ٹاسک کوچنگ کلاسیس کی تہنیتی تقریب، دسویں جماعت کے نمایاں کامیاب طلبہ کا شاندار اعزاز

ٹاسک کوچنگ کلاسیس سے تعلیم حاصل کرکے دسویں جماعت میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ ساتھ آٹھویں اور نویں جماعت کے نمایاں کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایک پروقار تہنیتی تقریب منعقد کی گئی۔تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی ٹاسک کوچنگ کلاسیس کی سابق طالبہ اور موجودہ صدر مدرسہ محترمہ ___ اور ان کے شوہر کو مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کے بعد طالبات نے “تعلیم کی اہمیت” کے موضوع پر تقاریر پیش کیں۔ مقرر طالبات نے موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کامیاب زندگی کے لیے اعلیٰ تعلیم

کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دسویں جماعت میں کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ گیارہویں اور بارہویں جماعت میں مزید محنت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ محنت اور لگن کے ذریعے بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل اور انجینئرنگ ہی کامیابی کا واحد راستہ نہیں، بلکہ قوم کو اچھے وکلا، اساتذہ اور دیگر شعبوں کے ماہرین کی بھی ضرورت ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں روشن مستقبل کے بے شمار مواقع موجود ہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ
طلبہ اپنا واضح ہدف متعین کریں اور اسے حاصل کرنے کے لیے پوری دلجمعی سے محنت کریں۔اپنی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دسویں جماعت کے نتائج میں وہ اپنی کلاس کی ٹاپر نہیں تھیں، لیکن بعد میں مسلسل محنت اور لگن کے ساتھ تعلیم پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں بی ایس سی اور ایم سی اے میں یونیورسٹی ٹاپ کرکے نمایاں مقام حاصل کیا۔ٹاسک کوچنگ کلاسیس کے روحِ رواں محمد حامد سر اور ڈاکٹر جاوید اقبال سر نے بھی خطاب کیا۔ محمد حامد سر نے کہا کہ ٹاسک کوچنگ کلاسیس میں صرف معیاری تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ طلبہ کی کردار سازی

اور زندگی کے مقصد کے تعین پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ذہین طلبہ ہی نہیں بلکہ کمزور طلبہ کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ وہ بھی کامیابی کی بلندیوں تک پہنچ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ سالانہ تقریب صرف ایس ایس سی کے طلبہ کے لیے نہیں بلکہ آٹھویں اور نویں جماعت کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی منعقد کی جاتی ہے تاکہ وہ بھی آئندہ بورڈ امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں میں شامل ہوسکیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 22 برسوں میں ٹاسک کوچنگ کلاسیس سے تعلیم حاصل کرنے والے کئی
طلبہ آج میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں تعلیم کے میدان میں مسلسل تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے تعلیم کے حصول کو آسان تو بنایا ہے، لیکن مقابلہ بھی سخت کردیا ہے۔ ایسے حالات میں طلبہ کی کامیابی میں اساتذہ کے ساتھ والدین کا کردار بھی انتہائی اہم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھر میں بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 22 سال قبل ٹاسک کوچنگ کلاسیس کا آغاز ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا تاکہ مسلم طلبہ کو

معیاری تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ان کی اخلاقی تربیت بھی کی جاسکے۔تقریب میں سب سے پہلے آٹھویں اور نویں جماعت کے کامیاب طلبہ کو تہنیت پیش کی گئی اور انہیں یادگاری تحائف اور پھول پیش کیے گئے۔ بعد ازاں انگریزی، ریاضی، سائنس اور مراٹھی مضامین میں نمایاں نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کو میڈل دے کر سراہا گیا۔آخر میں دسویں جماعت میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے تمام طلبہ کی گلپوشی اور تہنیت کی گئی۔واضح رہے کہ ٹاسک کوچنگ کلاسیس سے اس مرتبہ 64 طلبہ نے دسویں کے امتحان میں دیا ۔جس میں تمام ہی طلبہ کامیاب رہے ۔4 طلبہ
نے 90 فیصد سے زائد نمبرات حاصل کئے جبکہ چالیس سے زائد طلبہ نے 80 فیصد سے زائد نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کی ۔اسی طرح بیس سے زائد طلبہ نے مختلف مضامین میں 100 میں سے 90 سے زائد نمبرات حاصل کئے ۔ طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے سرپرستوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب میں طلبہ اور والدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
تقریب کی نظامت ___ نے انجام دی جبکہ اظہارِ تشکر ___ نے ادا کیا۔





