مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ بنام لؤ جہاد قانون غیر آئینی، مولانا حلیم اللہ قاسمی
جمعیۃ علماء ہند سپریم کورٹ آف انڈیا اور بامبے ہائی کورٹ سے رجو ع ہوگی

ممبئی 25/ اگست
مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہورہے تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیئے مہاراشٹر حکومت نے دیگر ریاستوں کی طرز پر لؤ جہاد قانون بنام مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ2026بنا دیا ہے۔ بل پر صدر جمہوریہ کی دستخط ہوجانے کے بعد یہ قانون بن کر پوری ریاست میں 28/ اگست سے نافذالعمل ہوگا۔مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے اور اس کو چیلنج کرنے کے لیئے ہم نے سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول اور بامبے ہائیکورٹ کے وکیل متین شیخ کو ہدایت دی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے اعلان سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانو ں میں شدید بے چینی ہے کیونکہ یہ قانون بغیر کسی ریسرچ یا اجتماعی مذہب تبدیلی کی خفیہ رپورٹ کے محض اقلیت دشمنی میں یہ قانون بنایا گیا ہے جس کی مہاراشٹر جیسی پر امن
ریاست میں ضرورت نہیں تھی۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ہندوستان کی 12/مختلف ریاستوں کی جانب سے بنائے گئے تبدیلی مذہب(لو جہاد) قانون کی آئینی حیثیت کو جمعیۃ علماء ہندنے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا ہے نیز مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ2026 کو نافذالعمل ہوتے ہی چیلنج کردیا جائے گا۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون میں جرم ثابت ہونے پر بہت سخت سزاؤں اور جرمانہ عائد کرنے کی شق شامل کی گئی ہے جو کہ غیر آئینی ہے کیونکہ آئین ہند نے ہندوستانی شہریوں کو مذہب پر قائم رہنے اور اپنے مذہب کی ترویج و اشاعت کی اجازت دی ہے۔اسلام جبراً مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا، لوگ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلا م مذہب کو اپناتے ہیں۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ صرف شادی کے مقصد یا کسی اور مقصد
کے تحت اسلام مذہب اختیار کرنے کی مذہب اسلام میں اجازت نہیں ہے لہذا یہ کہنا کہ ہندولڑکیوں کا مذہب تبدیل کراکر مسلمان لڑکوں سے شادیاں کرائی جارہی ہیں جھوٹ کا پلندہ ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے جس میں تحریر ہے کہ لو جہاد قانون کو بنانے کا مقصد درحقیقت ہندو اور مسلمان کے درمیان ہونے والی بین المذہب شادیوں کو روکنا ہے جو کہ آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور اس سے شخصی آزادی بھی مجروح ہوتی ہے،جس کا التزام آئین میں موجود ہے۔عرضداشت میں مزید کہا گیاہیکہ کہ ان قوانین کے ذریعہ مذہبی اور ذاتی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی ہے اور برادران وطن میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے لہذا سپریم کورٹ کو مداخلت کرکے ریاستوں کو ایسے قوانین بنانے سے
روکنا چاہئے نیز جن ریاستوں نے ایسے قانون بنائے ہیں انہیں ختم کردیا جاناچاہئے۔عرضداشت میں مزید کہاگیا کہ لو جہاد قانون بنانے کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہیکہ بین المذاہب جوڑوں کو پریشان کیاجائے تاکہ ایسی شادیوں پر روک لگ سکے۔عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ لو جہاد قانون کے ذریعہ ایک بڑی تعداد میں مسلمانوں کو گرفتار کیاجاچکا ہے ا ور یہ سلسلہ جاری ہے لہذا مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے اس غیر آئینی قانو ن کو ختم کرنا چاہئے نیز سپریم کورٹ کو تمام ریاستوں کو حکم دینا چاہئے کہ وہ ایسے قانون بنانے سے گریز کریں۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ابتک مبینہ جبراً تبدیلی مذہب کے خلاف اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان، اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ، ارونا چل پردیش، ہریانہ،کرناٹک، اڑیسہ، ہماچل پردیش اور مہاراشٹر حکومتوں نے قانون بنائے ہیں جس میں سے مہاراشٹر کو چھوڑ کر بقیہ ریاستوں کے قانون کی آئینی حیثیت کو
سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا گیا ہے۔، جمعیۃ علماء ہند نے آئین ہند کے آرٹیکل 32/ کے تحت مفاد عامہ کی پٹیشن داخل کی ہے جو زیر سماعت ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں پہلے گلزار اعظمی عرض گذار بنے تھے، گلزار اعظمی کے انتقال کے بعد نائب صد ر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید اسجد مدنی عرض گذار ہیں۔اس اہم آئینی مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کررہی ہے۔سپریم کورٹ میں زیر سماعت سول رٹ پٹیشن 40/2023/ پر 2/ ستمبر 2026کو چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی بینچ سماعت کرسکتی ہے۔




