حسد کی آگ (معاشرتی بگاڑ اور انسانی رشتوں کی تباہی کا ایک جائزہ)


– ——————
✍️ محمد مسلم کبیر، لاتور
8208435414
انسانی معاشرہ محبت، اخوت، ہمدردی اور باہمی احترام کی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے، لیکن جب دلوں میں حسد، بغض اور نفرت جنم لیتی ہے تو یہی معاشرہ انتشار، بدگمانی اور نفرت کا شکار ہو جاتا ہے۔ حسد ایک ایسی باطنی بیماری ہے جو نہ صرف انسان کی روحانی زندگی کو تباہ کرتی ہے بلکہ اس کے سماجی تعلقات اور خاندانی رشتوں کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں حسد کی سخت مذمت کی گئی ہے کیونکہ یہ انسان کو خیر اور بھلائی سے دور کرکے برائی اور فساد کی طرف لے جاتا ہے۔
حسد کیا ہے؟
حسد اس کیفیت کا نام ہے کہ انسان کسی دوسرے شخص کو ملی ہوئی نعمت، عزت، دولت یا کامیابی کو دیکھ کر دل میں یہ خواہش رکھے کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے۔ یہ احساس دراصل اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر عدمِ رضا اور اپنی کمزوریوں سے غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔”حسد درحقیقت ایک ایسی آگ ہے جو پہلے حسد کرنے والے کے دل کو جلاتی ہے، پھر اس کے ذریعے پورے معاشرے میں نفرت اور فساد پھیلتا ہے۔

بیجا عداوت اور دشمنی:
جب حسد دل میں جگہ بنا لیتا ہے تو انسان دوسروں کی کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً وہ بلاوجہ دشمنی اور عداوت کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی شخص نے کوئی نقصان بھی نہیں پہنچایا ہوتا، لیکن صرف اس کی ترقی، عزت یا مقبولیت حسد کرنے والے کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔یہ بیجا عداوت انسان کو انصاف، اخلاق اور شرافت سے دور کر دیتی ہے۔ وہ ہر وقت دوسروں کو نیچا دکھانے اور ان کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف رہتا ہے۔
شخصی مخاصمت کا زہر:
حسد کی آگ جب بڑھتی ہے تو شخصی مخاصمت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ معمولی اختلافات ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کی خوبیوں کو نظر انداز کرکے صرف خامیوں کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔آج بہت سے خاندانوں، اداروں اور تنظیموں میں جو تنازعات نظر آتے ہیں، ان کی جڑ میں اکثر ذاتی عناد اور حسد کارفرما ہوتا ہے۔ اس رویے سے نہ صرف افراد متاثر ہوتے ہیں بلکہ اجتماعی ترقی بھی رک جاتی ہے۔
خیالات میں اختلاف اور برداشت کا فقدان:
اختلافِ رائے ایک فطری اور مثبت چیز ہے۔ دنیا میں کوئی دو انسان مکمل طور پر ایک جیسے خیالات نہیں رکھتے، لیکن جب اختلاف کے ساتھ حسد شامل ہو جائے تو برداشت ختم ہو جاتی ہے۔پھر انسان دلیل اور مکالمے کے بجائے تحقیر، تذلیل اور الزام تراشی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ ہر اس شخص کو اپنا مخالف سمجھنے لگتا ہے جو اس کے نظریات سے مختلف رائے رکھتا ہو۔ یوں معاشرے میں فکری انتشار اور نفرت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
آپسی رنجش اور دلوں کی دوری:
حسد دلوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنجشیں پیدا ہوتی ہیں اور برسوں تک ختم نہیں ہوتیں۔ خاندانوں میں قطع تعلقی، دوستوں میں بدگمانیاں اور پڑوسیوں میں نفرت کی بڑی وجہ یہی حسد اور انا ہوتی ہے۔جب دل صاف نہ ہوں تو محبت، خلوص اور اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً انسان ظاہری طور پر لوگوں کے ساتھ رہتا ہے لیکن دلوں میں فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

رشتوں میں دراڑ:
رشتے اعتماد، قربانی اور محبت سے قائم رہتے ہیں۔ حسد ان تمام بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ بعض اوقات بھائی بھائی کے خلاف، بہن بہن کے خلاف اور قریبی عزیز ایک دوسرے کے مخالف ہو جاتے ہیں.وراثت کے معاملات، کاروباری شراکتیں یا خاندانی معاملات اکثر حسد اور لالچ کی وجہ سے تنازعات کا شکار ہوتے ہیں۔ جب انسان دوسروں کی خوشی کو اپنی ناکامی سمجھنے لگے تو رشتوں میں دراڑ پیدا ہونا یقینی ہو جاتا ہے۔
مال و دولت کا غرور:
مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے، لیکن جب یہ غرور کا سبب بن جائے تو انسان دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ دولت کا غرور حسد کو بھی جنم دیتا ہے اور حسد کو بھی بڑھاتا ہے۔بعض لوگ اپنی مالی حیثیت کی بنا پر دوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں، جبکہ بعض لوگ دوسروں کی خوشحالی دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ دونوں رویے معاشرتی توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔اسلام نے مال کو خدمتِ خلق اور شکرِ الٰہی کا ذریعہ بنایا ہے، نہ کہ تکبر اور تفاخر کا۔
عزت اور بڑا پن کی شدید خواہش:
انسانی نفس کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہر جگہ اپنی برتری اور فوقیت چاہتا ہے۔ جب عزت اور بڑا پن حاصل کرنے کی خواہش حد سے بڑھ جائے تو انسان دوسروں کی عزت برداشت نہیں کر پاتا۔
وہ چاہتا ہے کہ ہر تعریف صرف اس کے حصے میں آئے، ہر کامیابی کا مرکز وہی ہو اور ہر مجلس میں اسی کا چرچا ہو۔ یہ رویہ حسد کو جنم دیتا ہے اور انسان کو تکبر، خود پسندی اور دوسروں کی تحقیر کی طرف لے جاتا ہے۔حقیقی عزت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جو شخص عاجزی، اخلاص اور خدمتِ خلق کو اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے دلوں میں مقام عطا فرماتا ہے۔
حسد کے نقصانات:
حسد کے متعدد نقصانات ہیں:*دل کا سکون ختم ہو جاتا ہے*عبادات کا اثر کم ہو جاتا ہے۔*نیک اعمال ضائع ہونے لگتے ہیں۔*معاشرے میں نفرت اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔*رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔*انسان مسلسل ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔*اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔
حسد سے بچنے کے طریقے:
اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنا۔*دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا۔
شکر گزاری کی عادت اپنانا۔*عاجزی اور انکساری اختیار کرنا۔*اپنے عیوب اور اصلاح پر توجہ دینا۔*دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرنا۔*قرآنِ کریم کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی کا اہتمام کرنا۔
حسد ایک ایسی آگ ہے جو سب سے پہلے حسد کرنے والے کو جلاتی ہے اور پھر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ بیجا عداوت، شخصی مخاصمت، اختلافات میں شدت، آپسی رنجشیں، رشتوں میں دراڑ، دولت کا غرور اور عزت و برتری کی بے جا خواہش سب اسی آگ کے شعلے ہیں۔ اگر ہم ایک پُرامن، محبت بھرا اور متحد معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے دلوں کو حسد، بغض اور نفرت سے پاک کرنا ہوگا اور اخلاص، محبت، عفو و درگزر اور خیر خواہی کو اپنانا ہوگا۔ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا اور کامیاب زندگی کا راستہ ہے۔




