’بی جے پی مردہ باد‘ نعرہ جلاوطنی کی وجہ نہیں؛ ہائی کورٹ کا دوٹوک مؤقف
حکومت کے خلاف بولنا جرم نہیں؛ پولیس کارروائی پر عدالت کی سخت سرزنش

ممبئی، نمائندہ: Bombay High Court نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ حکومت مخالف نعرے لگانا جرم نہیں ہوسکتا اور صرف ‘بی جے پی مردہ باد’ جیسے نعرے لگانے کی بنیاد پر کسی شہری کو شہر بدر (تڑی پار) نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے پولیس کارروائی پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
جسٹس مادھو جامدار کی یک رکنی بنچ کے روبرو سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا، احتجاج کے دوران نعرے لگانا یا اختلاف رائے ظاہر کرنا بھارتی آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت محفوظ حق ہے۔ عدالت نے پولیس سے سخت سوال کیا کہ، “کیا حکومت کے خلاف بولنا جرم ہے؟”
یہ معاملہ سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری سعید احمد عبدالواحد چودھری سے متعلق ہے۔ دسمبر 2025 میں شہریت قانون کے خلاف نکالے گئے احتجاجی مارچ میں انہوں نے ‘بی جے پی مردہ باد’ کے نعرے لگائے تھے، جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف تڑی پار کا حکم جاری کیا تھا۔ تاہم اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور عدالت نے آخرکار اسے منسوخ کردیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی طنزیہ تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ ایک طرف حادثات، اموات اور عوامی مسائل ہیں، جبکہ دوسری طرف صرف پارٹی تبدیلی اور اقتدار کی سیاست پر گفتگو ہو رہی ہے۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ، “ریاست میں آخر چل کیا رہا ہے؟”
اسی دوران عدالت نے سیاسی وفاداری بدلنے کے رجحان پر بھی سخت تبصرہ کیا اور ‘واشنگ مشین’ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی بدلنے کے بعد بعض افراد کے پرانے جرائم بھی جیسے دھل جاتے ہیں۔ عدالت کے اس ریمارک کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔
اس فیصلے نے اظہارِ رائے کی آزادی، جمہوری اقدار اور شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیغام دیا ہے، ساتھ ہی پولیس اختیارات کی حدود بھی واضح کردی ہیں۔




