مضامین
بنی میناشے اور اسرائیلی ڈیموگرافک اسٹریٹیجی مذہبی ہجرت یا جغرافیائی منصوبہ؟

۔مسعود محبوب خان (ممبئی)اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایک نہایت اہم اور دور رس نتائج کے حامل منصوبے کی منظوری دی ہے جس کا تعلق بھارتی ریاستوں منی پور اور میزورام سے تعلق رکھنے والے نسلی گروہ "بنی میناشے” کی اسرائیل منتقلی سے ہے۔ بنی مناشے (Bnei Menashe) ایک نسلی و مذہبی گروہ ہے جو شمال مشرقی بھارت کے ریاستوں میزورم اور منی پور سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ لوگ خود کو وہ "کھوئی ہوئی” یہودی قوموں (Lost Tribes of Israel) خاص طور پر بائبل کے قبیلے Manasseh کا وارث سمجھتے ہیں۔ ان کی اصل زبانیں Tibeto-Burmese لسانی خاندان کی ہیں (Mizo، Kuki/Chin وغیرہ)۔ تاہم مذہبی و ثقافتی طور پر انہوں نے عبرانی رسم و رواج، یومِ شبات (Sabbath)، یہودی تہوار اور عباداتی مراسم اپنانے کی کوشش کی ہے۔ رواج کے مطابق بنی میناشے کا یہودی پن صدیوں پہلے اپنا کھو چکا تھا، مگر 1951ء میں ایک قبیلائی بزرگ کے خواب کے بعد ایک "یہودی بحالی تحریک” شروع ہوئی جس نے جدید دور میں انہیں دوبارہ یہودی شناخت دلانے کی بنیاد فراہم کی۔
بائبل کے مطابق، قبیلے Manasseh کو تقریباً 2720 سال قبل (Assyrian Empire کی فتوحات کے دوران) بے دخل کیا گیا تھا۔ بنی میناشے کی روایت بتاتی ہے کہ ان کی بشری سلسلہ اس تباہی کے بعد صحراؤں، وسطی ایشیا، یا پھر چین کے راستے بھارت پہنچی۔ ضابطہ جاتی دستاویزی شواہد اس اثبات کے لیے کم ہیں: 2003ء–2004ء میں بعض DNA ٹیسٹ کیے گئے تھے جن کا نتیجہ "متاثر کن مگر غیر قطعی” رہا۔ جب 1980ء–90ء کی دہائیوں میں ان آبادیوں سے باہر کے یہودی عالم ان سے جڑے، تو انہیں عبرانی سکھایا گیا، ان پر صیہونی تنظیموں کی توجہ مبذول ہوئی اور ان کی صورتِ حال "چھپی یہودی برادری” سے "اسلامی شناخت پانے والی یہودی برادری” کی سمت میں منتقل ہوئی۔ یہ اقدام محض ایک مذہبی یا نسلی انضمام کا معاملہ نہیں بلکہ ایک منظم آبادیاتی اور جغرافیائی اسٹریٹیجی کا حصّہ ہے جس کے ذریعے اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں یہودی
آبادی کا تناسب بڑھا کر اپنے سیاسی و عسکری اہداف کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے ایک منظم اور وسیع آبادیاتی منصوبہ منظور کیا ہے، جس کے تحت بھارت میں مقیم بنی میناشے قبیلے کے باقی ماندہ افراد کو مرحلہ وار اسرائیل منتقل کیا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق پہلی لہر میں 2026ء تک تقریباً 1,200 افراد کی منتقلی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ 2030ء تک یہ تعداد بڑھا کر 5,800 تا 6,000 تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس نئی آبادی کو اسرائیلی معاشرتی و مذہبی ڈھانچے میں مکمل طور پر جذب کرنے کے لیے ان سے ارتدادی (Orthodox) مذہبی قبولیت کرائی جائے گی، عبرانی زبان سکھائی جائے گی، اور انہیں رہائش، تعلیم اور روزگار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ بطور "یہودی شہری” اسرائیلی نظام کا فعال حصّہ بن جائیں۔
اس منصوبے کے تحت زیادہ تر افراد کو Nof HaGalil سمیت اسرائیل کے شمالی سرحدی علاقوں میں آباد کیا جائے گا۔ وہی خطّہ جو طویل عرصے سے حزب اللّٰہ کے ساتھ تنازعات کا مرکز رہا ہے اور حالیہ جنگی حالات کے باعث مقامی یہودی آبادی کی بڑی تعداد وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔ ایسے میں بنی میناشے کی آمد کو اسرائیلی حکومت سرحدی حفاظتی لائن کو از سرِ نو مضبوط بنانے اور demography کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کے ایک اہم ہتھیار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ دراصل یہی وہ علاقے ہیں جنہیں اسرائیل حالیہ جنگوں اور جغرافیائی کشیدگی کے بعد دوبارہ آباد اور مستحکم کرنا چاہتا ہے اور یہی اس منصوبے کا مرکزی مقصد بھی دکھائی دیتا ہے۔
اس منصوبے کی ایک اور اہم جہت بین الاقوامی تعاون ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق بھارت کی موجودہ حکومت بھی اس پالیسی کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ بھارت میں آباد یہ نسلی گروہ خود کو بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل میں سے "قبیلہ مناشے” کی نسل سمجھتا ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں انہیں یہودی شناخت دلوانے کی ایک منظم کوشش جاری رہی۔ 2005ء میں سفاردی چیف ربی کی جانب سے انہیں باضابطہ یہودی نسل تسلیم کر لینے کے بعد اسرائیل میں ان کی آبادکاری کے راستے مکمل طور پر کھل گئے۔
یہ اقدام محض ایک مذہبی یا ہجرتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک منظم آبادیاتی و جغرافیائی حکمتِ عملی کا حصّہ معلوم ہوتا ہے، جس کے چند پہلو یوں ہیں:
1۔ سرحدی علاقوں پر وفادار آبادی: شمالی اسرائیل اور سرحدی پٹی پر بیس کرنا ایسے افراد جو مذہبی و نسلی اعتبار سے وفادار ہوں، ایک "زندہ ڈھال” یا "First Line Defence” کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
2۔ ڈیموگرافک توازن: فلسطینی اور عرب آبادی کے مقابلے میں یہودی آبادی کا تناسب برقرار رکھنا۔ خاص طور پر حساس سرحدی علاقے، اسرائیلی ریاست کا دیرینہ ہدف رہا ہے۔ بنی میناشے کو یہاں آباد کر کے یہودی ڈیموگرافی کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
3۔ عسکری وسائل کی افزائش: متعدد رپورٹس بتاتی ہیں کہ بنی میناشے کے نوجوان اسرائیل میں فوجی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ موجودہ جنگ اور سلامتی بحران کے تناظر میں نئے شہریوں کو فوجی تربیت اور دفاعی ذمّہ داریوں کے لیے استعمال کرنا، صہیونی حکمتِ عملی کا مؤثر پہلو ہو سکتا ہے۔
4۔ پالٹیکل و بین الاقوامی تصویر: یہ اقدام ایک نظریاتی نعرے "یہود کی واپسی” کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پالیسی خاص طور پر بھارت اور اسرائیل کی بڑھتی قربت کا عملی نتیجہ بھی ہے۔ بھارتی حکومت کی خاموش رضامندی، یا براہِ راست تعاون، اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس آبادیاتی منصوبہ کو صرف مذہبی یا سماجی تحریک نہیں بلکہ دونوں ممالک کے سیاسی مفادات سے بھی جوڑا گیا ہے۔
یہاں چند نہایت اہم سوالات اور خدشات جنم لیتے ہیں:
اسرائیل نے ہمیشہ سے ارضِ فلسطین کی آبادیاتی ساخت (Demography) کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ مقامی مسلمان اور عیسائی فلسطینیوں کو بے گھر کرنا، ان کی تعداد کم کرنے کے مختلف حربے استعمال کرنا اور دوسری جانب دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر مقبوضہ علاقوں میں بسانا صیہونی تحریک کی طویل المدت حکمتِ عملی کا بنیادی حصّہ رہا ہے۔
نام نہاد "الٹیڈ یہودی واپسی” (Aliyah) کے نام پر اسرائیلی ریاست در حقیقت حساس اور متنازع خطّوں خصوصاً شمالی اسرائیل اور سرحدی علاقوں میں آبادکاری بڑھا کر اپنی استعمار پسند قوت کو مضبوط کرتی رہی ہے۔ یہ سلسلہ صرف مذہبی عقائد کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی و
جغرافیائی منصوبہ بندی کے تحت جاری ہے۔

اسی تناظر میں بنی میناشے کی منظم آبادکاری قابلِ توجہ ہے، جو اسرائیل کی جانب سے آبادیاتی توازن بدلنے کی جدید ترین کوشش ہے اور شدید تنازع کا باعث بھی۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت ور اقوام ہمیشہ ڈیموگرافی کو قبضے کی پالیسیوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں، اور فلسطین اس روش کی سب سے روشن مثال بن چکا ہے۔
غزہ کی حالیہ جنگ نے اسرائیلی معاشرے کو سیکلوجیکل شاک اور بڑے پیمانے پر افرادی نقصان سے دوچار کیا ہے۔ ممکن ہے کہ نئے افراد کی آمد مستقبل میں فوجی اور دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسانی وسائل کی فراہمی کے طور پر دیکھی جا رہی ہو۔ اسرائیل کے لیے ہر نیا آبادکار، مستقبل کا سپاہی یا "سرحدی محافظ” کہلانے کا امکان رکھتا ہے۔
جن علاقوں میں بنی میناشے کو بسانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، وہ لبنان اور شام کی سرحدوں کے قریب واقع ہیں۔ ایسے خطّے جہاں عشروں سے عسکری کشمکش جاری ہے اور جو کسی بھی وقت بڑے تصادم کی آماجگاہ بن سکتے ہیں۔ ان حساس علاقوں میں نئی آبادی کی تنصیب دراصل دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر ایک زندہ فاصلہ جاتی ڈھال (Human Buffer Zone) تشکیل دینے کی کوشش ہے۔ استعمار کی تاریخ گواہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں مخصوص وفادار آبادیوں کو لا کر بسایا جاتا ہے تاکہ دشمن کی پہلی ضرب انہی پر پڑے اور مرکزی ریاست محفوظ رہے۔ اسرائیلی پالیسی میں بھی یہی طریقہ کار ایک نئے انداز سے بروئے کار آتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ امر توجہ طلب ہے کہ بنی میناشے نسلی و لسانی طور پر Tibeto-Burmese پس منظر رکھتے ہیں، اس کے باوجود انہیں مذہبی بنیاد پر اسرائیل میں شامل کیا جا رہا ہے اور بظاہر انہیں مستقبل میں سکیورٹی و عسکری ذمّہ داریوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس طرح انہیں سرحدی دفاعی لائن کا حصّہ بنا کر، ایک ایسے جغرافیائی منصوبے کی تکمیل کی جا رہی ہے جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں مضبوط یہودی آبادیاتی غلبہ قائم کرنا ہے۔ لہٰذا یہ اقدام محض مذہبی ہجرت نہیں بلکہ ایک آبادیاتی و عسکری حکمتِ عملی ہے، جس سے اسرائیل اپنی سرحدوں پر قبضہ مضبوط کرنے اور ممکنہ خطرات کو باہر کی جانب موڑنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
یہ معاملہ محض ایک معمول کی ہجرت کا نہیں، بلکہ ایک نہایت منظم اور دور رس سیاسی و عسکری حکمتِ عملی کا حصّہ ہے، جس کے ذریعے صیہونی منصوبہ بندی اور مفادات کو تقویت دی جا رہی ہے۔ مقبوضہ خطّوں میں آبادیاتی غلبے کی نئی فصل کا آغاز ہو رہا ہے۔ اسرائیل کے شمالی سرحدی علاقوں کو جغرافیائی اور دفاعی اعتبار سے مستحکم کیا جا رہا ہے۔ مستقبل کے عسکری انسانی وسائل اور سرحدی دفاعی لائن کو مضبوط بنانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے
یہ تمام کوششیں اُس صیہونی بیانیے کا تسلسل ہیں جو گزشتہ ایک صدی سے خطے کو ازسرِنو ترتیب دینے کے لیے جاری ہے، ایسا بیانیہ جس کا بنیادی ہدف ارضِ فلسطین پر مکمل قبضہ، فلسطینی وجود کو حاشیے پر دھکیلنا اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی بالادستی کو مستحکم کرنا ہے۔ اسی تناظر میں بنی میناشے کی منتقلی ایک جدید آبادیاتی حربے کے طور پر سامنے آتی ہے، جس کے ذریعے نہ صرف سرحدی جغرافیہ کو تبدیل کیا جا رہا ہے بلکہ خطّے کی سیاسی حقیقتوں کو بھی اسرائیل کے حق میں نئی تشکیل دینے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم، اس منصوبے کے ساتھ متعدد سنگین سوالات اور اخلاقی پیچیدگیاں بھی وابستہ ہیں:
نسلی و لسانی معیار اور شناخت: بنی میناشے کی جغرافیائی اور نسلی شناخت Tibeto-Burmese ہے؛ انہیں صدیوں بعد "یہودی” تسلیم کرنا ایک تاریخی اور لسانی تناظر کے تناؤ کا باعث ہو سکتا ہے۔ DNA ٹیسٹ غیر قطعی رہے ہیں، اور ان کی یہودی شناخت تاریخی شہادتوں پر مبنی ہے، نہ کہ غیر متنازع دستاویزی ثبوتوں پر۔
مقامی معاشرہ اور انضمام: بھارت میں ان کی کمیونٹی Mizoram/Manipur کی مقامی آبادی سے نسلی، لسانی اور ثقافتی طور پر بہت مختلف ہے۔ اگر بڑی تعداد میں افراد ہجرت کریں تو یہ مقامی ثقافتوں اور برادریوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
عسکری استعمال اور سرحدی کشیدگی: جو لوگ شمالی اسرائیل اور سرحدی علاقوں میں آباد کیے جائیں گے، انہیں عسکری اور حفاظتی ذمّہ داریوں کے لیے بطور "ڈھال” استعمال کرنا، یہ انسانی اور اخلاقی نقطہ نظر سے سوالیہ ہے۔
اصل محرکات— مذہبی یا معاشی؟: بسا اوقات بنی میناشے کے بعض افراد معاشی ضروریات، روزگار، بہتر معیارِ زندگی کی وجہ سے ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ ہجرت محض مذہبی وابستگی کی بنیاد پر ہے، یا اقتصادی و سماجی دباؤ بھی اس میں کردار ادا کر رہے ہیں؟
خلاصہ یہ ہے کہ بنی میناشے کی منتقلی اور آبادکاری ایک پیچیدہ، کثیر الجہتی اور شدید متنازع منصوبہ ہے۔ اگرچہ اسے بظاہر "قدیم یہودی قوم کی واپسی” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں سیاسی، عسکری اور آبادیاتی محرکات نمایاں طور پر کار فرما ہیں۔ ایک طرف یہ منصوبہ یہودی شناخت کے احیاء اور مذہبی ہم آہنگی کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے، تو دوسری جانب اسرائیل اسے سرحدی علاقوں کی آبادی کو مستحکم کرنے اور وہاں اپنے دفاعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ عمل دراصل صہیونی منصوبہ بندی کے اُس وسیع سلسلے کا حصّہ ہے جس کا مقصد خطے میں آبادیاتی توازن کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنا ہے۔
اگرچہ بنی میناشے جیسے چھوٹے اور تاریخی طور پر محروم نسلی گروہ کے لیے یہ اقدام بہتر زندگی اور سماجی تحفّظ کے نئے امکانات فراہم کر سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی آبادکاری خطے کی نسلی، جغرافیائی اور عسکری حساسیت میں براہ راست مداخلت بھی ہے۔ اسی لیے اس عمل کو محض "ہجرت” یا "مذہبی واپسی” قرار دینا کافی نہیں۔ اسے عصرِ حاضر کی ایک جارحانہ آبادیاتی اور جغرافیائی سیاسی حکمتِ عملی کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ جس کے اخلاقی، انسانی اور بین الاقوامی سیاسی اثرات نہایت دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیل اپنے مالی یا جانی نقصان کے اعتراف کے بجائے نئے انسانی ذخائر اور نئی بساط کے ساتھ خطے کو مزید آگ بھڑکانے پر مصر ہے۔ یہ ایک ایسی آبادیاتی جنگ ہے جس کی بنیادیں مذہبی دعوؤں پر رکھی گئی ہیں مگر جس کی اصل منزل سیاسی بالادستی اور توسیعِ صیہونیت ہے۔
(28.11.2025)
Masood M. Khan (Mumbai)




