مضامین

انصاف کا بحران، عدالتی وقار اور عوامی بے اعتمادی (ایک تشویش ناک منظرنامہ)

         ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

ریاست کی بنیاد صرف آئین، قانون اور اداروں پر قائم نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد پر بھی استوار ہوتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں لوگوں کا اعتماد عدلیہ جیسے بنیادی ادارے سے متزلزل ہونے لگے تو یہ صرف ایک ادارے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ انصاف اور ریاستی استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ عدالتیں کسی بھی جمہوری معاشرے میں مظلوم کی آخری امید، کمزور کی پناہ گاہ اور انصاف کی آخری منزل سمجھی جاتی ہیں۔ اگر یہی دروازہ مایوسی، تاخیر اور بے بسی کی علامت بن جائے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔

انصاف کی بروقت فراہمی صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک بنیادی آئینی تقاضا بھی ہے۔ آئینِ ہند کا آرٹیکل 21 ہر شہری کو زندگی اور شخصی آزادی کا حق عطا کرتا ہے، اور عدالتی تعبیرات کے مطابق اس حق کا دائرہ صرف جسمانی آزادی تک محدود نہیں بلکہ بروقت اور منصفانہ انصاف کی فراہمی کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اسی لیے سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں اس اصول پر زور دے چکی ہے کہ "Justice delayed is justice denied”، یعنی تاخیر سے ملنے والا انصاف درحقیقت انصاف سے محرومی کے مترادف ہے۔ جب ایک شہری برسوں تک اپنے مقدمے کے فیصلے یا ضمانت کا منتظر رہتا ہے تو یہ محض عدالتی تاخیر نہیں رہتی بلکہ اس کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

قانونی ماہرین کے نزدیک انصاف کی روح صرف درست فیصلہ صادر کرنے میں نہیں بلکہ اسے مناسب وقت کے اندر فراہم کرنے میں مضمر ہے، کیونکہ ایسا انصاف جو برسوں کی تاخیر کے بعد ملے، وہ بہت سے مواقع پر اپنی حقیقی افادیت اور معنویت کھو دیتا ہے۔ 10 جولائی 2026ء کو سپریم کورٹ میں پیش آنے والا واقعہ اسی وسیع تر بحران کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک نوجوان، پربل پرتاپ، اپنی درخواست کی خود پیروی کرتے ہوئے عدالت میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ اس نے نہ صرف جج صاحبان سے نامناسب انداز میں گفتگو کی بلکہ ملک کے چیف جسٹس کے بارے میں بھی انتہائی غیر مہذب زبان استعمال کی۔ بلاشبہ عدالت کے وقار کے خلاف یہ ایک افسوس ناک اور ناقابلِ قبول رویہ تھا، کیونکہ عدالت کا احترام قانون کی حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے۔

تاہم اس واقعے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، جو زیادہ گہرا اور زیادہ تشویش ناک ہے۔ عدالت نے اس نوجوان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کرنے کے بجائے یہ رائے دی کہ وہ شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار محسوس ہوتا ہے، اس لیے اس کے خلاف کارروائی ضروری نہیں۔ یہ فیصلہ عدالتی تحمل اور برداشت کی ایک مثال بھی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ آخر ایک عام شہری اس نہج تک کیوں پہنچ جاتا ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اپنا ضبط کھو بیٹھتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسے واقعات کسی ایک فرد کی نفسیاتی کیفیت سے زیادہ اس اجتماعی اضطراب کی نشاندہی کرتے ہیں جو برسوں سے انصاف کے متلاشی لاکھوں افراد کے دلوں میں جمع ہوتا جا رہا ہے۔

عدالتوں کے چکر کاٹتے ہوئے، تاریخ پر تاریخ لیتے ہوئے، اپنی جمع پونجی اور زندگی کا قیمتی وقت خرچ کرتے ہوئے جب انسان کو بروقت انصاف نہیں ملتا تو اس کے اندر مایوسی، بے بسی اور غصّہ جنم لیتا ہے۔ اگرچہ اس غصّے کا اظہار غیر مہذب انداز میں ہرگز درست نہیں، لیکن اس غصّے کے اسباب کو نظر انداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ ملک کا عدالتی نظام اس وقت مقدمات کے بے مثال بوجھ سے دوچار ہے۔ سپریم کورٹ میں ہزاروں مقدمات زیرِ التوا ہیں، ہائی کورٹس میں لاکھوں، جب کہ نچلی عدالتوں میں کروڑوں مقدمات فیصلے کے منتظر ہیں۔ انصاف میں ہونے والی یہ طویل تاخیر محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی اور انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکی ہے، کیونکہ انصاف میں غیر معمولی تاخیر عملاً انصاف سے محرومی کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔

ملک کا عدالتی بحران محض زیرِ التوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا ساختی اور ادارہ جاتی بحران ہے، جس کی جڑیں عدالتی نظام کے مختلف پہلوؤں میں پیوست ہیں۔ ہر سال لاکھوں نئے مقدمات عدالتوں میں دائر ہوتے ہیں، جب کہ ان کے مقابلے میں نمٹائے جانے والے مقدمات کی رفتار نسبتاً سست رہتی ہے، جس کے نتیجے میں زیرِ التوا مقدمات کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ خصوصاً دیوانی مقدمات میں یہ صورتِ حال زیادہ سنگین ہے، جہاں جائیداد، وراثت اور دیگر حقوق سے متعلق تنازعات بعض اوقات بیس سے تیس برس تک عدالتوں میں زیرِ سماعت رہتے ہیں، اور کئی مقدمات میں اصل فریقین فیصلہ آنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ فوجداری مقدمات کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں۔

طویل عدالتی کارروائی کے دوران گواہوں کے انتقال، شواہد کے ضائع یا کمزور ہو جانے، تحقیقاتی نقائص اور تفتیشی اداروں کی خامیوں کے باعث انصاف کی راہ مزید دشوار ہو جاتی ہے۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف مقدمات کی قانونی حیثیت متاثر ہوتی ہے بلکہ سچ تک پہنچنا بھی بتدریج مشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس بحران کی ایک اہم وجہ عدالتی وسائل کی محدودیت بھی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بھارت میں فی دس لاکھ آبادی پر ججوں کی تعداد دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں خاصی کم ہے، جس کے باعث موجودہ عدالتی ڈھانچہ بڑھتے ہوئے مقدمات کے بوجھ کو مؤثر انداز میں سنبھالنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔

چنانچہ عدالتی تاخیر کو صرف انتظامی سستی قرار دینا کافی نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا ساختی بحران ہے جو عدالتی افرادی قوت، بنیادی ڈھانچے، تفتیشی نظام، قانونی اصلاحات اور مقدمات کے مؤثر انتظام، سبھی پہلوؤں میں ہمہ گیر اصلاحات کا متقاضی ہے۔ سپریم کورٹ خود متعدد مواقع پر یہ اصول بیان کر چکی ہے کہ غیر ضروری تاخیر بنیادی حقوق، خصوصاً شخصی آزادی کے حق، کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بعض مقدمات کی رفتار ایسی سست ہے کہ "گھونگا بھی اس پر اعتراض کرے”۔ یہ تبصرہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ نظام کو فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں زیرِ حراست افراد کے مقدمات خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ ایسے متعدد افراد موجود ہیں جو برسوں سے مقدمات کے فیصلے یا ضمانت کے منتظر ہیں۔

مختلف حلقے اس بات پر سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ بعض حساس مقدمات میں انصاف کی رفتار غیر معمولی طور پر سست کیوں دکھائی دیتی ہے، جب کہ دیگر معاملات نسبتاً جلد نمٹ جاتے ہیں۔ یہی احساس بعض طبقات میں امتیازی سلوک کے خدشات کو جنم دیتا ہے، اور جب انصاف نہ صرف ہونا بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی نہ دے تو عوامی اعتماد متاثر ہونا ایک فطری امر بن جاتا ہے۔ عدالتی نظام کی مؤثریت کا ایک اہم پیمانہ ان افراد کی حالت بھی ہے جو جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی برسوں جیلوں میں قید رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہندوستانی جیلوں میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد سزا یافتہ مجرموں پر مشتمل نہیں بلکہ ایسے انڈر ٹرائل قیدیوں کی ہے، جن کے مقدمات ابھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں اور جن کے بارے میں عدالت نے حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا۔ یہ صورتِ حال اس بنیادی قانونی اصول پر بھی سوال اٹھاتی ہے کہ ہر شخص کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک اس کا جرم عدالت میں ثابت نہ ہو جائے۔

افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ متعدد افراد برسوں جیل میں گزارنے کے بعد بالآخر عدالتوں سے باعزّت بری ہو جاتے ہیں۔ تاہم ان کی رہائی اس نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتی جو طویل اسیری کے دوران ان کی زندگی، معاش، خاندان اور سماجی وقار کو پہنچ چکا ہوتا ہے۔ قید کے وہ سال، جو کسی حتمی سزا کے بغیر گزر جاتے ہیں، نہ واپس آ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے معاشی، نفسیاتی اور سماجی اثرات کی مکمل تلافی ممکن ہوتی ہے۔ اسی لیے قانونی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انصاف کا اصل تقاضا صرف درست فیصلہ صادر کرنا نہیں بلکہ اسے بروقت فراہم کرنا بھی ہے، کیونکہ غیر معمولی تاخیر بعض اوقات خود ایک ایسی سزا بن جاتی ہے جس کی تلافی کسی عدالتی فیصلے سے ممکن نہیں رہتی۔

عدلیہ پر اعتماد کسی بھی جمہوری نظام کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ اس اعتماد کی حفاظت صرف عدالتوں کی ذمّہ داری نہیں بلکہ حکومت، انتظامیہ، تفتیشی اداروں، وکلاء اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمّہ داری ہے۔ عدالتوں کا احترام اسی وقت مضبوط ہوگا جب عام آدمی یہ محسوس کرے گا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے، مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے، اور انصاف طاقت، مذہب، ذات یا سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر فراہم کیا جائے گا۔ عدلیہ پر عوام کا اعتماد محض عدالتی فیصلوں سے نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کے عملی تجربے سے تشکیل پاتا ہے۔ جب ایک عام شہری برسوں تک عدالتوں کے چکر کاٹتا ہے، بار بار "تاریخ پر تاریخ” ملتی ہے، مقدمہ غیر ضروری طوالت اختیار کر لیتا ہے اور انصاف کی منزل دور ہوتی چلی جاتی ہے، تو اس کے دل میں مایوسی اور بداعتمادی کے جذبات پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔

یہی تجربات رفتہ رفتہ ایک اجتماعی نفسیات کو جنم دیتے ہیں، جس میں عدالتی نظام کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھنے لگتے ہیں۔ اس بے اعتمادی کی کئی عملی وجوہات ہیں۔ ایک جانب بعض مقدمات غیر معمولی سرعت سے نمٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ دوسرے مقدمات برسوں تک زیرِ سماعت رہتے ہیں، جس سے انصاف کی رفتار میں عدم توازن کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ دوسری جانب عدالتی کارروائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، وکلاء کی فیسیں، دستاویزی تقاضے اور طویل قانونی عمل غریب اور کمزور طبقے کے لیے انصاف تک رسائی کو نہایت دشوار بنا دیتے ہیں۔ اگرچہ ریاست کی جانب سے قانونی امداد کا نظام موجود ہے، لیکن اس کی رسائی اور افادیت اب بھی محدود سمجھی جاتی ہے، جس کے باعث بہت سے مستحق افراد مؤثر قانونی معاونت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اسی طرح جب معاشرے میں یہ احساس تقویت پکڑنے لگے کہ بااثر اور وسائل رکھنے والے افراد کے مقدمات نسبتاً تیزی سے آگے بڑھتے ہیں، جب کہ کمزور اور محروم طبقات کے مقدمات غیر معمولی تاخیر کا شکار رہتے ہیں، تو انصاف کی غیر جانب داری کے بارے میں سوالات جنم لینے لگتے ہیں۔ خواہ یہ تاثر مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، لیکن عوامی اعتماد کے لیے اس کا وجود ہی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ عدلیہ کی اصل قوت صرف اس کے فیصلوں میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں مضمر ہے کہ قانون کی نگاہ میں ہر شہری برابر ہے اور انصاف سب کے لیے یکساں، شفاف اور بروقت فراہم کیا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتی اصلاحات کو محض انتظامی مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قومی ترجیح بنایا جائے۔ ججوں کی تعداد میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال، غیر ضروری التوا کی روک تھام، مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے خصوصی بنچوں کا قیام، تحقیقاتی اداروں کی جواب دہی، اور مقدمات کے لیے واضح ٹائم لائنز جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اسی طرح متبادل تنازعاتی حل (Alternative Dispute Resolution) کے نظام کو بھی زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے تاکہ عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ کم ہو۔

اگر عدالتی نظام کو عوام کی توقعات کے مطابق مؤثر، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے تو محض مسائل کی نشاندہی کافی نہیں، بلکہ جامع اور دور رس اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے عدلیہ میں ججوں کی خالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جانا چاہیے، کیونکہ افرادی قوت کی کمی ہی مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور انصاف میں غیر معمولی تاخیر کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، ڈیجیٹل سہولیات کو فروغ دینا اور ای کورٹ (e-Courts) نظام کو مزید مؤثر اور ہمہ گیر بنانا بھی وقت کا اہم تقاضا ہے، تاکہ مقدمات کے اندراج، سماعت اور فیصلوں کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کم ہو سکے۔

اسی طرح سنگین جرائم، خواتین، بچّوں اور طویل عرصے سے زیرِ التوا مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے، تاکہ ایسے معاملات کو برسوں تک التوا میں رہنے سے بچایا جا سکے۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ پولیس اور تحقیقاتی نظام کی اصلاح کے بغیر عدالتی اصلاحات اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتیں۔ ناقص تفتیش، کمزور چارج شیٹ اور غیر معیاری تحقیق عدالتوں کے کام کو پیچیدہ اور طویل بنا دیتی ہے، اس لیے انصاف کے پورے نظام کو ایک مربوط اکائی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاؤہ جھوٹے، بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد مقدمات کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی بھی ناگزیر ہے، کیونکہ ایسے مقدمات نہ صرف عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں بلکہ حقیقی انصاف کے متلاشی افراد کے مقدمات بھی غیر ضروری طور پر تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے مصالحتی نظام (Alternative Dispute Resolution – ADR) کو مزید فعال، مؤثر اور عوام دوست بنایا جانا چاہیے، تاکہ ایسے تنازعات جو باہمی گفت و شنید، ثالثی یا مفاہمت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں، انہیں عدالتوں کے بجائے متبادل ذرائع سے نمٹایا جا سکے۔ اس سے نہ صرف عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا بلکہ فریقین کو نسبتاً کم وقت، کم خرچ اور زیادہ اطمینان بخش انصاف بھی میسر آ سکے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ عدالتی اصلاحات محض قانونی یا انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ریاست کی آئینی ذمّہ داری اور عوامی اعتماد کی بحالی کا بنیادی تقاضا ہیں۔ جب تک انصاف کے پورے نظام کو جدید، مؤثر، جواب دہ اور عوام دوست بنانے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں نہیں کی جائیں گی، اس وقت تک انصاف میں تاخیر، عوامی بے اعتمادی اور عدالتی بحران جیسے مسائل پوری طرح ختم نہیں ہو سکیں گے۔

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عوام قانون کو اپنے مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھیں، نہ کہ مایوسی کا استعارہ۔ اگر عوام کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ انصاف صرف صاحبِ اقتدار یا صاحبِ حیثیت کے لیے ہے تو قانون کی اخلاقی قوت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ عدالت کا وقار اور عوام کا اعتماد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ عدالتوں کا احترام لازم ہے، لیکن اس احترام کی مضبوط بنیاد بروقت، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد انصاف ہی فراہم کر سکتا ہے۔ جس دن ہر شہری یہ یقین کر لے گا کہ اس کی فریاد سنی جائے گی اور اس کے مقدمے کا فیصلہ مناسب وقت میں ہوگا، اسی دن ایسے تلخ واقعات کی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی اور عدلیہ واقعی عوام کے لیے امید، اعتماد اور انصاف کی روشن علامت بن جائے گی۔

عدالتیں محض مقدمات کا فیصلہ کرنے والے ادارے نہیں ہوتیں بلکہ وہ ریاست کی اخلاقی ساکھ، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی سب سے مضبوط علامت بھی ہوتی ہیں۔ کسی بھی عوامی معاشرے میں عوام کا عدالتوں پر اعتماد ہی اس یقین کو زندہ رکھتا ہے کہ اختلافات اور تنازعات کا فیصلہ قانون کی روشنی میں ہوگا، نہ کہ طاقت، انتقام یا ذاتی اثر و رسوخ کی بنیاد پر۔ یہی اعتماد لوگوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے روکتا اور ریاستی اداروں سے وابستہ رکھتا ہے۔ لیکن جب انصاف غیر معمولی تاخیر، غیر یقینی صورتِ حال یا امتیازی سلوک کے تاثر کا شکار ہو جائے تو معاشرے میں مایوسی، اضطراب، بے یقینی اور اداروں سے بداعتمادی جنم لینے لگتی ہے۔

ایسے حالات میں قانون کی اخلاقی قوت بھی کمزور پڑنے لگتی ہے اور شہریوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید انصاف تک رسائی سب کے لیے یکساں نہیں رہی۔ یہ کیفیت کسی بھی مہذب اور آئینی معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں سمجھی جا سکتی۔ اسی لیے انصاف کا حقیقی مفہوم صرف درست فیصلہ صادر کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ بھی ناگزیر ہے کہ وہ بروقت، غیر جانب دار، شفاف اور عوام کو ہوتا ہوا دکھائی دے۔ جب عدالتی عمل میں سرعت، دیانت، مساوات اور شفافیت یکجا ہو جائیں تو عدالتیں صرف قانونی فیصلے صادر نہیں کرتیں بلکہ معاشرے میں اعتماد، استحکام اور قانون کی بالادستی کی ایسی فضا قائم کرتی ہیں جو ایک مضبوط، منصف اور مہذب ریاست کی حقیقی پہچان ہوتی ہے۔
🗓 (12.07.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!