ناندیڑ میں کروڑوں کے اسکریپ گھوٹالے کا بھانڈا پھوٹا؛ پونے کا راجویر ملہوترہ جیل پہنچا


سِپٹا کمپنی کی 5000 ٹن اسکریپ مشینری دلوانے کے نام پر ایک کروڑ 15 لاکھ روپے کی بھاری دھوکا دہی کا معاملہ شہر میں تہلکہ مچا رہا ہے۔ ناندیڑ گرامین پولیس نے تفتیش آگے بڑھاتے ہوئے پونے کے راجویر سنگھ ملہوترہ کو گرفتار کرکے عدالت کے سپرد کردیا ہے۔
چیتنیہ نگر کے رہائشی محمد طاہر علی اور ان کے ساتھی خواجہ معین الدین نے پولیس میں دی گئی شکایت میں بتایا کہ ملزم راجویر کے نام پر اسکریپ کا ٹینڈر نکلا تھا۔
12 اگست 2024 کو گواہوں کی موجودگی میں معاہدہ ہوا، اور ملزم نے مکمل اعتماد کے ساتھ اسکریپ دلوانے کی یقین دہانی کروائی۔
معاہدے کے مطابق متاثرین نے ملزم کو رقم ادا کی:
10 لاکھ روپے نقد
50 لاکھ روپے آر ٹی جی ایس کے ذریعے
5 لاکھ روپے شعیب خان کے توسط سے
اس کے بعد مزید 50 لاکھ روپے
یوں مجموعی طور پر 1 کروڑ 15 لاکھ روپے ملزم کے حوالے کیے گئے۔
لیکن اس کے بعد راجویر ملہوترہ نے اسکریپ دینے میں لگاتار ٹال مٹول شروع کی۔
متاثرین نے جب براہ راست کمپنی سے رابطہ کیا تو چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا—
کمپنی کے پاس ملزم نے ایک روپیہ بھی جمع نہیں کرایا تھا۔

رقم واپس مانگنے پر ملزم نے 30 لاکھ اور 35 لاکھ روپے کے دو چیکس دیے،
لیکن دونوں چیکس باؤنس ہوگئے، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔
شکایت کنندہ محمد طاہر علی نے 15 نومبر 2025 کو باضابطہ طور پر ناندیڑ گرامین تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی۔
انسپکٹر اوم کانت چنچولکر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس نے پونے جاکر راجویر ملہوترہ کو گرفتار کیا۔
ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پہلے ایک روزہ پولیس کسٹڈی دی گئی۔
بعد ازاں ضمانت کی درخواست داخل کی گئی، مگر عدالت نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل کسٹڈی میں بھیج دیا۔ اس کیس میں شکایت کنندگان کی جانب سے ایڈوکیٹ حبیب قاضی نے مؤثر اور مضبوط پیروی کی، جس کے نتیجے میں ملزم کی ضمانت نہ ہو سکی۔




