مضامین

رنگ سخن کے زیر اہتمام ماہانہ شعری و ادبی نشست کا کامیاب انعقاد

محمد ضیاء الدین کی تاریخی تصنیف کا محمد تقی کے ہاتھوںاجراء

ناندیڑ : ۱۱؍ مئی:(نمائندہ خصوصی):۔ اردو گھر ناندیڑ کے ہال میں پروز اتوار ایک پروقار شعری و ادبی نشست منعقد ہوئی، جس میں مصنف و صحافی محمد ضیاء الدین (پربھنی) کی گراں قدر نثری تصنیف "پربھنی ضلع: آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد (تاریخی، سماجی و ثقافتی جائزہ)” کا اجراء عمل میں آیا۔ یہ تقریب کوثر اکیڈمی اور اسماک پبلی کیشنز ناندیڑ کے اشتراک سے ’’رنگِ سخن‘‘ کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی۔کتاب کی رسمِ اجراء روزنامہ ورقِ تازہ ناندیڑ کے مدیرِ اعلیٰ جناب محمد تقی کے ہاتھوں انجام پائی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محمد تقی نے مصنف محمد ضیاء الدین کی علمی و تحقیقی لگن کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ضیاء الدین صاحب نے اپنی انتھک محنت سے پربھنی ضلع کی تاریخ اور سماجی پس منظر کو جس عمدگی سے قلمبند کیا ہے،

وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے مصنف سے اپنے دیرینہ مراسم کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی ادبی دیانت داری کو سراہا۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کے سابق صدر شعبہ اردو ڈاکٹر معید جاوید اور جناب الطاف احمد ثانی( مدیر اعلی روزنامہ عالمی تحریک، ناندیڑ) نے شرکت کی اور کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مصنف محمد ضیاء الدین نے اپنے تاثرات میں اسماک پبلی کیشنز کے مالکان سید رشید اللہ حسینی اور اطہر کلیم سمیت تمام منتظمین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے یہ باوقار تقریب ممکن ہوئی۔رسمِ اجراء کے بعد ادبی محفل کا دوسرا پڑاؤ شعری نشست تھا، جس کی صدارت اردو طنز و مزاح کے ممتاز شاعر تمیز احمد پروازؔ نے کی۔

نظامت کے فرائض معروف ناظمِ مشاعرہ سہیل احمد صدیقی نے اپنے مخصوص دلکش انداز میں انجام دیے۔ شعری نشست میں بیرونی اور مقامی شعراء نے اپنے منتخب کلام سے سماں باندھ دیا۔ مہمان شعراء میں حیدرآباد سے ڈاکٹر معید جاوید، نرمل سے ڈاکٹر واصف قمر، بھینسہ سے مشہور مزاحیہ شاعر کھٹ پٹ بھینسوی اور جالنہ سے فیض سبحانی نے شرکت کی اور سامعین سے خوب داد سمیٹی۔ مقامی شعراء میں محمود علی سحر، عطاء حیدرآبادی، الطاف احمد ثانی، ظہیر الدین بابر، اطہر کلیم، ذیشان توصیف انصاری، محمد دانش، شیخ الیاس ملا، مرزا واجد اور ناظمِ مشاعرہ

سہیل احمد صدیقی نے اپنا کلام پیش کیا۔ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی زبان کے شعراء اشوک سحر اور اشیش ناگلا نے بھی اپنی شاعری کے ذریعے گنگا جمنی تہذیب کی نمائندگی کی۔ صدرِ مشاعرہ تمیز احمد پرواز نے اپنے مخصوص مزاحیہ کلام سے محفل کو زعفران زار بنا دیا۔ تقریب کے آغاز میں سید رشید اللہ حسینی، اطہر کلیم، محمد دانش اور فردین خان نے معزز مہمانوں کا پُرتپاک استقبال کیا۔ پروگرام کے اختتام پر رنگِ سخن کے منتظمین نے تمام شعراء، صحافیوں اور علم دوست حاضرین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کثیر تعداد میں شرکت فرما کر اس ادبی شام کو یادگار بنایا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!