مضامین

کتابوں کے درمیان زمینی سچائی، فکری بیداری اور سیاسی شعور کی ایک اہم آواز


تحریر: عبید باحسین
گزشتہ ہفتے ممبئی کے دادر علاقے میں واقع تاریخی ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر بھون ایک یادگار فکری اجتماع کا مرکز بنا، جہاں ناندیڑ سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی و سیاسی شخصیت فاروق احمد کی کتاب’’مسلمانوں کا سیاسی ایجنڈا‘‘کی شاندار تقریبِ اجرا منعقد ہوئی۔ پربدھ بھارت میڈیا ہاؤس کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی اس تقریب میں ملک بھر سے دانشوروں، صحافیوں، سماجی کارکنان، سیاسی رہنماؤں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر کی موجودگی نے اس تقریب کو مزید تاریخی اور فکری اہمیت عطا کر دی۔

ممبئی جیسے مصروف شہر میں امبیڈکر بھون کا فاروق احمد کے چاہنے والوں، کارکنوں اور فکری حلقوں سے بھر جانا اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ محض ایک کتاب کی رونمائی نہیں بلکہ موجودہ سیاسی حالات میں ایک سنجیدہ فکری مداخلت تھی۔ ناندیڑ، لاتور، اورنگ آباد، پونے، اکولہ اور ممبئی سمیت مختلف شہروں سے آئے ہوئے افراد اس تقریب میں شریک ہوئے۔ کئی تحریکوں سے وابستہ ساتھیوں سے ملاقات ہوئی اور ماحول میں ایک نئی فکری توانائی محسوس کی جا رہی تھی۔

تقریب میںایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر، ریکھا ٹھاکر، جناب مجتبیٰ فاروق، عارفہ خانم شیروانی، سابق آئی پی ایس افسر عبد الرحمن، کامریڈ سمتا پانسرے، سرفراز احمد، کلیم عظیم اور نوین کمار سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔ مقررین نے کتاب کے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جب خوف، نفرت اور سیاسی بے یقینی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، ایسے وقت میں “مسلمانوں کا سیاسی ایجنڈا” جیسی کتاب ایک مثبت، حقیقت پسندانہ اور جرات مندانہ فکری کوشش ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے ایک نہایت اہم اور بے باک بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں سمیت کئی اقلیتی طبقات موجود ہیں، مگر مسلمانوں کے اندر آج بھی سیاسی معاملات پر مولویوں کی سوچ کا غلبہ برقرار ہے۔ ان کے مطابق مسلمان اپنے مذہب اور سماجی مسائل پر کھلے انداز میں بحث نہیں کرتے، جس کا نقصان خود مسلم سماج کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ کتاب ہر مسلم بستی میں پڑھی جانی چاہیے اور اس پر مولویوں اور دانشوروں کے درمیان سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے۔

ایڈوکیٹ امبیڈکر نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ صرف روایتی سیاسی دائروں میں محدود نہ رہیں بلکہ دلت، آدیواسی، او بی سی اور دیگر محروم طبقات کے ساتھ وسیع سماجی و سیاسی اتحاد قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور سنگھ کے خلاف مضبوط متبادل کھڑا کرنے کے لیے سیکولر قوتوں اور اقلیتی طبقات کے درمیان اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے یکساں سول کوڈ کے مسئلے پر بھی مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ صرف جذباتی ردعمل کے بجائے اسکالرس اور مفکرین کے ساتھ علمی و آئینی بنیادوں پر بحث کریں۔

تقریب کے دوران عارفہ خانم شیروانی نے جمہوری حقوق اور ووٹرز کے اختیارات پر بڑھتی ہوئی قدغنوں پر تشویش ظاہر کی، جبکہ سابق آئی پی ایس افسر عبد الرحمن نے مسلمانوں کے تعلق سے کانگریس و دیگر کے رویے پر تنقید کی۔ صحافی نوین کمار نے کہا کہ حقیقی مساوات صرف امبیڈکروادی تحریک میں نظر آتی ہے، جبکہ کامریڈ سمتا پانسرے نے دلت، آدیواسی، او بی سی اور مسلمانوں کی مشترکہ سیاسی طاقت کے قیام پر زور دیا۔

ونچت بہوجن اگھاڑی کی ریاستی صدر ریکھا ٹھاکر نے فاروق احمد کی سماجی وابستگی اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف تقریریں کرنے والے انسان نہیں بلکہ زمینی سطح پر سرگرم رہنے والی شخصیت ہیں۔ دیگلور کے قریب ہونے والے فسادات سے لے کر کولہاپور کے کسی گاؤں میں کسی مسلمان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی تک، وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فوری طور پر پہنچ جاتے ہیں۔ کبھی اکولہ، کبھی ممبئی اور کبھی اورنگ آباد میں پارٹی اور سماجی کاموں کے سلسلے میں ان کی مسلسل موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی فکر اور مقصد کے لیے اپنا سب سے قیمتی وقت وقف کر دیتے ہیں۔

یہ کتاب ہندی زبان میں شائع کی گئی ہے اور دراصل فاروق احمد کی مختلف تقاریر، مشاہدات اور فکری خیالات کا مجموعہ ہے، جسے “پربدھ بھارت” نے شائع کیا ہے۔ کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ تقاریر میں وقت کی کمی کے باعث جو نکات مختصر رہ گئے تھے، انہیں حوالہ جات اور تفصیلات کے ساتھ اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی لیے یہ کتاب محض خطابات کا مجموعہ نہیں بلکہ موجودہ ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کے کردار، مستقبل اور چیلنجز پر ایک سنجیدہ دستاویز بن گئی ہے۔

فاروق احمد کی تقاریر سننے کے ساتھ ان کی تحریر کو پڑھنے میں ایک الگ ہی انقلابی احساس پیدا ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ میں صرف سیاسی گفتگو نہیں بلکہ زمینی سچائی، سماجی درد، فکری بے چینی اور مستقبل کی امید بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ تقریب کے دوران حاضرین بار بار تالیاں بجا کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے کتاب حاصل کی، مصنف سے ملاقات کی اور اس فکری کاوش کو بھرپور انداز میں سراہا۔ امبیڈکر بھون سے نکلتے ہوئے یہ احساس شدت سے موجود تھا کہ بعض کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ وہ سماج کے اندر سوال پیدا کرتی ہیں، سوچ کو بیدار کرتی ہیں اور آنے والے وقت کے لیے نئی راہیں متعین کرتی ہیں۔ ’’مسلمانوں کا سیاسی ایجنڈاــ‘‘ بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے، جو زمینی سچائی، دل کی گہرائی اور اجتماعی فکر کے ساتھ لکھی گئی ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!