چل رہا ہے؟”۔ اس نے ایک طویل آہ بھری اور بولا: "حضور! ہمارے گاہک ہر پانچ سال بعد سب کچھ بھول جاتے ہیں، اس لیے کاروبار چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا” پھر مسکرا کر کہنے لگا: "کبھی کبھار کوئی پرانا وعدہ ڈھونڈنے آ بھی جائے تو لوگ اسے افواہ سمجھ کر واپس چلے جاتے ہیں!”۔

عوامی یادداشت سینٹر سے آگے بڑھا تو ایک نہایت مصروف دکان دکھائی دی جس کے باہر بڑا سا بورڈ آویزاں تھا: "عذر و بہانہ ایمپوریم”۔ یہاں ہر ناکامی، ہر غلطی اور ہر نامکمل وعدے کے لیے تازہ ترین بہانے دستیاب تھے۔ دکان کے مختلف حصّوں پر الگ الگ شعبے قائم تھے۔ ایک کاؤنٹر پر لکھا تھا: "مہنگائی؟ پچھلی حکومت کی وجہ سے!”۔ دوسرے پر درج تھا: "بے روزگاری؟ عالمی حالات ذمّہ دار ہیں!”۔ اور ایک خصوصی کاؤنٹر پر صرف یہ جواب فروخت ہو رہا تھا: "وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا؟”۔ "غلط فہمی ہو گئی تھی!”۔ گاہکوں کا رش اس قدر تھا کہ بعض لوگ پرانے بہانے واپس کر کے نئے ماڈل خرید رہے تھے۔ میں نے دکاندار سے پوچھا: "جناب! آپ کا کاروبار اتنا کامیاب کیسے ہے؟”۔ وہ فخر سے سینہ پھلا کر بولا: "حضور! ہمارے بہانے اتنے مضبوط ہیں کہ حقیقت بھی ان کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے”۔ یہ کہہ کر اس نے ایک نیا بہانہ پیک کیا اور ایک گاہک کے حوالے کر دیا جو بظاہر اپنی اگلی پریس کانفرنس کی تیاری کر رہا تھا۔

دکان سے نکل کر میں بازار کے وسط کی طرف بڑھا تو وہاں ایک عظیم الشان ہال دکھائی دیا۔ دروازے پر سنہری حروف میں لکھا تھا: "جھوٹ ایکسچینج”۔ یہ بازار کا سب سے بڑا اور منظم ادارہ معلوم ہوتا تھا۔ یہاں جھوٹ کی خرید و فروخت عالمی معیار کے مطابق کی جاتی تھی۔ کچھ جھوٹ مقامی پیداوار تھے، کچھ بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے تھے، جب کہ بعض کو "قومی مفاد” کے نام سے خصوصی پیکنگ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ ہال کے اندر ایک صاحب بڑے فخر سے اپنے مال کی تشہیر کر رہے تھے: "ہمارا جھوٹ اتنا مضبوط اور پائیدار ہے کہ سچائی بھی اس کے سامنے شرما جائے!”۔ سامنے بیٹھے ایک رپورٹر نے فوراً قلم سنبھالتے ہوئے پوچھا: "سر! یہ بیان آن ریکارڈ ہے یا آف ریکارڈ؟”۔ صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "بیٹا! اگر عوام مان لیں تو آن ریکارڈ، اور اگر پکڑے جائیں تو آف ریکارڈ!”۔

بازار میں سب سے خاموش دکان ایک بوڑھے شخص کی تھی۔ بورڈ پر لکھا تھا: "سچائی”۔ مگر وہاں کوئی گاہک نہیں تھا، بوڑھا خاموش بیٹھا تھا۔ میں نے پوچھا: "بابا! کاروبار کیسا چل رہا ہے؟”۔ اس نے ٹھنڈی سانس لی اور بولا: "بیٹا! اس بازار میں سچ خریدنے والے کم، اور بیچنے والے زیادہ ہیں”۔ میں کچھ دیر خاموش رہا۔ اتنے میں شور اٹھا کہ "ایمان کی نیلامی” شروع ہونے والی ہے۔ لوگ دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔ ایک شخص چیخ چیخ کر بولی لگا رہا تھا: "یہ ایمان بہت کم استعمال شدہ ہے! صرف چند مواقع پر حق بات کہنے میں استعمال ہوا تھا!” مجمع تالیاں بجانے لگا۔ اسی دوران ایک مفلس آدمی آیا۔ اس کے کپڑے سادہ تھے، مگر چہرہ مطمئن تھا۔ اس نے بازار کا ایک چکر لگایا، پھر مسکرا کر بولا: "یہاں سب کچھ بک رہا ہے، مگر سکون کہیں نظر نہیں آتا۔” لوگ اس کی بات سن کر ہنس پڑے۔ کیونکہ اس بازار میں سچ بولنا سب سے بڑا مذاق سمجھا جاتا تھا۔

واپسی پر میں نے بازار کے دروازے پر ایک نیا جملہ لکھا دیکھا: "یہاں ہر چیز دستیاب ہے، سوائے کردار کے!”۔ نیچے چھوٹے حروف میں ایک نوٹ بھی درج تھا: "کردار کی دستیابی کے متعلق بار بار پوچھ گچھ نہ کریں، یہ چیز مدتوں سے اسٹاک میں نہیں ہے!”۔ میں نے آخری بار مڑ کر بازار کو دیکھا۔ روشنی بہت تھی، رونق بہت تھی، شور بہت تھا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ ہر چہرہ ہنستا ہوا ہونے کے باوجود اندر سے خوفزدہ دکھائی دیتا تھا۔ شاید اس لیے کہ منسٹروں کے بازار میں انسان سب کچھ خرید لیتا ہے، مگر اپنا کھویا ہوا ضمیر کبھی واپس نہیں خرید پاتا۔
🗓 (25.06.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!