آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا

از قلم : صباء فردوس (ہنگولی )
بت پرستی کے ماحول میں آنکھ کھول کر توحید کا اعلان کرنا بتوں کے معبد میں جا کر بت شکنی کی جسارت کرنا ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے آتش نمرود کی پرواہ نہ کر نا رضائے الہی کی خاطر اپنی محبوب بیوی اور نومولود بچے کو بے آب و گیاہ میدان میں تنہا چھوڑنا رب کے حکم پر اپنے فرمانبردار و اطاعت شعار اکلوتے لخت جگر کی گردن پر چھری پھیرنا۔۔۔ آہ کس قدر رب کی اطاعت کے جذبے۔۔۔
پھر یہ توممکن ہی نہیں کے مالک کائنات اس بندے کو اطاعت ورضا کا صلہ نہ دے۔۔۔

وہ اپنے بندے کے لیے آگ کو گلزار بنادیتا ہے۔۔ بیٹے کی پیاس بجھانے کی خاطر دو پہاڑوں کے درمیان دوڑنے والی ماں کے عمل کو رہتی دنیا تک مثال بنا دیتا ہے اور صحرا کے درمیان میں پانی کا میٹھا چشمہ ( آب زم زم ) جاری کر دیتا ہے۔۔ اور اپنے اس اطاعت گزار بندے کو خلیل اللہ کے لقب سے نوازتا ہے۔۔ انبیاء کرام ( میھم السلام ) ہی وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جنہیں یہ نسبت مخلوق زیادہ قرب نصیب ہے۔ قرب قربانی سے آتا ہے اور دین بھی یہی تقاضا کرتا ہے۔ اگر رشد و ہدایت کے ان روشن میناروں کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ان کی زیست کے شب و روز قربانیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کسی کا جسم آرے سے کٹ جاتا ہے تو کوئی زندہ مچھلی کے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔ کسی کے وجود میں کیڑے آجاتے ہیں تو کسی کو کنویں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ سب صبر و استقلال کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اسے مشیت الہی سمجھتے ہیں۔
انہی میں سے ایک ہستی آئی جسے اللہ تعالی نے خلیل اللہ فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ کا دوست – حضرت ابراہیم (علیہ السلام ) – اللہ تعالی نے اپنے دوست سے منفرد قربانیاں لیں مثلاً جان ، مال اور اولاد دوست کو دوست سے عشق اس درجے کا تھا کہ ذرا برابر بھی پایہ استقلال میں لغزش تک نہ آئی ۔ جان کی قربانی کی بات کی جائے تو آگ کا اتنا بڑا آلاؤ جو دور دور تک دکھائی دیتا ہے اس کو سینے سے لگا کر گلزار بنادیا ۔ مال کی قربانی دیکھی جائے تو ہزار ہا بکریوں کے ریوڑ کو ایک بار یار کے نام سنانے کی اجرت پر وار دیا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے دوست سے اولاد کی قربانی جہان سے انوکھی لی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام ) کی زندگی کے تقریباً آٹھ عشرے بیت گئے جب اولاد نرینہ سے نواز ا گیا یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام ) کی پیدائش ہوئی۔ کچھ ہی دن گزرے اشارہ ہوا، ماں بیٹے کو گھر سے دور چھوڑ دیا جائے مشیت ایزدی تھی لہذا عملداری ہوئی ۔ اہلیہ اور بیٹے کو ساتھ لیا صفا و مروی کے قریب جنگل و بیاباں میں آئے۔ کھانے کو کچھ میسر نہ پینے کو کچھ دستیاب ، بس یار کی رضا ہے سب کچھ کروائے جارہی ہے۔ ماں بھوک سے نڈھال، بیٹا پیاس سے بلک رہا ہے، ہونٹ خشک ہوئے جارہے ہیں۔
پانی کی تلاش میں کبھی صفا پر تو کبھی مروی پر تشریف لے جاتیں۔ اضطراب کی کیفیت ہے، تلاش آب میں ادھر والدہ بھاگ رہی ہیں، اُدھر ننھے اسماعیل (علیہ السلام ) ایڑھیاں رگڑ رہے ہیں ننھی ایڑی کی رگڑ سے سنگلاخ زمیں سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ بیٹے کے قدموں کی رگڑ سے جو پانی نکلا وہ آب شفا اور زم زم ٹھہرا اور جہاں ماں کے مبارک قدم لگے ان چوٹیوں کو شعائر اللہ کا شرف نصیب ہوا۔ادھر بیٹا اسماعیل (علیہ السلام ) لڑکپن کی طرف سفر کر رہا ہے اُدھر باپ کو خواب آتا ہے ایسے میرے خلیل ! اپنے دل کے قریب جو چیز ہے اسے میری راہ میں قربان کرو۔ حکم کی تعمیل کا سماں باندھا، ایک کے بعد دوسری قربانی کر رہے ہیں لیکن خواب ہے کہ تھم نہیں رہا ۔
ایک ہی خواب کا تسلسل انہیں یہاں تک لے آیا کہ ماسوی فرزندار جمند اسماعیل (علیہ السلام ) دل کے قریب کچھ بھی نہیں۔ آپ کے دل نے گواہی دی جو آپ سوچ رہے ہیں اس کو عملی جامہ پہنائیں کہیں حکم کی ب آوری میں دیر نہ ہو جائے۔ مصمم ارادہ فرمایا اور لخت جگر کو طلب کیا ، صورت حال سے آگاہ فرمایا تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے سر تسلیم خم کیا۔ سخت ترین آزمائش کا موقع تھا لیکن ایمان بھی تو قوی سے قوی تر تھا جو پیچھےرہنے کہاں دیتا۔۔۔
سامان کا بندو بست کیا اور باپ بیٹا قربان گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ شیطان لعین نے رکاوٹیں ڈالنے کے کئی جتن کیے۔ باری باری سب کے پاس گیا، ماں، باپ اور بیٹا لیکن ماسوی مایوسی اور ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ اُدھر عاشقانِ الہی جب قربان گاہ پہنچے تو حضرت اسماعیل نے عرض کی اتبا حضور آنکھوں پر پٹی باندھ لیں کہیں بیٹے کی محبت میں فرض سے کوتاہی نہ ہو جائے ، باپ نے چھری کی دھار کو تیز کیا کہیں دیر نہ ہو جائے ….
آہ۔۔۔۔۔ یہ فیضانِ نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی۔
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
حضرت اسماعیل (علیہ السلام ) نیچے لیٹتے ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام ) آنکھوں پر پٹی باندھے گردن پر چھری چلاتے ہیں۔ چھری ہے کہ چلنے کا نام نہیں ہے کہ چلنے کا لیتی ، پریشانی بڑھنے لگی کہ کہیں یار ناراض تو نہیں ہو گیا آتے آتے دیر جو ہوگئی ۔ دل میں یہ خیال آتا ہے تو اگلے لمحے چھری چل جاتی ہے۔ جب آنکھ سے پٹی کھولی بیٹا سلامت پاس کھڑا ہے اور جنتی دنبہ ذبح ہوا پڑا ہے۔
اس لمحے آواز آئی ، قرآن کہتا ہے: اے پیارے خلیل ! واقعی تم نے اپنا خواب ( کیا خوب ) سچا کر دکھایا بے شک ہم محسنوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں سو تمہیں مقام خلت سے نواز دیا گیا ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بیٹے کی جان لینا مقصد نہیں تھا بلکہ مقصد دنیا والوں کو سبق دینا تھا کہ جب مالک حقیقی کا حکم آجائے تو مال و متاع کی کیا حیثیت ؟ اولاد کو بھی قربان کر دو اصل قربانی تو باپ بیٹے کی گفتگوں تھی ۔ لیکن افسوس ہمیں آج قربانی کرنا تو یا در ہا لیکن وہ ایمان سے پر لطف گفتگوں ہم بھول گئے ۔۔۔ آہ یہ دنیا اصل قربانی کو
سمجھنے سے قاصر دنیا۔۔۔ فارمالیٹیز نبھانے والی دنیا۔۔۔
یہ وہ خلیل اللہ وذبیح اللہ (علیہ السلام) کی قربانیاں تھیں جن کو اللہ تعالی نے زندہ رکھنے کے لیے ملت ابراہیم کے اعمال میں شامل کر دیا ۔ شمولیت صلہ – کے مترادف ہے۔ آج جب ہمارے سامنے بیت اللہ آتا ہے یا حج بیت اللہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ان ہستیوں کی یاد بھی جز ولازم بن جاتی ہے۔ بیت اللہ کے معمار اعظم بھی آپ ہیں، حج کی ادائیگی کے کثیر اعمال ابراهیم و آل ابراهیم (علیہ السلام ) کی
سنت ہیں جو ادا نہ کیے جائیں تو سفر حج رائیگاں جاتا ہے۔
آپ کی قربانیاں امت محمدی (سالم) کیلیے اپنے اندر کئی سبق سمیٹے ہوئے ہیں جو سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ مقصد حیات یعنی قرب الہی وہ قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ دین قربانی مانگتا ہے اور قربان ہو جانے سے بقا نصیب ہوتی ہے۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں سب اسی ذات کا دیا ہے۔ جو رضا سمجھ کے جھک گیا وہ قرب کے اعلیٰ مقام پر فائض ہو گیا۔ بقول علامہ اقبال
غریب و سادہ و رنگیں ہےحرم داستان
نہایت اس کی حسین ، ابتدا اسماعیل
یہ محض قصے کہانیاں نہیں جو پڑھ کر بھلا دی جائیں بلکہ کسی کے ایمان کی سچی قصے داستان ہے جو متاخرین میں ذکر خیر بن کر محفوظ ہیں۔ کیونکہ اس ابوالانبیاء نے دعا کی
تھی : {وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ } [ الشعراء : ۸۴]
ابراہیم علیہ السلام ایمان و صبر کا وہ باب ہے جس پر دیوانیں رقم کریں تب بھی
کم ہے۔۔۔۔
علامہ اقبال نے کیا ہی خوب کہا ہے:
آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا




