مضامین

چلو، آج پھر بچپن کی سیر کرتے ہیں! (ناگپاڑہ کی گلیوں سے اٹھتی خوشبوئیں اور یادوں کے ذائقے)

  ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

کچھ سفر قدموں سے نہیں، یادوں سے طے کیے جاتے ہیں۔ کچھ راستے نقشوں میں نہیں، دل کی دھڑکنوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ زندگی کی تیز رفتار گردش میں انسان بظاہر آگے بڑھتا رہتا ہے، مگر اس کے اندر کہیں ایک معصوم سا بچّہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے جو کبھی پرانی گلیوں کی آوازیں سنتا ہے، کبھی دوستوں کے قہقہوں میں کھو جاتا ہے، اور کبھی کسی مانوس خوشبو کے جھونکے کے ساتھ برسوں پیچھے لوٹ جاتا ہے۔ بچپن بھی ایک ایسی ہی سنہری کتاب ہے جس کے اوراق وقت کی گرد میں چھپ تو جاتے ہیں، مگر ان پر لکھی ہوئی محبت، معصومیت اور خوشیوں کی تحریریں کبھی مٹ نہیں سکتیں۔ وہ زمانہ جب خوشیوں کے لیے بڑے وسائل درکار نہیں ہوتے تھے؛ ایک معمولی سا کھلونا، چند دوستوں کی رفاقت، گلی کا ایک کھیل، یا کسی چھوٹی سی دکان کا پسندیدہ ذائقہ ہی پوری دنیا کی خوشی بن جایا کرتا تھا۔

ممبئی (بمبئی) جیسے عظیم شہر کی بھیڑ بھری زندگی میں کچھ علاقے صرف جگہیں نہیں ہوتے، بلکہ اپنے اندر ایک مکمل عہد، ایک تہذیب اور ایک جذباتی تاریخ سمیٹے ہوتے ہیں۔ ناگپاڑہ بھی انہی بستیوں میں سے ایک ہے، جہاں کی گلیوں میں صرف قدموں کی چاپ نہیں، بلکہ نسلوں کی یادیں بستی ہیں۔ یہاں کی ہوا میں بازاروں کی رونق، گھروں کی اپنائیت، مسجدوں کی روحانی فضا، تعلیمی اداروں کی روشنی اور کھانوں کی خوشبوئیں مل کر ایک ایسا منظرنامہ تخلیق کرتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود دل سے جدا نہیں ہوتا۔ کچھ خوشبوئیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف ناک تک نہیں پہنچتیں، بلکہ سیدھا یادوں کے دروازے کھول دیتی ہیں۔ کسی پرانی دکان سے اٹھتی کباب کی مہک، کسی ٹھیلے کی چاٹ کا ذائقہ، کسی شربت کی ٹھنڈک، یا کسی مٹھائی کی مٹھاس—یہ سب محض کھانے پینے کی چیزیں نہیں، بلکہ زندگی کے اُن لمحوں کے امین ہوتے ہیں جن میں رشتے خالص، دوستیاں بے غرض اور خوشیاں بے ساختہ ہوا کرتی تھیں۔

یہ تحریر صرف ناگپاڑہ کی گلیوں، ہوٹلوں، بازاروں اور ذائقوں کا ذکر نہیں، بلکہ اُس عہد کی تصویر ہے جب زندگی سادہ تھی مگر دل امیر تھے؛ جب ملاقاتوں کے لیے پیغامات نہیں، آوازیں کافی ہوتی تھیں؛ جب دوستیوں کے لیے فاصلے نہیں، صرف خلوص درکار ہوتا تھا؛ اور جب چند سکّوں میں خریدی ہوئی کوئی چھوٹی سی چیز بھی یادوں کی پوری دنیا بن جایا کرتی تھی۔ آئیے، آج پھر انہی گلیوں کا رخ کرتے ہیں… جہاں دیواریں بھی قصّے سناتی تھیں، راستے بھی شناسا تھے، اور ہر موڑ پر بچپن اپنی معصوم مسکراہٹ لیے ہمارا منتظر کھڑا تھا۔

چلو، آج پھر بچپن کی سیر کرتے ہیں…

انسان کی زندگی میں بعض ادوار ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے سمندر میں ڈوب تو جاتے ہیں، مگر ان کی یادوں کی لہریں ہمیشہ دل کے ساحل سے ٹکراتی رہتی ہیں۔ بچپن بھی انہی حسین اور دل نشین ادوار میں سے ایک ہے۔ یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب جیب خالی، مگر دل دولتِ مسرت سے مالا مال ہوتا ہے؛ فکر و اندیشہ کم اور خوشیاں بے شمار ہوتی ہیں؛ اور دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بس یہ ہوتا ہے کہ آج کھیلنے کہاں جانا ہے اور شام کے کھانے میں کیا ملنے والا ہے۔

بچپن کی یہی بے فکری، معصومیت اور سادگی انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ذمّہ داریوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، حالات بدل جاتے ہیں اور ترجیحات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں، لیکن بچپن کی یادیں دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ جب کبھی ان یادوں کا دریچہ کھلتا ہے تو انسان ایک لمحے کے لیے پھر اسی بے فکری کے عالم میں پہنچ جاتا ہے، جہاں خوشی کے لیے بڑے اسباب نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی مسکراہٹ کا سبب بن جایا کرتی تھیں۔

میرے بچپن کی چند نہایت خوش گوار اور ناقابلِ فراموش یادگار ساعتیں عروسُ البلاد ممبئی (بمبئی) کے تاریخی، پُررونق اور رنگارنگ علاقے ناگپاڑہ میں گزریں۔ ناگپاڑہ محض اینٹ، پتھر، گلیوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ تہذیب، ثقافت، محبت، اخوت اور روایتی ذائقوں کا ایسا جیتا جاگتا مرقع ہے جس کی ہر گلی اپنے دامن میں ایک داستان سمیٹے ہوئے ہے اور جس کا ہر کوچہ و نکڑ ماضی کی کسی خوش گوار یاد کا امین نظر آتا ہے۔ یہاں کی فضا میں ایک ایسی اپنائیت اور زندگی کی ایسی حرارت رچی بسی تھی کہ آج بھی اس کا تصور دل و دماغ کو تازگی بخش دیتا ہے۔

والدِ محترم نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم صابو صدیق کالج سے حاصل کی، جب کہ والدۂ محترمہ نے انجمنِ اسلام، ناگپاڑہ میں تعلیم پائی۔ اس طرح ناگپاڑہ اور اس کے علمی اداروں سے ہمارا تعلق محض جغرافیائی نہیں، بلکہ خاندانی، نسلی اور جذباتی بھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان گلیوں، کوچوں اور تعلیمی مراکز سے وابستگی ہماری کئی نسلوں پر محیط ہے، اور ان سے جڑی یادیں ہمارے خاندانی ورثے کا ایک اہم حصّہ بن چکی ہیں۔

بچپن میں دوستوں کی رفاقت ایک ایسی نعمت تھی جس کی قدر آج کی مصروف اور تنہاء زندگی میں کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ نہ موبائل فون تھے، نہ سوشل میڈیا کی دنیا، اور نہ ہی آن لائن دوستیوں کا مصنوعی و ریاکارانہ پن۔ دوستوں کا پتہ ان کے گھر کے دروازے پر آواز لگانے سے چل جاتا تھا، اور ملاقات کے لیے کسی "لوکیشن شیئر” کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ دلوں کے راستے سیدھے اور تعلقات بے تکلف ہوا کرتے تھے۔ کبھی گلی میں کرکٹ کے میچ سجتے، کبھی سائیکلوں کی دوڑ لگتی، کبھی بے مقصد کوچہ گردی ہوتی اور کبھی کسی نکڑ پر بیٹھ کر گھنٹوں گپ شپ چلتی رہتی۔ یہی ہماری تفریح تھی، یہی ہماری مصروفیت، اور یہی ہماری دنیا۔ ان سادہ مگر پُرخلوص لمحوں میں جو خوشی اور اپنائیت تھی، وہ آج کی سہولتوں اور مصروفیات کے باوجود کم ہی نصیب ہوتی ہے۔

اور حقیقت یہ ہے کہ ہماری اس کوچہ گردی اور آوارہ مزاجی کا ایک اہم مقصد "تحقیقِ ذائقہ” بھی ہوا کرتا تھا۔ محلے اور اطراف کے علاقوں میں جہاں کہیں کوئی نئی چیز ملنے کی خبر ملتی، ہم فوراً اس کی جانچ پڑتال کے لیے پہنچ جاتے۔ کبھی کسی ٹھیلے کی چاٹ، کبھی کسی دکان کا فالودہ، کبھی کشمیری سوڈا اور کبھی گرم گرم حلوا پراٹھا—ہر ذائقہ ہمارے لیے ایک نئی دریافت کی حیثیت رکھتا تھا۔ آج کے فوڈ بلاگرز اگر اُس زمانے میں پیدا ہوتے تو شاید ہمیں اپنا استاد مانتے، کیونکہ محدود جیب خرچ کے باوجود ہم نے اپنے علاقے کے ذائقوں کا جو سروے کر رکھا تھا، وہ کسی باقاعدہ رہنما کتاب سے کم نہ تھا۔

تحقیقِ ذائقہ کی اس مہم میں کچھ مقامات ایسے بھی تھے جو ہماری یادوں کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔ امی کے اسکول، انجمنِ اسلام (بیلاسس روڈ) کے قریب ملنے والی کیری کلیجی اور بھونا گوشت کا ذکر آتے ہی آج بھی زبان پر پانی اور دل میں بچپن اتر آتا ہے۔ ان لذتوں میں صرف ذائقہ ہی نہیں تھا، بلکہ اُن دنوں کی بے فکری اور خوش گوار یادوں کی مٹھاس بھی گھلی ہوئی تھی۔ پھر ہوٹل ساروی کے لذیذ قیمے پاؤ کی وہ دلکش خوشبو، جو دور ہی سے ناک کو اپنی گرفت میں لے کر سیدھا ہوٹل تک پہنچا دیتی تھی۔ اور شام ڈھلے رولیکس کے سیکھ کباب تو گویا روزانہ حاضری کا تقاضا کرتے تھے۔ اُن کی مہک اور ذائقہ آج بھی حافظے کے دریچوں سے جھانکتے ہیں اور ماضی کی ایک پوری دنیا آنکھوں کے سامنے لا کھڑی کرتے ہیں۔

اور اگر بات گارڈن ہال کے اطراف کی ہو تو وہاں کی آلو چنا ہانڈی کا ذکر کیے بغیر یہ داستانِ ذائقہ ادھوری رہ جاتی ہے۔ اس کا ذائقہ ایسا سحر انگیز تھا کہ آدمی پیٹ بھر کر کھانے کے بعد بھی دیر تک انگلیاں چاٹتا رہ جاتا۔ مصالحوں کی خوشبو، چنوں کی لذت اور آلو کی نرمی مل کر ایسا امتزاج پیدا کرتی تھی کہ ایک بار چکھنے والا مدتوں اسے فراموش نہ کر پاتا۔ آج بھی اُس ذائقے کی یاد آتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کا کوئی خوش گوار منظر اچانک آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گیا ہو۔

اور جب ذائقوں کی اس داستان کا ذکر چھڑتا ہے تو پرانی ہوٹل ساگر کی دعوتوں کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے؟ وہاں کا ماحول اپنے آپ میں ایک تہوار کا منظر پیش کرتا تھا۔ گوشت سے تیار کی جانے والی مختلف غذائیں ایسی لذیذ، خوش ذائقہ اور اشتہا انگیز ہوتیں کہ کھانے والا انگلیاں چاٹنے پر مجبور ہو جاتا۔ بعض اوقات تو یہ فیصلہ کرنا بھی دشوار ہو جاتا کہ زیادہ لطف سالن میں ہے یا اس کے ساتھ پیش کی جانے والی گرم گرم روٹی میں۔ ہر لقمہ ذائقے کا ایک نیا باب کھولتا تھا اور ہر دعوت یادوں کے دفتر میں ایک خوش گوار اضافہ بن جاتی تھی۔

کالج کے قریب مہالکشمی کا مشہور کاشمیری سوڈا بھی اپنی مثال آپ تھا۔ بوتل کا ڈھکن کھلتے ہی جو مخصوص آواز ابھرتی، یوں محسوس ہوتا جیسے گرمی کے ظلم و ستم کے خلاف باضابطہ اعلانِ بغاوت کر دیا گیا ہو۔ ایک گھونٹ حلق سے اترتے ہی جسم و جاں میں تازگی کی ایسی لہر دوڑ جاتی کہ ساری تھکن اور گرمی کا اثر کافور ہو جاتا۔ اس کے بعد مستان تالاب کے حلوا پراٹھے کا نمبر آتا، جو ذائقے اور لذت کے اعتبار سے ایک مستقل ادارے کی حیثیت رکھتا تھا۔ نرم و گرم پراٹھے اور خوش ذائقہ حلوے کی یہ رفاقت ایسی تھی کہ ایک بار چکھنے والا مدتوں اسے فراموش نہ کر پاتا۔ اگر آج کی نسل اس نعمتِ غیر مترقبہ سے محروم ہے تو بلاشبہ وہ صرف ایک کھانے سے نہیں، بلکہ ممبئی کی ایک زندہ ثقافتی روایت سے بھی محروم ہے۔

سنگ تراش مسجد کے قریب ملنے والا سکنجبین کا ٹھنڈا شربت گرمیوں کے دنوں میں محض ایک مشروب نہیں بلکہ روح و جان کے لیے ایک تازگی بخش نسخہ محسوس ہوتا تھا۔ اس کے بعد روجرس کے سوڈے کی چسکیاں اور کلیر روڈ کے لذیذ رگڑے کا مزہ اپنی جگہ، جب کہ یہودی برادری کی تاریخی عبادت گاہ، ای۔ای۔ ساسون سینیگاگ کے قریب گنّے کے تازہ شربت کا لطف بھی ہماری بچپن کی یادوں کا ایک ناقابلِ فراموش حصّہ ہے۔ یہ سب چیزیں گویا ہماری روزمرّہ آوارہ گردیوں اور بچپن کی خوشگوار رفاقتوں کے مستقل ساتھی تھیں۔

پرانی ہندوستان لیور کے سامنے سگنل کے قریب سینگ چنے والے بزرگ کی دکان بھی ہماری یادوں کا ایک مستقل اور روشن باب ہے۔ خاص طور پر جمعہ کی نماز کے بعد وہاں سے چنا سینگ خریدنا گویا بچپن کی ایک ایسی "سنّتِ بچپن” تھی جس پر بڑی پابندی سے عمل کیا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں چھوٹی بڑی فاتحہ اور دیگر مذہبی اجتماعات کے بعد چنا شیرنی اور کھوپرا تقسیم کرنے کا بھی عام رواج تھا، اسی وجہ سے اس بزرگ کی دکان محض ایک چھابڑی نہیں بلکہ ایک بڑی اور معروف کاروباری جگہ کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ یوں اس دکان کا تعلق صرف ذائقے سے نہیں بلکہ ہماری سماجی اور مذہبی روایات سے بھی جڑا ہوا تھا، جس نے اسے یادوں میں ایک خاص مقام عطاء کر دیا ہے۔

ذائقوں کی اس طویل فہرست میں بوری محلہ کی امدادیہ کو نظر انداز کرنا بھی ناانصافی ہوگی۔ وہاں کا چھوٹا زیرہ بٹر اور کیک اپنے منفرد ذائقے اور لذت کے باعث خاص شہرت رکھتے تھے۔ سادہ سی یہ چیزیں اپنے ذائقے میں ایسی تاثیر رکھتی تھیں کہ ایک بار چکھنے والا مدتوں انہیں فراموش نہیں کر پاتا تھا۔ پھر شور بازار (چور بازار) کا گردا رگڑا تو گویا ذائقے کی دنیا کا ایک شاہکار تھا۔ اس کی لذت کچھ ایسی تھی کہ اسے تناول کرنے کے بعد آدمی چند لمحوں کے لیے دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جاتا۔ اور گرمی کے موسم میں وہیں ملنے والا تربوز کا شربت کسی جنتی مشروب سے کم محسوس نہ ہوتا تھا۔ ایک گلاس پیتے ہی جسم و جاں میں تازگی کی ایسی لہر دوڑ جاتی کہ سخت ترین گرمی بھی قابلِ برداشت معلوم ہونے لگتی۔

یہ سب ذائقے محض کھانے پینے کی چیزیں نہیں تھے، بلکہ ہماری یادوں کے ایسے روشن نقوش ہیں جن کی خوشبو آج بھی ماضی کے دریچے وا کر دیتی ہے اور بچپن کے وہ دن پوری آب و تاب کے ساتھ نگاہوں کے سامنے لے آتی ہے۔ ذائقوں کا یہ تعلق صرف بازاروں اور ہوٹلوں تک محدود نہ تھا، بلکہ ہماری گھریلو اور سماجی زندگی میں بھی پوری شان کے ساتھ موجود تھا۔ گھریلو تقریبات، منگنیاں اور ولادت کی خوشیاں کھوے کے کھاجے اور حلوے کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی تھیں۔ یہ مٹھائیاں محض ضیافت کا حصّہ نہیں ہوتیں، بلکہ خوشی اور مبارک باد کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔

اسی طرح جے جے کے سگنل پر ملنے والی جلیبی اپنی مٹھاس کے باعث ہر خاص و عام میں مقبول تھی، جب کہ تعزیتی اجتماعات اور انتقال کی تقریبات میں نان کھٹائی کی اپنی ایک جداگانہ روایت تھی۔ گویا خوشی ہو یا غم، ہر موقع کا ایک مخصوص ذائقہ اور ایک الگ یاد وابستہ تھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ممبئی والوں نے زندگی کے کسی بھی مرحلے میں ذائقے کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ خوشیوں کی محفلیں ہوں یا غم کے لمحات، دسترخوان ہمیشہ جذبات کی ترجمانی کرتا تھا، اور کھانے پینے کی یہ روایات لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا خاموش مگر مؤثر ذریعہ بنی رہتی تھیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ناگپاڑہ کا نام آتے ہی یادوں کا ایک پورا کارواں دل کے افق پر اُبھر آتا ہے۔ گلیاں، چوراہے، دوست، بازار اور بے شمار ذائقے—سب ایک ایک کرکے ذہن کے پردے پر جلوہ گر ہونے لگتے ہیں۔ وقت نے اگرچہ بہت کچھ بدل دیا ہے، مگر ان یادوں کی تازگی آج بھی ویسی ہی محسوس ہوتی ہے جیسے کل کی بات ہو۔ آج جب برسوں بعد ماضی کے یہ دریچے وا ہوتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اصل لذت صرف کھانوں میں نہیں تھی، بلکہ اُن لوگوں میں تھی جن کے ساتھ یہ کھائے گئے۔ اصل خوشبو کبابوں سے زیادہ دوستیوں میں بسی ہوئی تھی، اصل مٹھاس جلیبیوں سے زیادہ رشتوں میں تھی، اور اصل ٹھنڈک شربتوں سے زیادہ اُس بے فکری میں تھی جس کا نام بچپن تھا۔

وہ دن گزر گئے، وہ محفلیں بکھر گئیں، بہت سے چہرے زمانے کی گرد میں اوجھل ہو گئے، مگر ان کی یادیں آج بھی دل کے نہاں خانوں میں محفوظ ہیں۔ جب کبھی ان یادوں کا چراغ روشن ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کے سب سے خوب صورت اور بے غرض لمحے پھر سے لوٹ آئے ہوں، اور بچپن اپنی تمام معصومیت، اپنائیت اور خوشبو کے ساتھ ایک بار پھر ہمارے سامنے کھڑا ہو۔ وقت نے یقیناً بہت کچھ بدل دیا ہے۔ کئی چہرے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے، بہت سی دکانیں اور ہوٹل شاید اب اپنے وجود کی آخری نشانی بھی کھو چکے ہوں، اور نہ جانے کتنی گلیاں نئی عمارتوں اور بدلتے ہوئے منظرناموں کے نیچے دب کر رہ گئی ہوں۔ مگر یادوں کی سلطنت ایک ایسی دنیا ہے جہاں وقت کا کوئی حکم نہیں چلتا اور نہ ہی تبدیلی کی کوئی دسترس پہنچ پاتی ہے۔

وہاں آج بھی ناگپاڑہ کی گلیاں پوری رونق کے ساتھ آباد ہیں، دوستوں کے قہقہے فضا میں گونج رہے ہیں، اور بچپن اپنی تمام معصومیت کے ساتھ زندہ ہے۔ یادوں کے اُس جہان میں ہم آج بھی ہاتھ میں چند سکّے لیے کسی نئے ذائقے کی تلاش میں سرگرداں ہیں، کبھی کسی ٹھیلے کے گرد جمع ہیں، کبھی کسی ہوٹل کی میز پر بیٹھے ہیں، اور کبھی دوستوں کے ساتھ بے مقصد گھومتے پھر رہے ہیں۔ گویا وقت کی رفتار نے اگرچہ حقیقت کی دنیا کو بدل دیا ہے، مگر دل کے نہاں خانے میں محفوظ وہ بستی آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم ہے۔

بچپن درحقیقت زندگی کا وہ انمول سرمایہ ہے جسے نہ مہنگائی کی مار چھین سکتی ہے، نہ زمانے کی گردش مٹا سکتی ہے، اور نہ ہی بڑھتی ہوئی عمر اس کی چمک کو ماند کر سکتی ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو یادوں کی صورت میں ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتی ہے اور زندگی کی کٹھن راہوں میں بھی دل کو مسرت اور تازگی عطاء کرتی رہتی ہے۔ شاید اسی لیے جب کبھی زندگی کی مصروفیات سے دل اُکتا جاتا ہے، یا زمانے کی الجھنیں ذہن پر بوجھ بننے لگتی ہیں، تو یادوں کے دریچے خود بخود وا ہو جاتے ہیں۔ پھر ماضی کی دھند سے ناگپاڑہ کی گلیاں نمودار ہونے لگتی ہیں، دوستوں کے قہقہے سنائی دیتے ہیں، بازاروں کی رونقیں آنکھوں میں اتر آتی ہیں، اور بچپن اپنی تمام معصومیت، بے فکری اور خوشبو کے ساتھ دل کے آنگن میں واپس آ کھڑا ہوتا ہے۔

تب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کی دھند یکایک چھٹ گئی ہو، اور ناگپاڑہ کی پرانی گلیاں ایک بار پھر اپنی تمام رونقوں کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آباد ہو گئی ہوں۔ کہیں دوستوں کے قہقہے گونج رہے ہیں، کہیں کرکٹ کی گیند دیوار سے ٹکرا رہی ہے، کہیں کسی ہوٹل سے کبابوں کی خوشبو اُٹھ رہی ہے، اور کہیں چند شرارتی لڑکے جیب میں چند سکّے ڈالے کسی نئے ذائقے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ان ہی مناظر کے درمیان ماضی کی گہرائیوں سے ایک شناسا اور دل آویز آواز کانوں میں رس گھولتی ہے؛ ایسی آواز جو برسوں کے فاصلے بھی مٹا دیتی ہے اور دل کو پھر سے بچپن کی دہلیز پر لا کھڑا کرتی ہے:
چلو… دیر کس بات کی ہے؟
آج پھر اُنہی گلیوں میں چلتے ہیں، جہاں خوشیاں سستی تھیں، محبتیں خالص تھیں، دوست بے غرض تھے، اور زندگی بے حد خوب صورت تھی۔
"چلو، آج پھر بچپن کی سیر کرتے ہیں!”
🗓 (12.06.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!