جرائم

پرلی میں توحید خان قتل معاملہ: ملزمان پر ‘موکا’ نافذ کیا جائے، متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ کی مالی مدد دی جائے مسلم حقوق پریشد کا مطالبہ

پرلی : کے مسلم نوجوان توحید خان کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں تمام ملزمان کے خلاف موکا (MCOCA) کے تحت کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے۔ یہ مطالبہ مسلم ادھکاری پریشد نے ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ دیویندر فڈ نویس سے کیا ہے۔

منگل کے روز تنظیم کے ایک وفد نے پربھنی کی رہائشی نائب ضلع کلکٹر انورادھا ڈھالکری سے ملاقات کرکے مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ توحید خان قتل معاملے کی غیرجانبدارانہ، گہرائی سے اور اعلیٰ سطحی جانچ کی جائے، تمام متعلقہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کے ساتھ مالی امداد بھی فراہم کی جائے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس معاملے میں اب تک دو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم پورے قتل کی سازش میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ قتل سے متعلق ایک مبینہ آڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں جرم کی حمایت کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اسی بنیاد پر معاملے کی غیرجانبدار، مفصل اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے اہم مطالبات میں تمام ملزمان اور ان کے مبینہ سرپرستوں کی فوری گرفتاری، ملزمان کے خلاف موکا (MCOCA) کے تحت کارروائی، مقدمے کو فاسٹ ٹریک عدالت میں چلانا اور متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرنا شامل ہے۔

اس موقع پر ضلع کلکٹر دفتر میں تنظیم کے صدر وحید پٹیل ، کونسلر عمران خان ، اسرار احمد، شیخ سلیمان، سید ارشاد علی، شیخ سعید حسین، عابد ملا، شیخ یونس، شیخ سیف احمد، ساجد بیلدار، محمد جنید، رحیم تمبولی، شیخ شہزاد، شیخ مزمل، شیخ علیم، یامین پٹیل اور شیخ نہال سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!