مضامین

Episode 2: سپاہی کا وعدہ

(پس منظر میں گھوڑوں کی ٹاپیں، دور سے جنگ کے طبل کی آواز، ہوا میں دھول اور بارود کی مہک…)
راوی (گہری، سنجیدہ آواز میں):
"ہر بادشاہ کو اپنی سلطنت کے لیے ایک وفادار سپاہی چاہیے…
لیکن کبھی کبھی ایک سپاہی خود بادشاہت سے بھی زیادہ عظیم ہو جاتا ہے۔”
صبح کا وقت تھا۔ لال قلعے کے باہر لشکر جمع ہو چکا تھا۔
سپاہیوں کے درمیان ایک جوان کھڑا تھا — آرِف خان۔
چمکتی آنکھیں، کندھے پر تلوار، اور دل میں ایمان کا جذبہ۔
کپتان نے آواز لگائی:
"آرِف! بادشاہ نے تمہیں سرحدی محاذ پر روانہ ہونے کا حکم دیا ہے۔”
آرِف نے تلوار سیدھی کی، آسمان کی طرف دیکھا اور بولا:
"جہاں پناہ کو کہہ دینا، آرِف اپنی جان تو دے سکتا ہے، مگر عہد نہیں توڑ سکتا۔
یہ سرحد گرے گی تو میری لاش کے بعد!”
(ہوا میں تلواروں کی آواز گونجتی ہے…)
اسی لمحے، بادشاہ زین العابدین قلعے کی فصیل پر کھڑا لشکر کو رخصت کر رہا تھا۔
اس کے لبوں پر دعا تھی، آنکھوں میں فخر —
"اے اللہ! میرے سپاہیوں کو ایمان کی طاقت عطا فرما۔”
آرِف نے آخری بار قلعے کی طرف دیکھا۔
اسے احساس تھا کہ شاید واپسی مقدر نہیں،
لیکن وفا کرنے والے سپاہی موت سے نہیں ڈرتے —
وہ جانتے ہیں کہ کبھی کبھی شہادت ہی زندگی بن جاتی ہے۔
(پیچھے اذان کی صدا بلند ہوتی ہے — “اللہ اکبر…”)
راوی:
"اس لمحے دہلی کی زمین نے ایک نیا عہد لکھ لیا —
ایک سپاہی، ایک وعدہ، اور ایک تاریخ جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔”
تحریر: شیخ فردین
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!