مضامین

Episode 3: پہلی غداری

(پس منظر میں جنگ کے طبل کی گونج، گھوڑوں کی چیخیں، بارود کی آواز، اور آسمان پر سیاہ بادل…)
راوی (گہری آواز میں):
"ہر جنگ میدان میں نہیں ہاری جاتی…
کچھ جنگیں انسانوں کے دلوں میں ہار جاتی ہیں۔”
شام کا وقت تھا۔
سرحد کے قریب ایک خاموشی پھیلی ہوئی تھی،
جیسے ہوا خود سانس روکے کسی طوفان کا انتظار کر رہی ہو۔
سپاہی آرِف خان اپنے دستے کے ساتھ خیمے میں بیٹھا
قرآن کی چند آیتیں پڑھ رہا تھا۔
اسی وقت کیپٹن فاروق اندر داخل ہوا — چہرے پر گھبراہٹ،
اور آنکھوں میں ایک عجیب سا اندھیرا۔
فاروق (دھیمی آواز میں):
"آرِف… آج رات حملہ نہیں ہوگا۔ حکم بدلا گیا ہے۔”
آرِف:
"کیا؟ بادشاہ نے خود حملے کا حکم دیا تھا۔ کیوں روکا گیا؟”
فاروق (نظریں جھکاتے ہوئے):
"یہ نیا حکم وزیر فرید خان کا ہے۔ بادشاہ کو اطلاع نہیں۔”
(راوی کی آواز گونجتی ہے)
"یہ وہ لمحہ تھا جہاں وفا اور غداری آمنے سامنے کھڑے تھے۔”
آرِف نے فوراً گھوڑا سنبھالا اور بادشاہ کے خیمے کی طرف دوڑا۔
لیکن راستے میں دشمن کے تیر چلنے لگے —
اور دور، ایک اونچے ٹیلے پر،
ایک سیاہ سایہ بادشاہ کی فوج کی پوزیشن دشمن کو بتا رہا تھا۔
راوی (سخت لہجہ میں):
"غداری شروع ہو چکی تھی…
اور دشمن کو قلعے کا راستہ بتانے والا کوئی غیر نہیں،
بلکہ دربار کا ہی ایک وزیر تھا!”
آرِف کے ساتھی زخمی ہو چکے تھے،
لیکن وہ چیخ کر بولا:
"جس نے سلطنت کا سودا کیا ہے، وہ زندہ نہیں بچے گا!”
(تلواروں کی ٹکر، چیخوں کی آواز، اور آسمان پر گرج چمک…)
راوی:
"یوں تاریخ نے اپنا پہلا زخم کھایا —
ایک وفادار سپاہی زخمی ہوا،
اور ایک غدار نے سلطنت کے دروازے دشمن کے لیے کھول دیے۔”
 تحریر: شیخ فردین
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!