مہاراشٹرا

عدل و انصاف کی فتح: آئینی حقوق کی کامیابی

جلگاؤں وقف بچاؤ کمیٹی اور ایکتا سنگھٹنا کا سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر فخرانہ استقبال۔

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
ہمارا عظیم آئین، جو ہماری آزادی کی جدو جہد کی نیک روح کی عکاسی کرتا ہے، سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس آئینی دستور کی حفاظت کی بنیاد پر قائم عدلیہ نے آج ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ایسے وقت میں جب کچھ طاقتیں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کی سازشیں کر رہی تھیں، سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانون 2025 پر اپنے تاریخی فیصلے سے یہ واضح کر دیا کہ آئین کی بالادستی اور عدل کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوگی۔

جلگاؤں میں وقف بچاؤ کمیٹی اور ایکتا سنگٹھنا نے اس عظیم فیصلے کا نہایت پر جوش استقبال کیا۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کر دیا کہ ضلع کلکٹر کا فیصلہ حتمی نہیں ہوگا اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق پر لگائی جانے والی من مانی شرائط جیسے کہ "پانچ سال تک اسلام کے پیروکار رہنا” فوراً معطل کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ ان قوتوں کے لیے ایک زوردار پیغام ہے جو اقلیتوں کے حقوق کو دبانا چاہتے تھے، مگر آئین کی حفاظت کا جذبہ سب پر غالب آیا۔کمیٹی کے روح رواں فاروق شیخ نے کہا:”یہ عدل کی جیت ہے، اقلیتوں کے عزت، حقوق اور بقاء کی کامیابی ہے۔ یہ فیصلہ آئین کی بقا کی علامت ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ہمارے حقوق کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ ہم سماج کو واضح کر دیتے ہیں کہ امتیازی اور من مانی قوانین کبھی قبول نہیں کیے جائیں گے۔”مفتی رمیز نے عدالت کے فیصلے کی اہم خبر کو عوام تک پہنچایا، جبکہ مفتی خالد نے آئندہ کی حکمت عملی کی روشنی میں بتایا کہ کس طرح ہمیں اپنے آئینی حقوق کے لیے مستعد، متحد اور پرعزم رہنا چاہیے۔اس مبارک موقع پر سب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے میٹھائی تقسیم کی اور رب العزت کا شکر ادا کیا۔ انقلابی نعروں کی گونج بلند ہوئی:”عدل کی فتح ‘ من مانی پر کاری ضرب!” سپریم کورٹ زندہ باد – آئین زندہ باد!

"ہمارا حق – ہمیں ملے گا!”وقفی املاک پر نہ ظلم، نہ زیادتی!
"اقلیتوں کی عزت – جمہوریت کی پہچان.” اتحاد میں ہے طاقت – ظلم کے خلاف یکجہتی”.جلگاؤں کی خوشگوار فضاؤں میں مفتی خالد، مفتی رمیز، مولانا رحیم پٹیل، مولانا وسیم پٹیل، فاروق شیخ، ندیم ملک، انیس شاہ، یوسف پٹھان، قاسم عمر، سلیم ایماندار، متین پٹیل، رزاق پٹیل، مولانا غفران اور سید عرفان علی سمیت بے شمار کارکنان کی موجودگی نے اس تاریخی لمحے کو مزید روحانی اہمیت سے بھر دیا۔یہ فیصلہ صرف عدالتی فتوہ نہیں، بلکہ مظلوم اقلیت کی آواز کا عکاس ہے، جو اپنے آئینی حقوق کے لیے مسلسل جدو جہد کرتی رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ ثابت کر دیا کہ عدلیہ صرف قانون کی پیروی کرنے والی ادارہ نہیں، بلکہ آئینی حقوق کی آخری محافظ ہے۔یہ فیصلہ تاریکی میں روشنی کی مانند ہے، جو ہر شہری کے دل میں نیا اعتماد اور عزم پیدا کرتا ہے۔ آج کا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آئین کی بالادستی اور عدل کی حکمرانی سے بڑھ کر کوئی قوت نہیں۔آئیے، ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم ایک ایسا انصاف پسند، مساوات پر مبنی اور آئینی ملک تعمیر کریں گے جہاں ہر شہری کو عزت، وقار اور اس کے حقوق کی مکمل ضمانت دی جائے گی۔ عدل کی فتح ہو – من مانی کا انجام ہو!،آئین زندہ باد – جمہوریت زندہ باد۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!