مضامین

سمٹتا ہوا آنگن

 

ڈاکٹر اسد اللہ خان 

شام کے سائے ابھی پوری طرح نہیں پھیلے تھے کہ عمارت کی سیڑھیوں پر ایک ننھے وجود کے قدموں کی تھکی تھکی چاپ سنائی دی۔ کندھے پر بستہ تھا جو قد سے بڑا معلوم ہوتا تھا، ہاتھ میں ٹیوشن کی کاپیاں تھیں اور آنکھوں میں وہ اجنبی سی تھکن جو کبھی صرف دن بھر مزدوری کرنے والوں کے چہروں پر دکھائی دیتی تھی۔ ماں نے دروازہ کھولا، کھانا گرم کیا اور گھڑی پر نظر ڈال کر یاد دلایا کہ آدھے گھنٹے بعد دوسری ٹیوشن ہے۔ بچے نے کچھ نہیں کہا۔ بچے اب شکایت نہیں کرتے؛ وہ صرف تھک جاتے ہیں۔

یہ منظر کسی ایک گھر کا نہیں۔ ممبرا سے ممبئی تک اور کانپور سے کلکتہ تک ہر اُس گھر کا ہے جہاں والدین اپنی اولاد کے لیے سب کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں، اور اسی ”سب کچھ“ کے بوجھ تلے وہ شے دبتی جا رہی ہے جسے بچپن کہتے ہیں۔ یہ تحریر انھی والدین کے نام ہے — اُن کے خلاف نہیں بلکہ اُن کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر — کیوں کہ مسئلہ نیتوں کا نہیں، زاویۂ نظر کا ہے۔ آئیے اُس آنگن کی خبر لیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے سمٹتا جا رہا ہے۔

صرف تیس پینتیس برس پہلے تربیت کا منظرنامہ بالکل مختلف تھا۔ محلہ ایک غیر تحریری درس گاہ تھا جس کا کوئی داخلہ فارم نہ تھا مگر نصاب نہایت مکمل تھا۔ بچہ صرف ماں باپ کا نہیں، پورے کوچے کا ہوتا تھا: دادی کی کہانی، پڑوس کی نگرانی، مکتب کی صبح، میدان کی شام — یہ سب مل کر وہ خدمت انجام دیتے تھے جو آج تنہا دو افراد کے کندھوں پر آ پڑی ہے۔ پھر مشترکہ خاندان سمٹ کر فلیٹ ہو گیا، کوچہ سمٹ کر راہ داری، اور راہ داری بھی ایسی جس میں بچوں کے دوڑنے پر پابندی کے نوٹس آویزاں ہیں۔

والدین کے موجودہ مسائل کو سمجھنے کی پہلی شرط یہی اعتراف ہے کہ وہ ایک ایسا کام تنہا انجام دے رہے ہیں جو انسانی تاریخ میں ہمیشہ اجتماعی رہا۔ جب پورا سماج تربیت سے دست کش ہو جائے تو ماں باپ پر صرف بوجھ نہیں بڑھتا، اُن کے فیصلوں کی نوعیت بدل جاتی ہے: نگرانی سختی میں ڈھلنے لگتی ہے، محبت اندیشوں کی زبان بولنے لگتی ہے اور گھر رفتہ رفتہ ایک ایسے دفتر کی صورت اختیار کر لیتا ہے جہاں شفقت بھی نظام الاوقات کی پابند ہے۔ اسی پس منظر میں وہ پانچ مسائل اُگے ہیں جن پر آگے گفتگو ہوگی۔

کھیل جو نصاب سے خارج ہوا

پہلا مسئلہ وقت کا ہے۔ اسکول صبح لے جاتا ہے، ٹیوشن شام چھین لیتی ہے اور ہوم ورک رات نگل جاتا ہے۔ حساب لگائیے تو ایک عام شہری بچے کے شب و روز میں آزاد کھیل کا حصہ اتنا ہی رہ گیا ہے جتنا کسی مقدمے کی فائل میں انصاف کا۔ ستم یہ ہے کہ ہم نے کھیل کو تعلیم کا حریف سمجھ لیا، حالانکہ تعلیمی فکر کے تمام بڑے دھارے اس پر متفق چلے آئے ہیں کہ کھیل بچے کی فطری درس گاہ ہے۔ فروبل نے اپنے ادارے کو ”بچوں کا باغ“ کہا تھا اور مونٹیسوری روایت میں کھیل کو بچپن کی محنت مانا گیا — یعنی وہ کام جو بچہ اپنی تعمیر کے لیے کرتا ہے۔

میدان میں بچہ صرف دوڑتا نہیں؛ وہ ہارنا سیکھتا ہے، انتظار کرنا سیکھتا ہے، جھگڑنا اور صلح کرنا سیکھتا ہے، قیادت اور اطاعت دونوں کا مزہ چکھتا ہے، اور اپنے جسم پر وہ اعتماد حاصل کرتا ہے جو کسی نصابی کتاب کے بس کا نہیں۔ جس نسل سے کھیل چھین لیا جائے اُسے محض تفریح سے نہیں، تربیت کے ایک پورے نظام سے محروم کیا جاتا ہے۔ اور جب یہ محرومی تھکن کے ساتھ مل جائے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج ہر گھر میں دکھائی دیتا ہے: ایسا بچہ جس کے پاس معلومات بہت ہیں اور توانائی بہت کم۔

حفاظت کا قفل

دوسرا مسئلہ خوف کا ہے۔ سڑکیں بے مہار ٹریفک سے بھر گئیں، کھلی زمینیں عمارتوں میں ڈھل گئیں اور خبروں کی سرخیاں ہر صبح والدین کے دل میں ایک نیا اندیشہ بو دیتی ہیں۔ کون ماں ہے جو اولاد کو گلی میں بھیجتے ہوئے دس بار نہ سوچے؟ یہ خوف بے بنیاد نہیں؛ اس کی جڑیں حقیقی واقعات میں ہیں اور اسے جھٹلانا والدین کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ مگر خوف کے ردِ عمل پر غور ضروری ہے: ہم نے خطرے کا انتظام کرنے کے بجائے بچے کو اندر بند کر دیا۔

نتیجہ ایک عجیب تضاد کی صورت میں نکلا: بچہ گھر میں محفوظ ہے اور نشوونما میں محصور۔ حفاظت کے نام پر ہم نے جسم بچا لیا اور شخصیت کو خطرے میں ڈال دیا، کیوں کہ جو صلاحیتیں گلی، پڑوس اور اجنبی ہم عمروں سے میل جول میں پروان چڑھتی تھیں اُن کے سوتے خشک ہونے لگے۔ جو گلی کبھی بچوں کی تھی وہ اب گاڑیوں کی ہے، اور جس بستی کی گلیوں میں بچے نہ کھیلتے ہوں اُس کے مزاج کے بارے میں کوئی پیش گوئی خوش گوار نہیں ہو سکتی۔ خوف بجا ہے، مگر خوف کا علاج قید نہیں، اہتمام ہے — یہ نکتہ ہم تدابیر کے باب میں پھر اٹھائیں گے۔

ہتھیلی پر رکھا ہوا طوفان

تیسرا مسئلہ وہ ہے جس کا ذکر آج ہر مجلس میں ہوتا ہے: موبائل۔ اعداد و شمار سنیے تو خطرے کا قد معلوم ہو۔ انڈین اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کی ہدایت ہے کہ دو سے پانچ برس کے بچے کو دن بھر میں ایک گھنٹے سے زیادہ اسکرین نہ دی جائے، مگر ہندوستانی تحقیقات کے ایک مجموعی جائزے کے مطابق پانچ برس سے کم عمر بچے اوسطاً سوا دو گھنٹے روزانہ اسکرین کے سامنے گزار رہے ہیں — یعنی تجویز کردہ حد سے دگنے سے زیادہ۔ ”اسر“ کی رپورٹ برائے ۲۰۲۴ بتاتی ہے کہ چودہ تا سولہ برس کے تقریباً بیاسی فیصد نوجوان اسمارٹ فون چلانا جانتے ہیں، مگر اُن میں تعلیم کے لیے استعمال کرنے والے ستاون فیصد ہیں اور سوشل میڈیا پر وقت گزارنے والے چھہتر فیصد۔ نیند اُچٹ رہی ہے، توجہ بکھر رہی ہے، آنکھیں اور زبان دونوں خراج دے رہی ہیں۔

مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ یہ فون بچے نے نہیں خریدا؛ ہم نے دیا۔ کبھی روتے بچے کو چپ کرانے کے لیے، کبھی مہمانوں کی محفل بچانے کے لیے، اور اکثر اپنی تھکن کو دو گھڑی آرام دینے کے لیے۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ جب کھیل کا وقت نہیں، گلی بند ہے اور گھر کے بڑے مصروف ہیں تو بچے کی زندگی میں جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ بہرحال کسی نہ کسی شے سے بھرے گا؛ ہم نے وہ خلا اسکرین کے حوالے کر دیا۔ سچ یہ ہے کہ موبائل مسئلے کی جڑ نہیں، اُن جڑوں کا پھل ہے جن کا ذکر پچھلے صفحات میں ہو چکا۔ جڑ کاٹے بغیر پھل پر ناراضی ایک بے نتیجہ مشق ہے۔

گھر میں موجود، تربیت سے غائب

چوتھا مسئلہ سب سے کم زیرِ بحث آتا ہے: تربیت میں باپ کی محدود شمولیت۔ ہماری معاشرت نے باپ کو کفیل بنا کر گویا فارغ کر دیا — فیس بھر دی، کتابیں دلا دیں، ذمے داری تمام ہوئی۔ نتیجہ یہ کہ بہت سے گھروں میں باپ جسمانی طور پر موجود اور تربیتی طور پر غائب ہے؛ بچے کے استاد کا نام اُسے معلوم نہیں، دوستوں سے وہ ناواقف ہے اور اولاد کے دل میں کیا ٹوٹ پھوٹ جاری ہے اِس کی خبر اُسے نتیجے والے دن ہوتی ہے۔

تحقیق اس خاموش خسارے کو ناپ چکی ہے۔ چوبیس طویل المیعاد مطالعات کے ایک معروف علمی جائزے (سرکادی اور رفقا، ۲۰۰۸ء) کا حاصل یہ تھا کہ جن بچوں کی زندگی میں باپ عملاً شریک رہتا ہے اُن کے سماجی، نفسیاتی اور رویّاتی نتائج نمایاں طور پر بہتر ہوتے ہیں۔ برطانیہ کے ایک بڑے تحقیقی سلسلے نے اس سے بھی باریک نکتہ دریافت کیا: بچوں پر اثر ڈالنے والی اصل شے باپ کے گھنٹوں کی تعداد نہیں بلکہ اُس کی شمولیت کا جذباتی معیار ہے۔ گویا مصروف ترین باپ بھی، اگر چاہے، حاضر باپ ہو سکتا ہے۔ اور یہ نہ بھولیے کہ باپ کی خاموشی بھی ایک سبق ہے جو بچہ روزانہ پڑھتا ہے — وہ سیکھ لیتا ہے کہ مرد کا کام کمانا ہے، سننا نہیں؛ اور یہی سبق وہ اپنی اگلی نسل کو منتقل کر دیتا ہے۔

نمبروں کی چھاؤں میں پلتا خوف

پانچواں مسئلہ امتحان کی بے چینی ہے، اور اب یہ محض تاثر نہیں بلکہ قومی سطح پر ناپا ہوا زخم ہے۔ قومی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت (این سی ای آر ٹی) نے ۲۰۲۲ء میں چھٹی تا بارہویں جماعت کے تین لاکھ اناسی ہزار سے زائد طلبہ کا سروے کیا؛ اکیاسی فیصد نے پڑھائی، امتحان اور نتائج کو اپنی بے چینی کا سبب بتایا، اور یہ بھی سامنے آیا کہ جوں جوں جماعتیں اونچی ہوتی ہیں، اسکول اور زندگی سے اطمینان گھٹتا جاتا ہے۔ اسی سروے کی سب سے دل شکن سطر وہ ہے جس میں بیشتر بچوں نے بتایا کہ اُن کے پاس کوئی نہیں جس سے وہ اپنے جذبات بانٹ سکیں۔ اور قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق صرف ۲۰۲۱ء میں تیرہ ہزار سے زائد طلبہ نے اپنی جان لے لی۔

والدین کے لیے اس مسئلے کا سب سے کٹھن پہلو یہ ہے کہ بے چینی امتحان کے ساتھ ختم نہیں ہوتی؛ نتیجے کا انتظار ایک اور امتحان ہے جس کا کوئی نصاب نہیں۔ جس گھر کی شام کی گفتگو صرف نمبروں کے گرد گھومتی ہو وہ گھر بچے کو غیر محسوس طریقے سے یہ سبق دیتا ہے کہ اُس کی قدر و قیمت ایک عدد ہے۔ اور جو بچہ خود کو عدد سمجھنے لگے وہ کم عدد آنے پر خود کو کم انسان سمجھنے لگتا ہے — یہی وہ لمحہ ہے جہاں تعلیمی دباؤ نفسیاتی بحران کی سرحد پار کرتا ہے۔

اب ذرا ٹھہر کر پورے منظر کو ایک نگاہ میں دیکھیے۔ کیا یہ پانچ الگ الگ مسئلے ہیں جن کے پانچ الگ علاج تلاش کیے جائیں؟ چار عشروں کی تعلیمی زندگی نے مجھے جو سب سے قیمتی بصیرت دی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک ہی زنجیر کی پانچ کڑیاں ہیں۔ کھیل کا وقت نصاب نے لے لیا، گلی خوف نے بند کر دی اور باپ کو معیشت نے اوڑھ لیا — اِن تینوں نے مل کر بچے کی زندگی میں ایک خلا پیدا کیا؛ وہ خلا اسکرین نے بھر لیا؛ اور اسکرین کی تنہائی میں پلنے والے بچے پر جب نمبروں کا بوجھ رکھا گیا تو بے چینی نے مستقل ٹھکانہ بنا لیا۔

اس پوری زنجیر کا نام میں ”بچپن کی بے دخلی“ رکھتا ہوں: بچہ اپنے ہی بچپن سے بے دخل کر دیا گیا ہے — میدان سے، گلی سے، باپ کی رفاقت سے، اور بالآخر اپنے آپ سے۔ اسی تشخیص سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی ایک کڑی پر تنہا حملہ کیوں ناکام رہتا ہے: فون چھین لیجیے، خلا موجود رہے گا اور کوئی اور صورت اختیار کر کے بھر جائے گا؛ ٹیوشن بند کر دیجیے، خوف بدستور بچے کو کمرے میں رکھے گا۔ علاج کڑی کا نہیں، زنجیر کا کرنا ہوگا — اور زنجیر کا علاج ہمیشہ ترتیب مانگتا ہے۔

تاریخ کا موازنہ اس ترتیب کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ہمارے بزرگ وسائل میں غریب تھے مگر وقت میں امیر؛ ہم وسائل میں آسودہ ہیں اور وقت میں قلاش۔ اُس دور کے بچے کے پاس کھلونے کم تھے اور کھیلنے والے بہت؛ آج کے بچے کے پاس کھلونوں کا انبار ہے اور کھیلنے والا کوئی نہیں۔ ترقی کا یہ عجب تضاد ہے کہ ہم نے اولاد کو سب کچھ دے کر وہ شے واپس لے لی جو بالکل مفت تھی: اپنی موجودگی۔

غالباً تاریخِ انسانی میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بچے کے کمرے میں دنیا بھر کی آوازیں موجود ہیں اور ماں باپ کی آواز سب سے مدھم۔ یہ موازنہ ماضی پرستی کے لیے نہیں — پرانا زمانہ اپنی محرومیوں سمیت واپس نہیں بلایا جا سکتا اور نہ بلانا چاہیے — بلکہ یہ سمجھنے کے لیے ہے کہ گئے دنوں کی اصل دولت مکان کا نقشہ نہیں، رشتوں کی فراغت تھی۔ اور فراغت وہ واحد دولت ہے جو ارادے سے دوبارہ کمائی جا سکتی ہے۔

چند قابلِ عمل حل

مسائل گنوانا آسان ہے، حل بتانا مشکل؛ مگر اہلِ خانہ کے لیے تسلی کی بات یہ ہے کہ ذیل کی تدابیر کسی بجٹ، کسی حکم نامے اور کسی انقلاب کی محتاج نہیں۔

پہلی تدبیر کھیل کے محفوظ گھنٹے کی ہے: دن میں ایک گھنٹہ آزاد کھیل کو وہی تقدیس دیجیے جو ٹیوشن کو حاصل ہے؛ نظام الاوقات میں جو خانہ کھیل کا ہے وہ قربانی کا خانہ نہ بنے۔

دوسری تدبیر خوف کے اہتمام کی ہے: قید کے بجائے انتظام — محلے کی سطح پر اسکول، مسجدیں اور سماجی ادارے شام کے اوقات میں اپنے میدان نگرانی کے ساتھ بچوں کے لیے کھول دیں تو حفاظت اور کھیل کی کشمکش ہی تمام ہو جائے؛ یہ کام کسی حکومت کا انتظار نہیں کرتا، بستی کے چند سنجیدہ افراد کا فیصلہ کافی ہے۔

تیسری تدبیر اسکرین کے باب میں پابندی نہیں، ضابطہ ہے: کھانے کی میز اور سونے کا کمرہ فون سے پاک رہے، اور سب سے مؤثر ضابطہ والدین کا اپنا عمل ہے، کیوں کہ بچہ نصیحت سے کم اور نقل سے زیادہ سیکھتا ہے۔

چوتھی تدبیر باپ کے بیس منٹ ہیں: روزانہ بیس منٹ، بلا فون، بلا نصیحت، صرف سننے کے لیے — تحقیق گواہی دے چکی ہے کہ شمولیت کا معیار گھنٹوں کی تعداد پر بھاری ہے۔

اور پانچویں تدبیر امتحان کی زبان بدلنا ہے: گھر میں یہ اصول راسخ کیجیے کہ نتیجہ اطلاع ہے، شناخت نہیں؛ اسکول سے واپسی پر پہلا سوال ”کتنے نمبر آئے“ کے بجائے ”آج کیا سیکھا اور کس کے کام آئے“ ہو۔ یہ پانچوں چراغ چھوٹے ہیں، مگر زنجیر کی پانچوں کڑیوں پر ایک ایک رکھ دیے جائیں تو اندھیرا ٹھہر نہیں سکتا۔

آنے والے کل کا سوال

یہ سارا معاملہ صرف آج کا نہیں۔ جو بچے اس وقت ہمارے گھروں میں پل رہے ہیں وہی کل کے والدین، اساتذہ، معالج اور حکمراں ہیں۔ جو نسل تھکن، تنہائی اور خوف کے سائے میں جوان ہو اُس سے متوازن گھر، مضبوط ادارے اور مہربان معاشرہ طلب کرنا ایسا ہی ہے جیسے بنجر زمین سے فصل کا تقاضا۔ آج کی بے چینی کل کی خاندانی زندگی میں، دفتروں کے مزاج میں اور قوم کے اجتماعی رویوں میں ظاہر ہوگی — یہ کوئی مبالغہ نہیں، تربیت کا سیدھا سا حساب ہے۔

مگر یہی سکہ الٹا بھی گرتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی درستیاں نسلوں میں نفع دیتی ہیں: آج کی ایک متوازن شام کل کے ایک متوازن گھر کی بنیاد ہے، اور آج کا ایک سنا ہوا بچہ کل کا ایک سننے والا باپ۔ والدین کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ اُن کے ہاتھ میں صرف ایک بچے کا بستہ نہیں، آنے والے وقت کی کنجی ہے — اور کنجیاں کبھی وزنی نہیں ہوتیں، بس یاد رکھنی پڑتی ہیں کہ کس جیب میں ہیں۔

عمر بھر درس گاہوں میں رہنے کے بعد میرا یقین پختہ ہو چلا ہے کہ آنگن دراصل مکان کا حصہ کبھی تھا ہی نہیں؛ وہ ماں باپ کی فرصت، بزرگوں کی موجودگی اور محلے کے اعتماد کا نام تھا۔ فلیٹوں نے ہم سے آنگن نہیں چھینا؛ ہماری مصروفیت نے چھینا ہے۔ اور جو شے مصروفیت نے چھینی ہو وہ ارادے سے واپس مل سکتی ہے — نہ اس کے لیے مکان بدلنا پڑتا ہے، نہ شہر، نہ زمانہ۔

والدین سے آخری گزارش بس اتنی ہے: اپنے بچے کے دن میں ایک ایسا وقفہ ضرور رکھیے جس کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا ہو — نہ نمبر، نہ انعام، نہ تصویر — صرف ہنسی، صرف بات، صرف ساتھ۔ جس شام آپ فون رکھ کر اولاد کے سامنے بیٹھ جائیں گے، اُسی شام آپ کے گھر میں، بغیر کسی معمار کے، ایک آنگن اُگ آئے گا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!