قومی

کیرالا لشکر طیبہ مقدمہ سپریم کورٹ آف انڈیا 18/ سالوں سے جیل میں مقیدملزمین کی اپیلوں پر سپریم کورٹ حتمی سماعت کرنے کے لیئے تیار

جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) نے قانونی امداد فراہم کی

نئی دہلی۳/ اکتوبر سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے گذشتہ کل 18/ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزا کاٹنے والے ملزمین کی اپیلوں پر حتمی سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس سندریش اور جسٹس پرسنا بی ورالے نے سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال ودیگر وکلاء کے دلائل کی سماعت کے بعد حکم جاری کیا۔ دفاعی وکلاء نے عدالت سے ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کی تھی جسے عدالت نے یہ کہتے ہو ئے مسترد کردیا کہ ملزمین کودہشت گردی جیسے سخت الزام کے

تحت عمر قید کی سزا دی گئی ہے لہذا عدالت ان کی ضمانت پر رہائی عرضداشتوں پر سماعت کرنے کی بجائے ان کی اپیلوں پر چار مہینہ کے بعد سماعت کریگی۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا ایشوریا بھاٹی نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ ملزمین کا تعلق لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیم سے ہے جس پر حکومت ہند نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔ انہوں نے عدالت کومزید بتایا کہ عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین پر ایک سے زائد مقدمات ہیں لہذا ان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کومسترد کیاجائے۔ اسی درمیان دفاعی وکلاء نے عدالت سے ملزمین کی اپیلوں پر جلد از جلد سماعت کیئے جانے کی گذارش کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

واضح رہے کہ کیرالا ہائی کورٹ کی جانب سے ملنے والی عمر قید کی سزا کو ملزمین نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا ہے۔تقریباًدو سال قبل سپریم کورٹ آف انڈیا نے پٹیشن کو سماعت کے لئے قبول کرلیا تھا۔ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے کیرالا ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست بھی داخل کی تھی جس پر گذشتہ کل سماعت عمل میں آئی۔ ملزمین ناصر حاجی استاد، شفاس شمس الدین، عبدالجبار،سرفراز نواز،عبدالبشیر، پی مجیب، ابراہیم مولوی اور سین الدین ستار بھائی نے جمعیۃعلماء قانونی امداد کمیٹی کی مدد سے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔ ملزمین کی جانب سے

ایڈوکیٹ آن ریکارڈ جارج تھامس نے پٹیشن داخل کی ہے۔خیال رہے کہ کیرالا سیمی مقدمہ میں کیرالا ہائی کورٹ نے 9/ مئی 2022 کو بیس ملز مین کوعمرقید کی سزا سنائی تھی، بیس ملزمین میں سے آٹھ ملزمین ناصر حاجی استاد، شفاس شمس الدین، عبدالجبار،سرفراز نواز،عبدالبشیر، پی مجیب، ابراہیم مولوی اور سین الدین ستار بھائی نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ملزمین سال2008 سے سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ ریاست میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا چاہتے تھے اور ان کا ممنوع تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق تھا۔قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے ملزمین پر جہادی ذہنیت اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!