قومی

آسام میں دو یا زائد شادیاں کرنا قابلِ سزا جرم قرار، نئی قانون سازی منظور

گوہاٹی: بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے جمعرات کو آسام پروہیبیشن آف پولیگیمی بل 2025 منظور کرتے ہوئے ریاست میں کثرتِ ازدواج کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا ہے۔ اس قانون کے تحت پہلی شادی برقرار ہونے کی صورت میں دوسری شادی کرنا اب جرم ہوگا، جس کی سزا سات سے دس سال تک قید اور جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اس اقدام کو ریاست میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی جانب ’’پہلا عملی قدم‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر بی جے پی آئندہ ریاستی انتخابات میں کامیاب ہوئی تو ریاست میں مکمل یکساں سول کوڈ نافذ کر دیا جائے گا۔

نئے قانون کی اہم دفعات
پہلی شادی برقرار ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے پر سات سال قید
شادی کو چھپا کر دوبارہ نکاح کرنے پر دس سال قید اور جرمانہ
شادی کروانے میں معاونت کرنے، حقائق چھپانے یا دانستہ شریک ہونے پر
دو سال تک قید یا بھاری جرمانہ
بار بار جرم کرنے پر ہر بار سزا دوگنی
متاثرہ خواتین کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کی شق بھی شامل

قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندی اُن تمام افراد پر لاگو ہو گی جن کی پہلی شادی قانونی طور پر برقرار ہے اور جنہیں طلاق یا نکاح کے خاتمے کی قانونی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔

البتہ شیڈولڈ ٹرائب اور چھٹے شیڈول کے قبائلی علاقوں کو اس قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ کثرتِ ازدواج پر حکومتی مؤقف وزیراعلیٰ سرما نے کہا:’’آپ کا مذہب اگر اجازت دیتا بھی ہو، ہماری حکومت دوسری یا تیسری شادی کی اجازت نہیں دے گی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ کم عمری کی شادی کی روک تھام، کثرتِ ازدواج پر پابندی، وراثتی قوانین اور ’لیو اِن ریلیشن شپ‘ کی رجسٹریشن جیسے نکات روایتی رسوم سے تعلق نہیں رکھتے، اس لیے یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

مسلم تنظیموں اور دیگر حلقوں کا اعتراض ریاست کے مسلم اور مسیحی حلقوں نے اس قانون کو ’’سیاسی محرکات‘‘ سے بھرپور قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔
آسام کرسچن فورم کے ترجمان ایلن بروکس نے کہا:
’’یہ اقدام مذہبی بنیادوں پر خالص پولرائزیشن ہے، کیونکہ آسام میں مسلمانوں کی تعداد خاصی ہے۔‘‘

ناگون کے رہائشی اشرف علی نے بتایا کہ: ’’آسام میں کثرتِ ازدواج پہلے ہی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ یہ بل صرف انتخابات سے قبل مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔‘‘
ریاست کی 3.7 کروڑ آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 34% اور ہندو آبادی 61.5% ہے۔

پس منظر : بھارت میں عمومی طور پر کثرتِ ازدواج پر پابندی ہے، تاہم مسلم پرسنل لا (شریعت) اپلیکیشن ایکٹ 1937 کے تحت مسلمان مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ہے۔ آسام حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئے قانون سے خواتین کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور معاشرتی استحکام میں بہتری آئے گی، جبکہ ناقدین اسے انتخابی سیاست سے تعبیر کر رہے ہیں۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!