شیگائوں میں قمار بازی کا بڑا انکشاف؛ ساڑھے سترہ لاکھ روپے نقدی، 17 گاڑیاں، 52 موبائل ضبط ،61 ؍افراد گرفتار

بلڈانہ ،۱؍نومبر(ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ) روحانیت اور ثقافت کے مرکز کے طور پر مشہور شیگائوں سے ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ سال بھر مذہبی اور ثقافتی پروگراموں سے گونجنے والے اس علاقے میں پولیس نے ایک ایسے بڑے جوئے کے اڈے پر چھاپہ مار کارروائی کی جس نے پورے ضلع کو حیران کر دیا ہے۔ اس کارروائی سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ سنتوں کی اس بستی میں غیر قانونی کاروبار نے کس حد تک جڑیں جما لی ہیں۔ڈاکٹر شری نِک لوڈھا، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (کھام گائوں) کی قیادت میں پولیس ٹیم نے شیگائوں میں واقع ایک بڑے جوئے کے اڈے پر چھاپہ مار کر نقد رقم 17 لاکھ 52 ہزار 320 روپے، 12 قیمتی کاریں، 5 موٹر سائیکلیں، 52 موبائل فون سمیت 62 لاکھ روپے سے زائد کا مال ضبط کیا ہے۔ یہ کارروائی جمعہ 31 اکتوبر کی نصف شب کو انجام دی گئی۔اس جوئے کے اڈے میں شیگائوں کے مشہور آدرش ریزورٹ کے مالک ولاس پرلہاد گھاٹو لے سمیت جَلگاؤں، آکولہ اور بلڈہانہ اضلاع کے قمار باز شامل تھے۔
گرفتار شدگان میں اکثریت جَلگاؤں (خاندیش) ضلع کے جوئے کے شوقین افراد کی ہے۔ایڈیشنل ایس پی ڈاکٹر شری نِک لوڈھا کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ آدرش ریزورٹ میں بڑے پیمانے پر جوا کھیلا جا رہا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ان کی زیرِ نگرانی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں اے ایس آئی سچن پاٹل، ہیڈ کانسٹیبل پربھنجن جوشی، شیوشنکر وائل، بامو ڈابیراؤ، گویند ستاو، شیخ مجیب، نیتن پاٹل، سندیپ گَوَئی، کانسٹیبل امر دیپ ٹھاکور اور آشی ٹھاکور شامل تھے۔یہ ٹیم 31 اکتوبر کی رات 50:11بجے آدرش ریزورٹ پہنچی اور اچانک چھاپہ مار دیا۔ پولیس کے پہنچتے ہی وہاں موجود تقریباً 60 افراد جوا کھیلتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ موقع پر موجود تمام نقدی، گاڑیاں، موبائل فون اور دیگر سامان ضبط کر لیا گیا۔
پولیس نے ریزورٹ کے مالک سمیت کل 61 افراد کے خلاف مہاراشٹر جوا ایکٹ کی دفعات 4 اور 5 کے تحت شیگائوں سٹی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔یہ کارروائی بلڈہانہ کے ایس پی نلیش تامبے، ایڈیشنل ایس پی ڈاکٹر شری نِک لوڈھا اور ڈی ایس پی پردیپ پاٹل کی رہنمائی میں انجام دی گئی۔ اس سنسنی خیز کارروائی کی مزید تفتیش شیگائوں پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر نیتن پاٹل کی نگرانی میں سب انسپکٹر سندیپ بارین گے کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق، اس جوئے کے نیٹ ورک کے تار تین اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں اور اس معاملے میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ سنتوں کے شہر میں اس غیر قانونی کاروبار کے انکشاف سے شہری حلقوں میں سخت ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔




