مہاراشٹرا

حد چاہئیے عقیدت کے واسطے عقیل خان بیاولی، جلگاؤں

اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ اہلِ باطل نے ہر دور میں اس چراغ کو بجھانے کی کوشش کی جسے ربِ کائنات نے خود روشن فرمایا ہے۔ کبھی قرآن کے الفاظ پر وار ہوئے، کبھی رسولِ رحمت ﷺ کی ذات اقدس پر گستاخیوں کے تیر برسائے گئے، کبھی صحابۂ کرامؓ اور اولیاءِ امت کے خلاف زہر اگلا گیا۔لیکن یہ سب کچھ محض سراب ثابت ہوا۔ اس لیے کہ اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری خود ربِ قدیر نے اپنے ذمے لے رکھی ہے، اور وہی رب ہے جو کہتا ہے:
"یریدون لیطفئوا نور اللہ بأفواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون”۔
آج بھی دنیا کے گوشے گوشے میں دشمنانِ اسلام اپنی سازشوں میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں کانپور میں واقعہ پیش آیا جس نے سبھی کو جھنجھوڑ رکھ دیا ۔اور دوسری طرف عاشقانِ مصطفی ﷺ بھی موجود ہیں، جو جان و دل سے دین کے دفاع میں مصروف ہیں۔ کبھی میدانِ احتجاج میں، کبھی عدالت و قانون کے دائرے میں، اور کبھی خاموشی کے پردے میں دعاؤں اور آنسوؤں کے ہتھیار سے۔

مگر عشقِ رسول ﷺ کی راہ محض نعرۂ تکبیر یا جذباتی مظاہرہ نہیں ہے۔ یہ راستہ حد چاہتا ہے، احتیاط چاہتا ہے۔ حالیہ دنوں "I Love Muhammad ﷺ” کے جملے سے مزین کپڑوں ٹی شرٹس کا رواج سامنے آرہا ہے ۔ بظاہر یہ عشق کا نغمہ معلوم ہوتا ہے، مگر ذرا سوچئے: یہ کپڑے کہاں دھلیں گے؟ ان پر بہنے والا پانی کہاں جائے گا؟ یہ کن کن محافل اور کون کون سے مقامات پر پہن کر جایا جائے گا؟ کیا یہ سب ہمارے ادبِ مصطفی ﷺ کے تقاضوں کے مطابق ہے؟۔عشق تو وہ ہے جو عمل میں ڈھل جائے۔ اصل محبت یہ ہے کہ دل اذان کی صدا پر لرز اٹھے، قدم مسجد کی دہلیز پر جا پڑیں، زبان سنتوں کا ذکر کرے، آنکھیں محبوب ﷺ کی ہدایتوں کی پیروی میں اشکبار ہوں۔ یہی اصل "I Love Muhammad ﷺ” ہے، یہی حقیقی محبت ہے۔
جیسا کہ شاعر نے کہا:
؎ کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔

اور ایک اور مقام پر کہا گیا:
؎ نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا۔
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔
افسوس کہ ہم اذان سنتے ہیں مگر خرید و فروخت میں مشغول رہتے ہیں، ہم محبت کے نعرے لگاتے ہیں مگر محبوب کے اسوۂ حسنہ کو بھلا دیتے ہیں۔ یاد رکھیے، عشق صرف لفظوں کا کھیل نہیں، یہ دل و جان کی بندگی ہے۔
جیسا کہ صوفیائے کرام نے فرمایا ہے:
؎ عشق وہ شعلہ ہے جس سے دل جلا نہ سکے
عشق وہ زمزم ہے جس کو بجھا نہ سکے۔
لہٰذا آئیے! ہم اپنی عقیدت کو حدود کے دائرے میں رکھیں۔ اظہارِ محبت ضرور کریں، مگر ایسا جس میں ادب بھی ہو، احتیاط بھی ہو، اور سب سے بڑھ کر اطاعت بھی۔ یہی عشق کا پروٹوکول ہے، یہی ایمان کی جان ہے، اور یہی اسلام کی بقا و سرسبزی کا راز ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!